وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِالْمُؤْمِنِينَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَادْعُونِي، فَأَنَا وَلِيُّهُ، وَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ مَالًا فَلْيَرِثْ مَالَهُ عُصْبَتُهُ مَنْ كَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں کتاب اللہ کے مطابق تمام مسلمانوں پر ان کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں لہٰذا تم میں سے جو شخص قرض یا بچے چھوڑ کر جائے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8236]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6731، م: 1619
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6731، م: 1619