بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 150 از 194
حدیث نمبر: 10100 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فجر اور عشاء کی نمازیں منافقین پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہیں اور اگر انہیں ان دونوں کا ثواب پتہ چل جائے تو وہ ان میں ضرور شرکت کریں اگرچہ انہیں گھٹنوں کے بل ہی آنا پڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10100]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 657، م: 651
الحكم: إسناده صحيح، خ: 657، م: 651
حدیث نمبر: 10101 مسند احمد
وَكِيعٌ ، جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَتِي فَيَجْمَعُوا حُزَمَ الْحَطَبِ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ اپنے نوجوانوں کو حکم دوں کہ لکڑیوں کے گٹھے جمع کریں، پھر ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کردے پھر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز باجماعت میں شرکت نہیں کرتے اور لکڑیوں کے گٹھوں سے ان کے گھروں میں آگ لگادوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10101]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2420، م: 651
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2420، م: 651
حدیث نمبر: 10102 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ " يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: الم تَنْزِيلُ , وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن نماز فجر میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10102]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1068، م: 880
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1068، م: 880
حدیث نمبر: 10103 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , الْمَعْنَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَة , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَيْتُمْ الصَّلَاة، فَأْتُوهَا بِالْوَقَارِ وَالسَّكِينَةِ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے آیا کرو تو اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو، جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10103]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 908، م: 602
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 10104 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " أَمَا يَخَافُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ، أَنْ يُحَوَّلَ رَأْسُهُ رَأْسَ حِمَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے جیسا بنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10104]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 691، م: 427
الحكم: إسناده صحيح، خ: 691، م: 427
حدیث نمبر: 10105 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، مَوْلًى لِقُرَيْشٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يُحَدِّثُ مُعَاوِيَةَ، قََالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ حَتَّى يَحْتَزِمَ" . قَال: وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ" , قَالَ شُعْبَةُ: قَالَ مَرَّةً: وَيُعْلَمَ مَا هِيَ. قَالَ:" وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ، حَتَّى تُحْرَزَ مِنْ كُلِّ عَارِضٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کمر کسنے سے قبل نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تقسیم سے قبل مال غنیمت کی خریدوفروخت منع فرمایا ہے۔ اور یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر آفت سے محفوظ ہونے سے قبل پھل کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10105]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 10106 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمام مسلمانوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور تم میں سب سے بہترین وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10106]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10107 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ كُلِّهِ فِي مَالِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ، اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی کسی غلام میں شراکت ہو اور وہ اپنے حصے کے بقدر اسے آزاد کر دے تو اگر وہ مالدار ہے تو اس کی مکمل جان خلاصی کرانا اس کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ مالدار نہ ہو تو بقیہ قیمت کی ادائیگی کے لئے غلام سے اس طرح کوئی محنت مزدوری کروائی جائے کہ اس پر بوجھ نہ بنے (اور بقیہ قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ مکمل آزاد ہوجائے گا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10107]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2492، م: 1503
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2492، م: 1503
حدیث نمبر: 10108 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، صَالِحٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قََالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میت کو غسل دے اسے چاہئے کہ خود بھی غسل کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10108]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات غير صالح، وهو صدوق كان قد اختلط ، وقد اختلف في رفع الحديث ووقفه
الحكم: رجاله ثقات غير صالح، وهو صدوق كان قد اختلط ، وقد اختلف في رفع الحديث ووقفه
حدیث نمبر: 10109 مسند احمد
يَحْيَى ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى , وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَشَبَّهُ بِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10109]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، ورجاله ثقات
الحكم: إسناده صحيح، ورجاله ثقات
حدیث نمبر: 10110 مسند احمد
يَحْيَى ، زَكَرِيَّا ، عَامِرٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ زَكَرِيَّا ، قََالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَةٍ، إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَيُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرِّ، إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ وَيَرْكَبُ نَفَقَتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر جانور کو بطور رہن کے کسی کے پاس رکھوایا جائے تو اس کا چارہ مرتہن کے ذمے واجب ہوگا اور دودھ دینے والے جانور کا دودھ پیا جاسکتا ہے البتہ جو شخص اس کا دودھ پیے گا اس کا خرچہ بھی اس کے ذمے ہوگا اور اس پر سواری بھی کی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10110]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2512
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2512
حدیث نمبر: 10111 مسند احمد
يَحْيَى ، عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ ، الْحَسَنُ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: الْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں نے انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10111]
حکم دارالسلام
حديث حسن، خ: 1178، م: 721، فيه انقطاع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: حديث حسن، خ: 1178، م: 721، فيه انقطاع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10112 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے " سوائے مسجد حرام کے " ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10112]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1190، م: 1394
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1190، م: 1394
حدیث نمبر: 10113 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، سَلْمَانُ الْأَغَرُّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، قََالَ: حَدَّثَنَا سَلْمَانُ الْأَغَرُّ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10113]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، فهو كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، فهو كسابقه
حدیث نمبر: 10114 مسند احمد
يَحْيَى ، عَوْفٌ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَالْحَسَنِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٌ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَالْحَسَنِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ , وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ امام کے بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہیں اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10114]
حکم دارالسلام
إسناد الموصول منه صحيح، خ: 1203، م: 422، ورواية الحسن، مرسلة
الحكم: إسناد الموصول منه صحيح، خ: 1203، م: 422، ورواية الحسن، مرسلة
حدیث نمبر: 10115 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ هِشَامٍ ، قََالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ، إِلَّا كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص شکاری کتے اور کھیت یا ریوڑ کی حفاظت کے علاوہ شوقیہ طور پر کتے پالے اس کے ثواب میں سے روزانہ ایک قیراط کے برابر کمی ہوتی رہے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10115]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2322، م: 1575
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2322، م: 1575
حدیث نمبر: 10116 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى ، ضَمْضَمٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قََالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى ، قََالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ: الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی " دو کالی چیزوں یعنی سانپ اور بچھو کو " مارا جاسکتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10116]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10117 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے، اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے، اسی طرح جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کرے اس کے گزشتہ گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10117]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1901، م: 760
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1901، م: 760
حدیث نمبر: 10118 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، فَذَكَرَا مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا:" مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10118]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 37، م: 760
الحكم: إسناده صحيح، خ: 37، م: 760
حدیث نمبر: 10119 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا أَعْلَمُ شَكَّ يَحْيَى، قَالَ: " دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَدِينَارٌ فِي الْمَسَاكِينِ، وَدِينَارٌ فِي رَقَبَةٍ، وَدِينَارٌ فِي أَهْلِكَ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الدِّينَارُ الَّذِي تُنْفِقُهُ عَلَى أَهْلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ دینار جو تم اللہ کے راستہ میں خرچ کرو اور وہ دینار جو مساکین میں تقسیم کرو اور وہ دینار جس سے کسی غلام کو آزاد کراؤ اور وہ دینار جو اپنے اہل خانہ پر خرچ کرو ان میں سب سے زیادہ ثواب اس دینار پر ہوگا جو تم اپنے اہل خانہ پر خرچ کروگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10119]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 995
الحكم: إسناده صحيح، م: 995