بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 56 از 194
حدیث نمبر: 8219 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَتْ الْمَلَائِكَةُ: رَبِّ ذَاكَ عَبْدُكَ يُرِيدُ أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً، وَهُوَ أَبْصَرُ بِهِ، فَقَالَ: " ارْقُبُوهُ، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِمِثْلِهَا، وَإِنْ تَرَكَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً، إِنَّمَا تَرَكَهَا مِنْ جَرَّايَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فرشتے عرض کرتے ہیں پروردگار آپ کا فلاں بندہ گناہ کرنے کا ارادہ کر رہا ہے اللہ باوجودیکہ اسے خوب دیکھ رہا ہوتا ہے فرشتے سے فرماتا ہے کہ اس کی نگرانی کرتے رہوا گر یہ گناہ کر بیٹھے تو صرف اتنا ہی لکھنا جتنا اس نے کیا اور اگر گناہ چھوڑ دے تو اس کے لئے نیکی لکھ دینا کیونکہ اس نے گناہ میری وجہ سے چھوڑا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8219]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7501، م: 129
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7501، م: 129
حدیث نمبر: 8220 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كَذَّبَنِي عَبْدِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ: فَلَنْ يُعِيدَنَا كَمَا بَدَأَنَا، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ يَقُولُ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا بندہ میری ہی تکذیب کرتا ہے حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے اور مجھے ہی برا بھلا کہتا ہے حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تکذیب تو اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے ہمیں جس طرح پیدا کیا ہے دوبارہ اس طرح کبھی پیدا نہیں کرے گا اور برا بھلا کہنا اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے حالانکہ میں تو وہ صمد (بےنیاز) ہوں جس نے کسی کو جنا اور نہ اسے کسی نے جنم دیا اور نہ ہی کوئی میرا ہمسر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8220]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 4975
الحكم: إسناده صحيح، م: 4975
حدیث نمبر: 8221 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْرِدُوا مِنَ الْحَرِّ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہٰذا نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8221]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 533، م: 615
الحكم: إسناده صحيح، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 8222 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو حدث لاحق ہوجائے اللہ اس کی نماز قبول نہیں فرماتا یہاں تک کہ وضو کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8222]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 135، م: 225
الحكم: إسناده صحيح، خ: 135، م: 225
حدیث نمبر: 8223 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے پکارا جائے تو اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8223]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
الحكم: إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 8224 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَضْحَكُ اللَّهُ لِرَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، كِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ"، قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" يَقْتُلُ هَذَا فَيَلِجُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْآخَرِ فَيَهْدِيهِ إِلَى الْإِسْلَامِ، ثُمَّ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو ان دو آدمیوں پر ہنسی آتی ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو شہید کردیا ہو لیکن پھر دونوں ہی جنت میں داخل ہوجائیں لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کس طرح؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی تو شہید ہو کر جنت میں داخل ہوگیا پھر اللہ نے دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر اسے بھی اسلام کی طرف ہدایت دے دی اور وہ بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کر کے شہید ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8224]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2826، م: 1890
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2826، م: 1890
حدیث نمبر: 8225 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبِعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے اور کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیج دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8225]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413
حدیث نمبر: 8226 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ، وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلَ فِي مِعًى وَاحِدٍ" .
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5396، م: 2062
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5396، م: 2062
حدیث نمبر: 8227 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْت أَبِي يَقُولُ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ: يَا أَبَا بَكْرٍ أُفَصِّلُ، يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ، كَأَنَّهُ أَعْجَبَهُ حُسْنُ هَذَا الْحَدِيثِ وَجَوْدَتُهُ. قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8227]
حدیث نمبر: 8228 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ يُسَمَّ خَضِرًا إِلَّا أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ فَإِذَا هِيَ تَهْتَزُّ خَضْرَاءَ" . الْفَرْوَةُ: الْحَشِيشُ الْأَبْيَضُ وَمَا أَشْبِهُهُ. قَالَ عَبْد اللَّهِ: أَظُنُّ هَذَا تَفْسِيرًا مِنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت خضر علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ انہیں خضر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک سفید گھاس پر بیٹھے تو وہ نیچے سے سبز رنگ میں تبدیل ہو کر لہلہانے لگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8228]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3402
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3402
حدیث نمبر: 8229 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى الْمُسْبِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ ٹخنوں سے نیچے شلوار لٹکانے والے پر نظر رحم نہیں فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8229]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وهو بلفظ آخر فى البخاري: 5788
الحكم: إسناده صحيح، وهو بلفظ آخر فى البخاري: 5788
حدیث نمبر: 8230 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ سورة البقرة آية 58، فَبَدَّلُوا، فَدَخَلُوا الْبَابَ يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ، وَقَالُوا: حَبَّةٌ فِي شَعْرَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد باری تعالیٰ ادخلوا الباب سجدا کی تفسیر میں فرمایا کہ بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ اپنی سرینوں کے بل گھستے ہوئے اس شہر میں داخل ہوں اور یوں کہیں حطۃ (الہٰی معاف فرما) لیکن انہوں نے اس لفظ کو بدل دیا اور کہنے لگے حبۃ فی شعرۃ (جو کے دانے درکار ہیں) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8230]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3403، م: 3015
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3403، م: 3015
حدیث نمبر: 8231 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ، فَلْيَضْطَجِعْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص رات کو بیدار ہو اور اس کی زبان پر قرآن نہ چڑھ رہاہو اور اسے یہ پتہ ہی نہ چل رہا ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے (نیند کا اتنا اثر ہو) تو اسے دوبارہ لیٹ جانا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8231]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 787
الحكم: إسناده صحيح، م: 787
حدیث نمبر: 8232 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُلُ ابْنُ آدَمَ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ، إِنِّي أَنَا الدَّهْرُ، أُرْسِلُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ ابن آدم یہ نہ کہے کہ زمانے کی تباہی کیونکہ میں ہی زمانے کو پیدا کرنے والا ہوں میں ہی اس کے رات دن کو الٹ پلٹ کرتا ہوں اور جب چاہوں گا ان دونوں کو اپنے پاس کھینچ لوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8232]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6181، م: 2246
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6181، م: 2246
حدیث نمبر: 8233 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعِمَّا لِلْمَمْلُوكِ أَنْ يُتَوَفَّى بِحُسْنِ عِبَادَةِ اللَّهِ وَصَحَابَةِ سَيِّدِهِ، نِعِمَّا لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی غلام کے لئے کیا ہی خوب ہے کہ اللہ اسے اپنی بہترین عبادت اور اس کے آقا کی اطاعت کے ساتھ موت دے دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8233]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1667
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1667
حدیث نمبر: 8234 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ الصَّلَاةِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ، فَإِنَّهُ مُنَاجٍ لِلَّهِ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا، وَلَكِنْ لِيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ فَيَدْفِنُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو تو سامنے کی طرف نہ تھوکے کیونکہ جب تک وہ اپنے مصلی پر رہتا ہے اللہ سے مناجات کرتا رہتا ہے اور نہ ہی دائیں جانب تھوکے کیونکہ اس کی دائیں جانب فرشتہ ہوتا ہے بلکہ اسے بائیں جانب یا پاؤں کی طرف تھوکنا چاہئے اور بعد میں اسے مٹی میں ملا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8234]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 416، م: 550
الحكم: إسناده صحيح، خ: 416، م: 550
حدیث نمبر: 8235 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قُلْتَ لِلنَّاسِ: أَنْصِتُوا، وَهُمْ يَتَكَلَّمُونَ، فَقَدْ أَلْغَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام جب وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8235]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
الحكم: إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
حدیث نمبر: 8236 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِالْمُؤْمِنِينَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَادْعُونِي، فَأَنَا وَلِيُّهُ، وَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ مَالًا فَلْيَرِثْ مَالَهُ عُصْبَتُهُ مَنْ كَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں کتاب اللہ کے مطابق تمام مسلمانوں پر ان کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں لہٰذا تم میں سے جو شخص قرض یا بچے چھوڑ کر جائے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8236]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6731، م: 1619
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6731، م: 1619
حدیث نمبر: 8237 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، وَارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، وَارْزُقْنِي، لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ، إِنَّهُ يَفْعَلُ مَا شَاءَ لَا مُكْرِهَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب دعا کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرما دے مجھ پر رحم فرما دے یا مجھے رزق دے دے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8237]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7477، م: 2679
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7477، م: 2679
حدیث نمبر: 8238 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَقَالَ لِقَوْمِهِ: لَا يَتَّبِعْنِي رَجُلٌ قَدْ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ، وَلَا أَحَدٌ قَدْ بَنَى بُنْيَانًا وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا، وَلَا أَحَدٌ قَدْ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ أَوْلَادَهَا. فَغَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ: أَنْتِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ، اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا، فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا، فَأَقْبَلَتْ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ، فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَ، فَقَالَ: فِيكُمْ غُلُولٌ، فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ، فَبَايَعُوهُ، فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ: فِيكُمْ الْغُلُولُ، فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ، قال: فَبَايَعَتْهُ قَبِيلَتُهُ، فَلَصِقَ بِيَدِ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ: فِيكُمْ الْغُلُولُ، أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ، فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ، فَأَقْبَلَتْ النَّارُ فَأَكَلَتْهُ، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا، فَطَيَّبَهَا لَنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک نبی جہاد کے لئے روانہ ہوئے انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ وہ آدمی نہ جائے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا ہو ابھی تک رخصتی نہ ہوئی ہو اور وہ اب رخصتی چاہتا ہو یا وہ آدمی جس نے کوئی عمارت تعمیر کی ہو مگر ابھی تک اس کی چھت نہ ڈالی ہو یا وہ آدمی جس نے بکریاں یا امید کی اونٹنیاں خریدی ہو اور وہ ان کے یہاں بچے پیدا ہونے کے منتظر ہو یہ کہہ کر وہ روانہ ہوئے اور نماز عصر کے وقت یا اس کے قریب قریب اس بستی میں پہنچے (جہاں انہوں نے دشمن سے جنگ کرنا تھی) انہوں نے سورج سے کہا کہ تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی اللہ کے حکم کا پابند ہوں اے اللہ اسے کچھ دیر کے لئے اپنی جگہ پر محبوس فرما دے چنانچہ سورج اپنی جگہ ٹھہرا رہا یہاں تک کہ اللہ نے انہیں فتح سے ہمکنار کردیا انہوں نے مال غنیمت اکٹھا کیا آگ اسے جلانے کے لئے آئی لیکن اسے جلایا نہیں پیغمبر وقت نے فرمایا تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے اس لئے ہر قبیلے کا ایک ایک آدمی آ کر میرے ہاتھ پر بیعت کرے سب لوگوں نے بیعت کی تو ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چپک گئے انہوں نے فرمایا کہ تم نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے چنانچہ انہوں نے گائے کی سری کے برابر سونا نکالا اور اسے مال غنیمت میں ڈال دیا جو ایک چبوترے پر جمع تھا آگ آئی اور اسے کھا گئی ہم سے پہلے کسی کے لئے مال غنیمت کو استعمال کرنا حلال نہ تھا یہ تو اللہ نے ہماری کمزوری اور عاجزی دیکھی تو ہمارے لئے اسے حلال کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8238]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3124، م: 1747
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3124، م: 1747