بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 152 از 194
حدیث نمبر: 10140 مسند احمد
يَحْيَى ، الْأَوْزَاعِيِّ ، أَبُو كَثِيرٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَمْرُ فِي هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ، وَالْعِنَبَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے ایک کھجور اور ایک انگور۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10140]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1985
الحكم: إسناده صحيح، م: 1985
حدیث نمبر: 10141 مسند احمد
يَحْيَى ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، سُلَيْمَانُ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , الْمَعْنَى، عَنْ سُفْيَانَ ، قََالَ: يَحْيَى، قََالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ، كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِذَا لَمْ يَشْتَهِهِ تَرَكَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر تمنا ہوتی تو کھالیتے اور اگر تمنا نہ ہوتی تو سکوت فرما لیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10141]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5409، م: 2064
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5409، م: 2064
حدیث نمبر: 10142 مسند احمد
يَحْيَى ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي الْقَبْرِ، فَلَهُ قِيرَاطَان" ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , مَا الْقِيرَاطُ؟ قَالَ: مِثْلُ أُحُد.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہا اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا قیراط سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا احد پہاڑ کے برابر۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10142]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945
حدیث نمبر: 10143 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِرَاءٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10143]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10144 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلْيَخْرُجْنَ تَفِلَات" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بندیوں کو مسجد میں آنے سے نہ روکا کرو، البتہ انہیں چاہئے کہ وہ بناؤ سنگھار کے بغیر عام حالت میں ہی آیا کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10144]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10145 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْك" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا اور روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10145]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7492، م: 1151
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10146 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی جانب سے اجازت تصور کی جائے گی اور اگر وہ انکار کردے تو اس پر زبردستی کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10146]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10147 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10147]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2355، م: 1710، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو، وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2355، م: 1710، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو، وهو متابع
حدیث نمبر: 10148 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ: أَنْ يَشْتَمِلَ أَحَدُكُمْ الصَّمَّاءَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ , أَوَيَحْتَبِيَ بِثَوْبٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک سودے پر دوسرے سودے کرنے اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرا سا بھی کپڑا نہ اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10148]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2145، م: 1511
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2145، م: 1511
حدیث نمبر: 10149 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10149]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 734، م: 414
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 734، م: 414
حدیث نمبر: 10150 مسند احمد
يَحْيَى ، إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، قََالَ: حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قََالَ: أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ نُسَلِّمُ عَلَيْهِ، قََالَ: قُلْنَا: حَدِّثْنَا، فَقَالَ: صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَلَاثَ سِنِينَ مَا كُنْتُ سَنَوَاتٍ قَطُّ أَعْقَلَ مِنِّي فِيهِنَّ، وَلَا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَعِيَ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِنَّ، وَإِنِّي رَأَيْتُهُ يَقُولُ بِيَدِهِ: " قَرِيبٌ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نِعَالُهُمْ الشَّعْرُ، وَتُقَاتِلُونَ قَوْمًا صِغَارَ الْأَعْيُنِ حُمْرَ الْوُجُوهِ، كَأَنَّهَا الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سلام کے لئے حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ کی کوئی حدیث سنائیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رفاقت میں تین سال رہا جماعت صحابہ میں ان تین سالوں کے درمیان کوئی حفظ حدیث کا مجھ سے زیادہ شیدائی کوئی نہیں رہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے قریب تم لوگ ایک ایسی قوم سے قتال کروگے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور تم ایک ایسی قوم سے قتال کروگے جن کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے سرخ ہوں گے یوں محسوس ہوتا ہوگا کہ ان کے چہرے چپٹی کمانیں ہیں۔ واللہ تم میں سے کوئی آدمی رسی لے اور اس میں لکڑیاں باندھ کر اپنی پیٹھ پر لادے اور اس کی کمائی خود بھی کھائے اور صدقہ بھی کرے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی کے پاس جا کر سوال کرے اس کی مرضی ہے کہ اسے دے یا نہ دے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقہ میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں۔ اور روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10150]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3591، م: 2912
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3591، م: 2912
حدیث نمبر: 10151 مسند احمد
وَاللَّهِ لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيَبِيعَهُ، وَيَسْتَغْنِيَ بِهِ، وَيَتَصَدَّقَ مِنْهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا فَيَسْأَلَهُ، يُؤْتِيهِ أَوْ يَمْنَعُهُ، وَذَلِكَ أَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ .
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1470، م: 1042
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1470، م: 1042
حدیث نمبر: 10152 مسند احمد
وَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ .
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10153 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . وَابْنُ جَعْفَرٍ , قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10153]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6750 ، م: 1458
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6750 ، م: 1458
حدیث نمبر: 10154 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، وَإِسْمَاعِيلُ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ الْهِفَّانِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ . وَإِسْمَاعِيلُ , قََالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ الْهِفَّانِيِّ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ الْعَقْرَبِ، وَالْحَيَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی " دو کالی چیزوں یعنی سانپ اور بچھو کو " مارا جاسکتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10154]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10155 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، الْأَغَرِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ، تَزِيدُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10155]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 648، م: 649
الحكم: إسناده صحيح، خ: 648، م: 649
حدیث نمبر: 10156 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَأَبُو نُعَيْمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِيهِ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ مَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی جان اس وقت تک لٹکی رہتی ہے جب تک کہ اس پر قرض موجود ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10156]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10157 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيهِ: عَنْ أَبِيهِ , مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10157]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عمر لم يسمع من ابي هريرة، انظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عمر لم يسمع من ابي هريرة، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 10158 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس وقت تک قتال کرتا رہوں گا جب تک وہ لاالہ الا اللہ نہ کہہ لیں جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں تو انہوں نے اپنی جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا الاّ یہ کہ اس کلمہ کا کوئی حق ہو اور ان کا حساب کتاب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10158]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 21
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 21
حدیث نمبر: 10159 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، صَالِحٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ" , فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10159]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، انظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، انظر ما قبله