بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 162 از 194
حدیث نمبر: 10340 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , الْمَعْنَى، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَامْشُوا إِلَيْهَا وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے اقامت ہوجائے تو اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10340]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
الحكم: إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 10341 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: وَسُئِلَ عَنِ الْإِنَاءِ يَلَغُ فِيهِ الْكَلْبُ , قََالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " يُغْسَلُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ماردے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے اور پہلی مرتبہ مٹی سے مانجھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10341]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 172، م: 279
الحكم: إسناده صحيح، خ: 172، م: 279
حدیث نمبر: 10342 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ بِثَلَاثٍ , لَسْتُ بِتَارِكِهِنَّ فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَنَوْمٍ عَلَى وَتْرٍ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى" ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ الْحَسَنَ أُوهِمَ، فَجَعَلَ رَكْعَتَيْ الضُّحَى لِلْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں سفروحضر میں انہیں کبھی نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) چاشت کی دو رکعتوں کی بعد میں حسن کو وہ اس کی جگہ " غسل جمعہ " کا ذکر کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10342]
حکم دارالسلام
حسن، خ: 1178، م 721، وهذا إسناد فيه انقطاع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: حسن، خ: 1178، م 721، وهذا إسناد فيه انقطاع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10343 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , أَوْ سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً، لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يُصَلِّي، يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کررہاہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10343]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
حدیث نمبر: 10344 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ كَنْزًا فَإِنَّهُ يُمَثَّلُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ، لَهُ زَبِيبَتَانِ، فَمَا زَالَ يَطْلُبُهُ، يَقُولُ: وَيْلَكَ مَا أَنْتَ؟ قَالَ: يَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ الَّذِي تَرَكْتَ بَعْدَكَ، قَالَ: فَيُلْقِمُهُ يَدَهُ فَيَقْضَمُهَا، ثُمَّ يُتْبِعُهُ بِسَائِرِ جَسَدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن خزانے والے کا خزانہ ایک گنجا سانپ بن جائے گا مالک اس سے بھاگے گا اور وہ اس کے پیچھے پیچھے ہوگا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا خزانہ ہوں واللہ وہ اس کے پیچھے لگا رہے گا یہاں تک کہ ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے منہ میں لقمہ بنالے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10344]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6958، م: 987
الحكم: حديث صحيح، خ: 6958، م: 987
حدیث نمبر: 10345 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا أَوْ مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عمر بھر کے لئے کسی چیز کو وقف کردینا صحیح ہے اور اس شخص کی میراث بن جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10345]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2626، م: 1626
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2626، م: 1626
حدیث نمبر: 10346 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ الْقُرْدُوسِيُّ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الْقُرْدُوسِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَسْتَامُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ صَحْفَتَهَا، وَلِتُنْكَحَ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت کرے یا بیع میں دھوکہ دے یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع کرے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لئے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اس کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10346]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408
حدیث نمبر: 10347 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، خِلَاسٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ," أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَارَءَا فِي دَابَّةٍ، ليسَ لواحدٍ منهما بَيِّنةٌ، فأَمَرَهما رسولُ الله صلي الله عليه وسلم أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ، أَحَبَّا أَوْ كَرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان ایک جانور کے بارے جھگڑا ہوگیا لیکن ان میں سے کسی کے پاس بھی اپنی ملکیت ثابت کرنے کے لئے گواہ نہیں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں خوشی سے یا مجبورا قسم پر قرعہ اندازی کرنے کا حکم دیا (جس کے نام پر قرعہ نکل آئے وہ قسم کھالے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10347]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2674
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2674
حدیث نمبر: 10348 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَبَا رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ حَدَّثَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ فِي صَوْمِهِ نَاسِيًا، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَطْعَمَهُ وَسَقَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص روزے کی حالت میں بھولے سے کچھ کھا پی لے تو وہ اپنے روزے کو مکمل کرلے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10348]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6669، م: 1155
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6669، م: 1155
حدیث نمبر: 10349 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ" ، يَعْنِي الدُّعَاءَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو دعوت پر پلایا جائے اسے دعوت ضرور قبول کرنی چاہئے اگر روزہ سے ہو تو ان کے لئے دعاء کردے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10349]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1150
الحكم: إسناده صحيح، م: 1150
حدیث نمبر: 10350 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ ، قََالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ جَالِسًا، قََالَ: فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، فَقِيلَ لَهُ: هَذَا أَكْثَرُ عَامِرِيٍّ نَادَى مَالًا، فَقَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ رُدُّوهُ إِلَيَّ، فَرَدُّوهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّكَ ذُو مَالٍ كَثِيرٍ، فَقَالَ الْعَامِرِيُّ: إِي وَاللَّهِ، إِنَّ لِي مِائَةً حُمْرًا وَمِائَةً أُدْمًا، حَتَّى عَدَّ مِنْ أَلْوَانِ الْإِبِلِ، وَأَفْنَانِ الرَّقِيقِ، وَرِبَاطِ الْخَيْلِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِيَّاكَ وَأَخْفَافَ الْإِبِلِ، وَأَظْلَافَ الْغَنَمِ، يُرَدِّدُ ذَلِكَ عَلَيْهِ، حَتَّى جَعَلَ لَوْنُ الْعَامِرِيِّ يَتَغَيَّرُ أَوْ يَتَلَوَّنُ، فَقَالَ: مَا ذَاكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ لَا يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا رِسْلُهَا وَنَجْدَتُهَا؟ قَالَ:" فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا، فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ، وَأَكْبَرِهِ وَأَسْمَنِهِ وَأَسَرِّهِ ثُمَّ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ فِيهِ بِأَخْفَافِهَا، إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَى سَبِيلَهُ، وَإِذَا كَانَتْ لَهُ بَقَرٌ لَا يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا، فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ وَأَكْبَرِهِ وَأَسْمَنِهِ وَأَسَرِّهِ، ثُمَّ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ فِيهِ كُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِهَا، وَتَنْطَحُهُ كُلُّ ذَاتِ قَرْنٍ بِقَرْنِهَا، إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ حَتَّى يَرَى سَبِيلَهُ، وَإِذَا كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ لَا يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا، فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ وَأَكْبَرِهِ وَأَسْمَنِهِ وَأَسَرِّهِ ثُمَّ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ كُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِهَا، وَتَنْطَحُهُ كُلُّ ذَاتِ قَرْنٍ بِقَرْنِهَا يَعْنِي لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ , وَلَا عَضْبَاءُ , إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ أُولَاهَا، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ" ، فَقَالَ الْعَامِرِيُّ: وَمَا حَقُّ الْإِبِلِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: أَنْ تُعْطِيَ الْكَرِيمَةَ، وَتَمْنَحَ الْغَزِيرَةَ، وَتُفْقِرَ الظَّهْرَ، وَتُسْقِيَ اللَّبَنَ، وَتُطْرِقَ الْفَحْلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعمر غدانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ بنو عامر کا ایک آدمی وہاں سے گذرا لوگوں نے انہیں بتایا کہ یہ شخص تمام بنوعمر میں سب سے زیادہ مالدار ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ لوگ اسے بلا لائے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم بڑے مالدار ہو؟ اس نے کہا بالکل میرے پاس سو سرخ اونٹ اور سو گندمی اونٹ ہیں اس طرح اس نے اونٹوں کے مختلف رنگ، غلاموں کی تعداد اور گھوڑوں کے اصطبل گنوانا شروع کردئیے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اونٹوں اور بکریوں کے کھروں سے اپنے آپ کو بچانا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی کہ اس کا رنگ بدل گیا اور وہ کہنے لگا کہ اے ابوہریرہ! اس سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا اور وہ کہنے لگا کہ اے ابوہریرہ! اس سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ آدمی جو اونٹوں کا مالک ہو لیکن وہ تنگی اور آسانی میں ان کا حق زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا چنانچہ وہ اسے کھروں سے روند ڈالیں گے جوں ہی آخری اونٹ گذرے گا پہلے والا دوبارہ آجائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اور جس شخص کے پاس گائیں ہوں اور وہ تنگی اور آسانی میں ان کا حق زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا اور ہر کھر والی گائے اسے اپنے کھر سے اور ہر سینگ والی گائے اسے اپنے سینگ سے روندے اور چھیل دے گی جوں ہی آخری گائے گذرے گی پہلی گائے دوبارہ واپس یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو بکریوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مندحالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا پھر وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی ان میں سے کوئی بکری مڑے ہوئے سینگوں والی یا بےسینگ نہ ہوگی جوں ہی آخری بکری اسے روندتے ہوئے گذرے گی پہلے والی دوبارہ آجائے گی تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اس عامری نے پوچھا اسے ابوہریرہ! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا عمدہ اونٹ کسی کو دینا دودھ والا جانور ہدیہ کرنا پشت پر سوار کرانا دودھ پلانا اور مذکر کو مؤنث کے پاس جانے کی اجازت دینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10350]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1402، 2371، م: 987، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عمر
الحكم: حديث صحيح، خ: 1402، 2371، م: 987، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عمر
حدیث نمبر: 10351 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10351]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 10352 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، خِلَاسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ حَدِيثٍ ذَكَرَهُ , عَنْ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي عُمَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10352]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10353 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ , قََالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُرْسِلَ عَلَى أَيُّوبَ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَلْتَقِطُهُ، فَقَالَ: أَلَمْ أُغْنِكَ يَا أَيُّوبُ؟ فَقَالَ: يَا رَبِّ، وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ، أَوْ قَالَ: مِنْ فَضْلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوب (علیہ السلام) پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب (علیہ السلام) انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! آپ کے فضل سے کون مستغنی رہ سکتا ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10353]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 279
الحكم: إسناده صحيح، خ: 279
حدیث نمبر: 10354 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ، وَالْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھنبی بھی من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور اس کا پانی زہر کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10354]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 10355 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ، فَمَاتَتْ؟ فَقَالَ: " إِنْ كَانَ جَامِدًا، فَخُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَكُلُوا مَا بَقِيَ، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا، فَلَا تَأْكُلُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مسئلہ پوچھا کہ اگر چوہا گھی میں مرجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گراہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی کو استعمال کرلو اور اگر گھی مائع کی شکل میں ہو تو اسے مت استعمال کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10355]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وأن معمرا قد أخطأ فى إسناده ومتنه، خ: 5538
الحكم: إسناده صحيح، وأن معمرا قد أخطأ فى إسناده ومتنه، خ: 5538
حدیث نمبر: 10356 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا فَرَعَ، وَلَا عَتِيرَةَ" ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَالْفَرَعُ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَذْبَحُونَ أَوَّلَ نِتَاجٍ يَكُونُ لَهُمْ، وَالْعَتِيرَةُ: ذَبِيحَةُ رَجَبٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسلام میں ماہ رجب میں قربانی کرنے کی کوئی حیثیت نہیں اسی طرح جانور کا سب سے پہلا بچہ بتوں کے نام قربان کرنے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10356]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5474، م: 1976
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5474، م: 1976
حدیث نمبر: 10357 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، ضَمْضَمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ ضَمْضَمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ" ، قُلْتُ لِيَحْيَى: مَا يَعْنِي بِالْأَسْوَدَيْنِ؟ قَالَ: الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی دو کالی چیزوں کو مارا جاسکتا ہے یحییٰ نے دو کالی چیزوں کی وضاحت سانپ اور بچھو سے کی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10357]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10358 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ عَرَضَ لَهُ شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْأَلَهُ فَلْيَقْبَلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ بن مانگے کچھ مال و دولت عطاء فرما دے تو اسے قبول کرلینا چاہئے کیونکہ یہ زرق ہے جو اللہ نے اس کے پاس بھیجا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10358]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عبد الملك: فلم نتبين من هو
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عبد الملك: فلم نتبين من هو
حدیث نمبر: 10359 مسند احمد
بَهْزٌ ، عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، خِلَاسٌ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قََالَ: سُئِلَ قَتَادَةُ ، عَنْ رَجُلٍ صَلَّى رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ طَلَعَتْ الشَّمْسُ، قََالَ: عَفَّانُ ثُمَّ طَلَعَ قَرْنُ الشَّمْسِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي خِلَاسٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُتِمُّ صَلَاتَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قتادہ رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر ایک آدمی نے فجر کی ایک رکعت ہی پڑھی تھی کہ سورج نکل آیا تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے اپنی سند سے یہ نقل کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایسا آدمی اپنی نماز مکمل کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10359]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 556، م: 608
الحكم: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608