وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كَذَّبَنِي عَبْدِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ: فَلَنْ يُعِيدَنَا كَمَا بَدَأَنَا، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ يَقُولُ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا بندہ میری ہی تکذیب کرتا ہے حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے اور مجھے ہی برا بھلا کہتا ہے حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تکذیب تو اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے ہمیں جس طرح پیدا کیا ہے دوبارہ اس طرح کبھی پیدا نہیں کرے گا اور برا بھلا کہنا اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے حالانکہ میں تو وہ صمد (بےنیاز) ہوں جس نے کسی کو جنا اور نہ اسے کسی نے جنم دیا اور نہ ہی کوئی میرا ہمسر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8220]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 4975
الحكم: إسناده صحيح، م: 4975