بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 111 از 194
حدیث نمبر: 9320 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَفْلَسَ رَجُلٌ بِمَالِ قَوْمٍ، فَرَأَى رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9320]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2402 ، م : 1559
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2402 ، م : 1559
حدیث نمبر: 9321 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيُّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں (١) ختنہ کرنا (٢) زیر ناف بال صاف کرنا (٣) بغل کے بال نوچنا۔ (٤) ناخن کاٹنا (٥) مونچھیں تراشنا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9321]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 5889 ، م : 257
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 5889 ، م : 257
حدیث نمبر: 9322 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ جَرَّايَ , الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ عِنْدَ اللَّهِ، أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے لیکن روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا بندہ میری خاطر اپنا کھانا پینا ترک کرتا ہے لہٰذا روزہ میرے لئے ہوا اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9322]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 7492 ، م : 1151
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 7492 ، م : 1151
حدیث نمبر: 9323 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُوشِكُ مَنْ عَاشَ مِنْكُمْ أَنْ يَلْقَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ إِمَامًا مَهْدِيًّا، وَحَكَمًا عَدْلًا، فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَتَضَعُ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے۔ جو زندہ رہے گا وہ ان سے ملے گا وہ صلیب کو توڑ دیں گے۔ خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اور ان کے زمانے میں جنگ موقوف ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9323]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2476 ، م : 155
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2476 ، م : 155
حدیث نمبر: 9324 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9324]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 6993 ، م : 2266
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 6993 ، م : 2266
حدیث نمبر: 9325 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ وَسَبْعِ أَمْثَالِهَا، فَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ، فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ، فَإِنْ عَمَلَها كُتِبَتْ عليه سَيئةً واَحْدةً، فإِنْ لم يَعْمَلْها لم تُكْتَبْ عليهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرسکے تب بھی اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس نیکی کو کر گذرے تو اس کے لئے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اگر عمل نہ کرسکے تو فقط ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرے تو وہ گناہ اس کے نامہ اعمال میں درج نہیں کیا جاتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9325]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 7501 ، م : 130
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 7501 ، م : 130
حدیث نمبر: 9326 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " الْفَأْرَةُ مِمَّا مُسِخَ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ يُوضَعُ لَهَا لَبَنُ اللِّقَاحِ فَلَا تَقْرَبُهُ، وَإِذَا وُضِعَ لَهَا لَبَنُ الْغَنَمِ أَصَابَتْ مِنْهُ" . قَالَ: فَقَالَ لَهُ كَعْبٌ: أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَأُنْزِلَتْ عَلَيَّ التَّوْرَاةُ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چوہا ایک مسخ شدہ قوم ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتا ہے۔ کعب احبار رحمہ اللہ (جو نومسلم یہودی عالم تھے) کہنے لگے کہ کیا یہ حدیث آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے کہا کہ کیا مجھ پر تورات نازل ہوئی ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9326]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 3305 ، م : 2997
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 3305 ، م : 2997
حدیث نمبر: 9327 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْبَهِيمَةُ عَقْلُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ , وَالمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9327]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2355 ، م : 1710
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2355 ، م : 1710
حدیث نمبر: 9328 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَبَا عُثْمَانَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَّ صَوْتِهِ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے ان کی برکت سے اس کی بخشش کردی جاتی ہے کیونکہ ہر تر اور خشک چیز اس کے حق میں گواہی دیتی ہے اور نماز میں باجماعت شریک ہونے والے کے لئے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دو نمازوں کے درمیانی وقفے کے لئے کفارہ بنادیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9328]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح بطرقه وشواھده ، وفي ھذا الإسناد أبو عثمان تحریف ، والصواب فیه : أبو یحیی
الحكم: حدیث صحیح بطرقه وشواھده ، وفي ھذا الإسناد أبو عثمان تحریف ، والصواب فیه : أبو یحیی
حدیث نمبر: 9329 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا امام اسی مقصد کے لئے ہوتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنالک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9329]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 734 ، م : 414
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 734 ، م : 414
حدیث نمبر: 9330 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، أَبِي مُحَمَّدٍ أَظُنُّهُ حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ أَظُنُّهُ حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " فِي كُلِّ الصَّلَوَاتِ يَقْرَأُ فِيهَا، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قراءت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قراءت کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9330]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 772 م : 396
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 772 م : 396
حدیث نمبر: 9331 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ، وَاللِّسَانُ يَزْنِي، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ، وَيُحَقِّقُ ذَلِكَ، أَوْ يُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (ہر انسان کا بدکاری میں حصہ ہے چنانچہ) آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9331]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 6612 ، م : 2657
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 6612 ، م : 2657
حدیث نمبر: 9332 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَأَتَى عَلَى جُمْدَانَ، فَقَالَ: " هَذَا جُمْدَانُ , سِيرُوا , سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ"، قَالُوا: وَمَا الْمُفَرِّدُونَ؟، قَالَ:" الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا"، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفَرْ لِلْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ؟، قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ" , قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ , قَالَ:" وَالْمُقَصِّرِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کے کسی راستے میں چل رہے تھے حتیٰ کہ جمدان نامی جگہ پر پہنچ کر فرمایا یہ جمدان ہے روانہ ہوجاؤ اور " مفردون " سبقت لے گئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مفردون کون لوگ ہوتے ہیں؟ فرمایا جو اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے رہتے ہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ حلق کرانے والوں کی بخشش فرما صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! قصر کرانے والوں کے لئے بھی دعا کیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر یہی فرمایا کہ اے اللہ! حلق کرانے والوں کی مغفرت فرما۔ تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قصر کرانے والوں کو بھی اپنی دعا میں شامل فرما لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9332]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا سند حسن في المتابعات ، خ : 1728 ، م : 1302 ، 2676
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا سند حسن في المتابعات ، خ : 1728 ، م : 1302 ، 2676
حدیث نمبر: 9333 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا، حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کئے جائیں گے حتیٰ کہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے " جس نے سینگ سے مارا ہوگا " بھی قصاص دلوایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9333]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن في المتابعات ، م : 2582
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن في المتابعات ، م : 2582
حدیث نمبر: 9334 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَسُومُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9334]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن في المتابعات ، م : 1413
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن في المتابعات ، م : 1413
حدیث نمبر: 9335 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ هَذَا الْحَرَّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہٰذا نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9335]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا سند حسن في المتابعات ، خ : 533 ، م : 615
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا سند حسن في المتابعات ، خ : 533 ، م : 615
حدیث نمبر: 9336 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا سَمِعَ الشَّيْطَانُ الْأَذَانَ، وَلَّى وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الصَّوْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شیطان جب اذان کی آواز سنتا ہے زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9336]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن في المتابعات ، خ : 608 ، م : 389
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن في المتابعات ، خ : 608 ، م : 389
حدیث نمبر: 9337 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ"، قِيلَ: مَا هُنَّ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ" . " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِم الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى قَصْرًا , فَأَكْمَلَ بِنَاءَهُ وَأَحْسَنَ بُنْيَانَهُ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ، فَنَظَرَ النَّاسُ إِلَى الْقَصْرِ، فَقَالُوا: مَا أَحْسَنَ بُنْيَانَ هَذَا الْقَصْرِ، لَوْ تَمَّتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ، أَلَا وَكُنْتُ أَنَا اللَّبِنَةَ، أَلَا وَكُنْتُ أَنَا اللَّبِنَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے دیگر انبیاء پر چھ چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کیا چیزیں ہیں؟ فرمایا مجھے جوامع الکلم دیئے گئے ہیں رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دے دیا گیا ہے۔ میرے لئے زمین کو پاکیزگی بخش اور مسجد بنادیا گیا ہے مجھے ساری مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور نبیوں کا سلسلہ مجھ پر ختم کردیا گیا ہے۔ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا) میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسے ہے جیسے کسی آدمی نے ایک نہایت حسین و جمیل اور مکمل عمارت بنائی البتہ اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس کے گرد چکر لگاتے تعجب کرتے اور کہتے جاتے تھے کہ ہم نے اس سے عمدہ عمارت کوئی نہیں دیکھی سوائے اس اینٹ کی جگہ کے سو وہ اینٹ میں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9337]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن کسابقه، خ : 3535 ، 6998 ، م : 523 ، 2286
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن کسابقه، خ : 3535 ، 6998 ، م : 523 ، 2286
حدیث نمبر: 9338 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّ مِنْبَرِي عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ، وَمَا بَيْنَ مِنْبَرِي وَحُجْرَتِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا یہ منبر جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر ہوگا اور میرے منبر اور میرے حجرے کے درمیان کا حصہ جنت کا ایک باغ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9338]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1196 ، م : 1391
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1196 ، م : 1391
حدیث نمبر: 9339 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ عَبد الرَّحْمَن ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ عَبد الرَّحْمَن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِي، وَإِنَّ مَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ: مَا أَكَلَ فَأَفْنَى، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى، أَوْ أَعْطَى فَأَقْنَى، مَا سِوَى ذَلِكَ ذَاهِبٌ، وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان کہتا پھرتا ہے میرا مال، میرا مال، حالانکہ اس کا مال تو صرف یہ تین چیزیں ہیں جو کھا کر فناء کردیا، یا پہن کر پرانا کردیا، یا اللہ کے راستہ میں دے کر کسی کو خوش کردیا، اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ سب لوگوں کے لئے رہ جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9339]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 2959
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 2959