بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 120 از 194
حدیث نمبر: 9500 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَالْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا، وَالْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا، وَالْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا، لَا تُنْكَحُ الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى، وَلَا الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھوپھی کی موجودگی میں اس کی بھتیجی سے یا بھتیجی کی موجودگی میں اس کی پھوپھی سے خالہ کی موجودگی میں بھانجی سے یا بھانجی کی موجودگی میں خالہ سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا بڑی کی موجودگی میں چھوٹی سے اور چھوٹی کی موجودگی میں بڑی سے نکاح نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9500]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 5109 ، م : 1408
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 5109 ، م : 1408
حدیث نمبر: 9501 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَبُو حَيَّانَ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِيمَانُ؟، قَالَ: " الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ , وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟، قَالَ:" الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ، لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِحْسَانُ؟، قَالَ:" أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟، قَالَ:" مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ رَبَّهَا، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا كَانَتِ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ الْجُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاةُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ، فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ"، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34. ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ". فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا، فَقَالَ:" هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایمان کیا چیز ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں، کتابوں اس سے ملنے اس کے رسولوں اور دوبارہ جی اٹھنے پر یقین رکھو اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسلام کیا ہے؟ فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ فرض نماز قائم کرو فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احسان کیا چیز ہے؟ فرمایا اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو اگر یہ تصور نہ کرسکو تو یہ تصور ہی کرلو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس سے اگلا سوال پوچھا یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس سے سوال پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، البتہ میں تمہیں اس کی علامات بتائے دیتا ہوں جب لونڈی اپنے مالک کو جنم دینے لگے تو یہ قیامت کی علامت ہے جب ننگے جسم اور ننگے پاؤں رہنے والے لوگوں کے سردار (حکمران) بن جائیں تو یہ قیامت کی علامت ہے اور جب بکریوں کے چرواہے بڑی بڑی عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں تو یہ قیامت کی علامت ہے اور پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا یقینی عمل صرف اللہ ہی کے پاس ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ' بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش برساتا ہے اور جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس علاقے میں مرے گا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9501]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 50 ، م : 9
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 50 ، م : 9
حدیث نمبر: 9502 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ، إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی کسی غلام میں شراکت ہو اور وہ اپنے حصے کے بقدر اسے آزاد کر دے تو اگر وہ مالدار ہے تو اس کی مکمل جان خلاصی کرانا اس کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ مالدار نہ ہو تو بقیہ قیمت کی ادائیگی کے لئے غلام سے اس طرح کوئی محنت مزدوری کروائی جائے کہ اس پر بوجھ نہ بنے (اور بقیہ قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ مکمل آزاد ہوجائے گا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9502]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2492 ، م : 1503
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2492 ، م : 1503
حدیث نمبر: 9503 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَبُو حَيَّانَ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ، وَعَظَّمَ أَمْرَهُ ثُمَّ قَالَ: " لَا أُلْفِيَنَّ يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي. فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا , قَدْ أَبْلَغْتُكَ. لَا أُلْفِيَنَّ، يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَغِثْنِي. فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا , قَدْ أَبْلَغْتُكَ. لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي. فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا , قَدْ أَبْلَغْتُكَ. لَا أُلْفِيَنَّ، يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي. فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا , قَدْ أَبْلَغْتُكَ. لَا أُلْفِيَنَّ، يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا , قَدْ أَبْلَغْتُكَ. لَا أُلْفِيَنَّ، يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي. فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا , قَدْ أَبْلَغْتُكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے سامنے خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور اس میں مال غنیمت میں خیانت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی شناخت کو خوب واضح فرمایا اور فرمایا میں تم میں سے کسی ایسے آدمی کو نہ پاؤں جو قیامت کے دن اپنی گردن پر ایک چلاتے ہوئے اونٹ کو سوار کرا کے لے آئے اور کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے کئی آدمی کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن ایک بکری کو منمناتا ہوا اپنی گردن پر لے آئے اور کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے کسی آدمی کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن ایک گھوڑے کو ہنہناتا ہوا اپنی گردن پر لے آئے اور کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں کسی آدمی کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن ایک شخص چلاتا ہوا اپنی گردن پر لے آئے اور کہے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے کسی آدمی کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن لدے ہوئے کپڑے اپنی گردن پر لے آئے اور کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے کسی آدمی کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن سونا چاندی لاد کر اپنی گردن پر لے آئے اور کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9503]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 3073 ، م : 1831
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 3073 ، م : 1831
حدیث نمبر: 9504 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً مُسْتَجَابَةً فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا" . قَالَ يَعْلَى: الشَّفَاعَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نبی کی ایک دعا ایسی ضرور رہی ہے جو قبول ہوئی ہو اور ہر نبی نے دنیا میں اپنی دعاء قبول کروا لی لیکن میں نے اپنی دعاء کو اپنی امت کی شفاعت کے لئے ذخیرہ کرلیا ہے اور ان شاء اللہ یہ شفاعت ہر اس شخص کو نصیب ہوگی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9504]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 7474 ، م : 199
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 7474 ، م : 199
حدیث نمبر: 9505 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے پر بہہ رہی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9505]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 668 ، وسیأتي في مسند جابر
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 668 ، وسیأتي في مسند جابر
حدیث نمبر: 9506 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ:" فَمَاذَا يُبْقِي ذَلِكَ مِنَ الدَّرَنِ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9506]
حدیث نمبر: 9507 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي يَحْيَى ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ طَعَامًا قَطُّ، كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِنْ لَمْ يَشْتَهِهِ سَكَتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی کسی کھانے میں عبیب نکالتے ہوئے نہیں دیکھا اگر تمنا ہوتی تو کھالیتے اور اگر تمنا نہ ہوتی تو سکوت فرما لیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9507]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م :2064
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م :2064
حدیث نمبر: 9508 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، الْأَغَرِّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي، فَمَنْ يُنَازِعُنِي وَاحِدَةً مِنْهُمَا أَلْقَيْتُهُ فِي جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ کبریائی میری اوپر کی چادر ہے اور عزت میری نیچے کی چادر ہے جو دونوں میں سے کسی ایک کے بارے مجھ سے جھگڑا کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9508]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م 2620
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م 2620
حدیث نمبر: 9509 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مغرب سے سورج نکلنے کا واقعہ پیش آنے سے قبل جو شخص بھی توبہ کرلے اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9509]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 4635 ، م : 157
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 4635 ، م : 157
حدیث نمبر: 9510 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنِ عَوْنٍ ، عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ لَقِيَ الْحَسَنَ بن علي، فَقَالَ لَهُ: " اكْشِفْ عَنْ بَطْنِكَ حَتَّى أُقَبِّلَ، حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ مِنْهُ" ، قَالَ: فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ , فَقَبَّلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمیر بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ راستے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی وہ کہنے لگے کہ مجھے دکھاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمہارے جسم کے جس حصے پر بوسہ دیا تھا میں بھی اس کی تقبیل کا شرف حاصل کروں اس پر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی قمیض اٹھائی اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ناف کو بوسہ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9510]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لتفرد عمیر بن إسحاق ، وروایته عند انفرادہ ضعیفة
الحكم: إسنادہ ضعیف لتفرد عمیر بن إسحاق ، وروایته عند انفرادہ ضعیفة
حدیث نمبر: 9511 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " طُهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار دے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے اور پہلی مرتبہ اسے مانجھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9511]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 172 ، م : 279
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 172 ، م : 279
حدیث نمبر: 9512 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عِكْرِمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ , فَلْيُخَالِفْ مَا بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اسے کپڑے کے دونوں کنارے مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈال لینے چاہئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9512]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 360 ، م : 516
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 360 ، م : 516
حدیث نمبر: 9513 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٍ ، وَيَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هارون ، هِشَامٌ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ هِشَامٍ ، وَيَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هارون , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا مِائَةٌ إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا كُلَّهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک سو یعنی ننانوے اسماء گرامی ہیں جو شخص ان کا احصاء کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا، بیشک اللہ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9513]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 6410 ، م : 2677
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 6410 ، م : 2677
حدیث نمبر: 9514 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَلَا يَسْعَى إِلَيْهَا أَحَدُكُمْ، وَلَكِنْ لِيَمْشِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ، صَلِّ مَا أَدْرَكْتَ، وَاقْضِ مَا سَبَقَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9514]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 908 ، م : 602
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 908 ، م : 602
حدیث نمبر: 9515 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، يَحْيَى ، رَجُلٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تُتْبَعُ الْجِنَازَةُ بِنَارٍ، وَلَا صَوْتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنازے کے ساتھ آگ اور آوازیں (باجے) نہ لے کر جایا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9515]
حکم دارالسلام
حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة الراوي عن أبي ھریرة
الحكم: حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة الراوي عن أبي ھریرة
حدیث نمبر: 9516 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَةَ، وَلَمْ يُصَلِّ شَيْئًا حَتَّى أَصْبَحَ. فَقَالَ: " بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ" ، قَالَ يُونُسُ: قَالَ الْحَسَنُ: إِنَّ بَوْلَهُ وَاللَّهِ ثَقِيلٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں ایک آدمی نے ایک شخص کا تذکرہ کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! فلاں ساری رات سوتا رہا اور فجر کی نماز بھی نہیں پڑھی یہاں تک کہ صبح ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9516]
حکم دارالسلام
صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد فیه عنعنة الحسن البصري
الحكم: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد فیه عنعنة الحسن البصري
حدیث نمبر: 9517 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَأْخُذُ مِمَّا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ كَلِمَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا، فَيَجْعَلُهُنَّ فِي طَرَفِ رِدَائِهِ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ وَيُعَلِّمُهُنَّ؟" . قُلْتُ: أَنَا. وَبَسَطْتُ ثَوْبِي، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ , حَتَّى انْقَضَى حَدِيثُهُ، فَضَمَمْتُ ثَوْبِي إِلَى صَدْرِي، فَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ لَمْ أَنْسَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسمل کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہے کوئی آدمی جو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے فرض کیا ہو ایک کلمہ یا دو تین چار پانچ کلمات حاصل کرے انہیں اپنی چادر کے کونے میں رکھے انہیں سیکھے اور دوسروں کو سکھائے؟ میں نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر اپنا کپڑا بچھاؤ چنانچہ میں نے اپنا کپڑا بچھا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حدیث بیان کی اور فرمایا کہ اسے اپنے جسم کے ساتھ لگا لو میں نے اسے اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا اسی وجہ سے میں امید رکھتا ہوں کہ اس کے بعد میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو حدیث بھی سنی ہے اسے کبھی نہیں بھولوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9517]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 118 ، م : 2492 ، في ھذا الإسناد عنعنة الحسن البصري : وھو مدلس
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 118 ، م : 2492 ، في ھذا الإسناد عنعنة الحسن البصري : وھو مدلس
حدیث نمبر: 9518 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَسُمْ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9518]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 2140 ، م : 1413 ، وھذا إسناد منقطع ، الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 2140 ، م : 1413 ، وھذا إسناد منقطع ، الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9519 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ أَوْ قَارَضٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ أَوْ قَارَضٍ ، لَا أَدْرِي شَكَّ إِسْمَاعِيلُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَكَلَ أَثْوَارَ أَقِطٍ، فَتَوَضَّأَ , فَقَالَ: أَتَدْرُونَ مِمَّا تَوَضَّأْتُ؟، إِنِّي أَكَلْتُ أَثْوَارَ أَقِطٍ، فَتَوَضَّأْتُ مِنْهُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پنیر کے ٹکڑے کھائے اور وضو کرنے لگے مجھے دیکھ کر فرمانے لگے کہ تم جانتے ہو کہ میں کسی چیز سے وضو کر رہا ہوں؟ میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھائے تھے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9519]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 352
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 352