بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 142 از 194
حدیث نمبر: 9940 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٌ ، أَبَا عُثْمَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قََالَ: كَتَبَ إِلَيَّ مَنْصُورٌ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَاحِبَ هَذِهِ الْحُجْرَةِ، يَقُولُ: " لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے صادق و مصدوق صاحب الحجرۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رحمت اسی شخص کو کھینچتی جاتی ہے جو خود شقی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9940]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9941 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ، وَالْعُمْرَتَانِ تُكَفِّرَانِ مَا بَيْنَهُمَا مِنَ الذُّنُوبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حج مبرور کی جزاء جنت کے علاوہ کچھ نہیں اور دو عمرے اپنے درمیان گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9941]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1773، م: 1349
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1773، م: 1349
حدیث نمبر: 9942 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور موذنین کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9942]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9943 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ، وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنْ جُهِلَ عَلَيْهِ، فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کا کسی دن روزہ ہو تو اسے چاہئے کہ بےتکلف نہ ہو اور جہالت کا مظاہرہ بھی نہ کرے اگر کوئی شخص اس کے سامنے جہالت دکھائے تو اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9943]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1511
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1511
حدیث نمبر: 9944 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9944]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9945 مسند احمد
حَسيَنٌ ، شَيْبَانُ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسيَنٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَنَحْنُ فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قََالَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو الْقَاسِمِ صَاحِبُ هَذِهِ الْحُجْرَةِ: " لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے صادق و مصدوق صاحب الحجرۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رحمت اسی شخص کو کھینچتی جاتی ہے جو خود شقی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9945]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9946 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ: قََالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" ، قَالَ بَهْزٌ:" يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کی منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9946]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 9947 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سَلِيمٌ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَبَهْزٌ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَبَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا، فَلَا يَرْفُثْ، وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنْ أَحَدٌ شَتَمَهُ أَوْ فَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ" ، قَالَ بَهْزٌ:" فَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ , فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ"، وَكَذَا قَالَ عَفَّانُ:" أَوْ قَاتَلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9947]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
حدیث نمبر: 9948 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعُمْرَةُ تُكَفِّرُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حج مبرور کی جزاء جنت کے علاوہ کچھ نہیں اور دو عمرے اپنے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9948]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1773، م: 1349
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1773، م: 1349
حدیث نمبر: 9949 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَلِيمٌ ، سَعِيدٌ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّوْمُ جُنَّةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9949]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
حدیث نمبر: 9950 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةُ ، أَبِي الضَّحَّاكِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي الضَّحَّاكِ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً، يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا شَجَرَةَ الْخُلْدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے تب بھی اسے قطع نہ کرسکے وہی شجرہ خلد ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9950]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: « شجرة الخلد » خ: 4881، م: 2826، وهذا إسناد ضعيف، أبو الضحااك ، مجهول
الحكم: حديث صحيح دون قوله: « شجرة الخلد » خ: 4881، م: 2826، وهذا إسناد ضعيف، أبو الضحااك ، مجهول
حدیث نمبر: 9951 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9951]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413
حدیث نمبر: 9952 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9952]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 9953 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے اسی طرح نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک بھی نماز کی ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9953]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 825
الحكم: إسناده صحيح، م: 825
حدیث نمبر: 9954 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَعَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْس فَقَدْ أَدْرَكَ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْر" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9954]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 556، م: 608
الحكم: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608
حدیث نمبر: 9955 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ" . وَذَكَرَ" أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِّهَا، فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اور فرمایا ایک مرتبہ جہنم کی آگ نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کی اللہ نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی ایک مرتبہ سردی میں اور ایک مرتبہ گرمی میں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9955]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 533، 537، م: 615، 617
الحكم: إسناده صحيح، خ: 533، 537، م: 615، 617
حدیث نمبر: 9956 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9956]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 533، م: 615
الحكم: إسناده صحيح، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 9957 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِت ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِت ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ وَلَا يَبْأَسُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ، إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنت میں داخل ہوجائے گا وہ نازونعم میں رہے گا پریشان نہ ہوگا اس کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے اور اس کی جوانی فنا نہ ہوگی اور جنت میں ایسی چیزیں ہوں گی جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذرا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9957]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3244، م: 2836
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3244، م: 2836
حدیث نمبر: 9958 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى، فَأَرْصَدَ اللَّهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا، فَقَالَ لَهُ: أَيْنَ تَذْهَبُ؟ قَالَ: أَزُورُ أَخًا لِي فِي اللَّهِ فِي قَرْيَةِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: هَلْ لَهُ عَلَيْكَ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا؟ قَالَ: لَا , وَلَكِنَّنِي أَحْبَبْتُهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ، أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی اپنے دینی بھائی سے ملاقات کے لئے جو دوسری بستی میں رہتا تھا روانہ ہوا اللہ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو بٹھا دیا جب وہ فرشتے کے پاس سے گذرا تو فرشتے نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ فلاں آدمی سے ملاقات کے لئے جارہاہوں فرشتے نے پوچھا کیا تم دونوں کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا کہ کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے جسے تم پال رہے ہو؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا پھر تم اس کے پاس کیوں جارہے ہو؟ اس نے کہا کہ میں اس سے اللہ کی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں فرشتے نے کہا کہ میں اللہ کے پاس سے تیری طرف قاصد بن کر آیا ہوں کہ اس کے ساتھ محبت کرنے کی وجہ سے اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9958]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2567
الحكم: إسناده صحيح، م: 2567
حدیث نمبر: 9959 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَعَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، أَوْ يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع کرے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9959]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، م: 1413
الحكم: إسناداه صحيحان، م: 1413