وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ الصَّلَاةِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ، فَإِنَّهُ مُنَاجٍ لِلَّهِ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا، وَلَكِنْ لِيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ فَيَدْفِنُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو تو سامنے کی طرف نہ تھوکے کیونکہ جب تک وہ اپنے مصلی پر رہتا ہے اللہ سے مناجات کرتا رہتا ہے اور نہ ہی دائیں جانب تھوکے کیونکہ اس کی دائیں جانب فرشتہ ہوتا ہے بلکہ اسے بائیں جانب یا پاؤں کی طرف تھوکنا چاہئے اور بعد میں اسے مٹی میں ملا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8234]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 416، م: 550
الحكم: إسناده صحيح، خ: 416، م: 550