بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 23 از 194
حدیث نمبر: 7559 مسند احمد
" ولَا تُبَاعُ ثَمَرَةٌ، حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور کسی قسم کا پھل اس وقت تک نہ بیچا جائے جب تک وہ پک نہ جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7559]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1538.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1538.
حدیث نمبر: 7560 مسند احمد
رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلَاثٌ مِنْ عَمَلِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُهُنَّ أَهْلُ الْإِسْلَامِ: النِّيَاحَةُ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالْأَنْوَاءِ، وَكَذَا" . قُلْتُ لِسَعِيدٍ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ يَا آلَ فُلَانٍ، يَا آلَ فُلَانٍ، يَا آلَ فُلَانٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کے تین کام ایسے ہیں جنہیں مسلمان نہیں چھوڑیں گے میت پر نوحہ، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور اس طرح کرنا میں نے سعید سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب؟ انہوں نے بتایا کہ زمانہ جاہلیت کی طرح لڑائی جھگڑوں میں اپنے اپنے خاندان والوں کو یا آل فلاں، یا آل فلاں کہہ کر بلانا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7560]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7561 مسند احمد
رِبْعِيٌّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رِبْعِيٌّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مَرَّةً وَاحِدَةً، كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ دورد بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7561]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 408.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 408.
حدیث نمبر: 7562 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أبيه ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عن أبيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مَرَّةً وَاحِدَةً، كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں کوئی حدیث اور اس کی سند موجود نہیں ہے صرف لفظ حدثنا لکھا ہوا ہے اور حاشیے میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ مسنداحمد کے بعض نسخوں میں یہاں یہ غلطی ہوئی ہے کہ کاتبین نے حدیث نمبر ٧٥٥٣ کی سند کو لے کر اس پر حدیث نمبر ٧٥٥١ کا متن چڑھا دیا جو کہ غلط ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7562]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7563 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهُ، إلَّا جُعِلَ صَفَائِحَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَتُكْوَى بِهَا جَبْهَتُهُ وَجَنْبُهُ وَظَهْرُهُ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ عِبَادِه، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ، إِمَّا إِلَى الْجَنَّة، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ. وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، إلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، فَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَتَطَؤُهُ بِأَظلَافِهَا، لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ ولَا جَلْحَاءُ، كُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ عِبَادِهِ، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَه، إِمَّا إِلَى الْجَنَّة، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ. وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، كُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ، إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ" . ثُمَّ ثُمَّ سُئِلَ عَنِ الْخَيْلِ، فَقَال: " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَجَمَالٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، أَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ، فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا يُعِدُّهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَمَا غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا فَهُوَ لَهُ أَجْرٌ، وَإِنْ مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ، فَمَا غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا فَهُوَ لَهُ أَجْرٌ، وَإِنْ مَرَّتْ بَمرْجٍ فَمَا أَكَلَتْ مِنْهُ فَهُوَ لَهُ أَجْرٌ، وَإِنْ اسْتَنَّتْ شَرَفًا، فلَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرٌ، حَتَّى ذَكَرَ أَرْوَاثَهَا وَأَبْوَالَهَا، وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ وَجَمَالٌ، فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا تَكَرُّمًا وَتَجَمَُّلَاً، ولا يَنْسَى حَقَّ بُطُونِهَا وَظُهُورِهَا، وعُسْرِهَا وَيُسْرِهَا، وَأَمَّا الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ، فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا بَذَخًا وَأَشَرًا، وَرِيَاءً وَبَطَرًا" . ثُمَّ ثُمَّ سُئِلَ عَنِ الْحُمُرِ، فَقَالَ: " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا شيئاً، إِلَّا الآية الْفَاذَّةَ الْجَامِعَةَ: مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ سورة الزلزلة آية 7 - 8" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص خزانوں کا مالک ہو اور اس کا حق ادا نہ کرے اس کے سارے خزانوں کو ایک تختے کی صورت میں ڈھال کر جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اس کے بعد اس سے اس شخص کی پیشانی پہلو اور پیٹھ کو داغا جائے گا تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو بکریوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مندحالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا پھر وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی ان میں سے کوئی بکری مڑے ہوئے سینگوں والی یا بےسینگ نہ ہوگی جوں ہی آخری بکری اسے روندتے ہوئے گذرے گی پہلے والی دوبارہ آجائے گی تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو اونٹوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا چنانچہ وہ اسے کھروں سے روند ڈالیں گے جوں ہی آخری اونٹ گذرے گا پہلے والا دوبارہ آجائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے گھوڑوں کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ گھوڑوں کی پیشانی ستروجمال ہوتا ہے اور بعض اوقات باعث عقاب ہوتا ہے جس آدمی کے لئے گھوڑا باعث ثواب ہوتا ہے وہ تو وہ آدمی ہے جو اسے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے پالتا اور تیار کرتا رہتا ہے ایسے گھوڑے کے پیٹ میں جو کچھ بھی جاتا ہے وہ سب اس کے لئے باعث ثواب ہوتا ہے اگر وہ کسی نہر کے پاس سے گذرتے ہوئے پانی پی لے تو اس کے پیٹ میں جانے والا پانی بھی باعث اجر ہے اور اگر وہ کہیں سے گذرتے ہوئے کچھ کھالے تو وہ بھی اس شخص کے لئے باعث اجر ہے اور اگر وہ کسی گھاٹی پر چڑھے تو اس کی ہر ٹاپ اور ہر قدم کے بدلے اسے اجر عطاء ہوگا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس لید اور پیشاب کا بھی ذکر فرمایا۔ اور وہ گھوڑا جو انسان کے لئے باعث ستر و جمال ہوتا ہے تو یہ اس آدمی کے لئے ہے جو اسے زیب وزینت حاصل کرنے کے لئے رکھے اور اس کے پیٹ اور پیٹھ کے حقوق اس کی آسانی اور مشکل کو فراموش نہ کرے اور وہ گھوڑا جو انسان کے لئے باعث وبال ہوتا ہے تو یہ اس آدمی کے لئے ہے جو غرور وتکبر اور نمود و نمائش کے لئے گھوڑے پالے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں تو یہی ایک جامع مانع آیت نازل فرما دی ہے کہ جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیک عمل سر انجام دے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرے کے برابر بھی برا عمل سر انجام دے گا وہ اسے بھی دیکھ لے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7563]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1402، 2371، م: 987.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1402، 2371، م: 987.
حدیث نمبر: 7564 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا لَا تُكِنُّ مِنْهُ بُيُوتُ الْمَدَرِ، ولَا تُكِنُّ مِنْهُ إِلَا بُيُوتُ الشَّعَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ ایسی بارش نہ ہوجائے جس سے پکے مکانات بھی نہ بچ سکیں صرف بالوں سے بنے ہوئے مکانات ہی بچ پائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7564]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7565 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنَعَتْ الْعِرَاقُ قَفِيزَهَا وَدِرْهَمَهَا، وَمَنَعْتِ الشَّامُ مُديَّهَا وَدِينَارَهَا، وَمَنَعَتْ مِصْرُ إِرْدَبَّهَا وَدِينَارَهَا، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ" . يَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ لَحْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَدَمُهُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، وَذَكَرَ أَبَا كَامِلٍ، فَقَالَ: كُنْتُ آخُذُ مِنْهُ ذَا الشَّأْنَ، وَكَانَ أَبُو كَامِلٍ بَغْدَادِيًّا مِنَ الْأَبْنَاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرب قیامت میں عراق اپنے قفیز اور درہم روک لے گا شام اپنے مد اور دینار روک لے گا مصر اپنے اردب اور دینار روک لے گا اور تم جہاں سے چلے تھے وہیں واپس آ جاؤگے (یہ جملہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا) اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا گوشت اور خون گواہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7565]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2896.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2896.
حدیث نمبر: 7566 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7566]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2113.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2113.
حدیث نمبر: 7567 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي طَرِيقٍ، فَلا تَبْدَءُوهُمْ بالسَّلام، وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا" . قَالَ زُهَيْرٌ: فَقُلْتُ لِسُهَيْلٍ: الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى؟ فَقَالَ: الْمُشْرِكُونَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم ان لوگوں سے راستے میں ملو تو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کردو راوی حدیث زہیر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد سہیل سے پوچھا کہ اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟ انہوں نے فرمایا تمام مشرکین مراد ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7567]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2167.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2167.
حدیث نمبر: 7568 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7568]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2179.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2179.
حدیث نمبر: 7569 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ وَلَمْ يَغْسِلْهُ، فَأَصَابَهُ شَيْءٌ، فَلا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے ہاتھ پر چکنائی کے اثرات ہوں اور وہ انہیں دھوئے بغیر ہی سو جائے جس کی وجہ سے اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو ملامت کرے (کہ کیوں ہاتھ دھو کر نہ سویا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7569]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7570 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ، إِلَا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا، فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی اولاد اپنے والد کے جرم کا بدلہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی (باپ کے جرم کا بدلہ اس کی اولاد سے نہیں لیا جائے گا) البتہ اتنی ضرور ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کو غلامی کی حالت میں پائے تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7570]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1510.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1510.
حدیث نمبر: 7571 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7571]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7572 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْمِسْهُ، فَإِنَّ في أَحَدَ جَنَاحَيْهِ دَاءٌ، وفي َالْآَخَرَ دَوَاءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفا اور دوسرے میں بیماری ہوتی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7572]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5782، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، ثمامة لم يسمع من أبي هريرة.
الحكم: حديث صحيح، خ: 5782، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، ثمامة لم يسمع من أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7573 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، أَبِي الْمُهَزِّمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَوْ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنْ تَجُرَّ الذَّيْلَ ذِرَاعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ (یا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اپنے کپڑے کا دامن ایک گز تک لمبا رکھ سکتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7573]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف جداً، أبو المهزم متروك.
الحكم: إسناد ضعيف جداً، أبو المهزم متروك.
حدیث نمبر: 7574 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَأَطَاعَ سَيِّدَهُ، فَلَهُ أَجْرَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کی اطاعت کرتا ہو تو اسے دہرا اجر ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7574]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7575 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجْتَمِعُ فِي النَّارِ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا، ثُمَّ سَدَّدَ بَعْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا جو کسی کافر کو قتل کرے اور اس کے بعد سیدھا راستہ اختیار کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7575]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7576 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، رَجُلٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْوَةَ قَلْبِهِ، فَقَالَ لَهُ: " إِنْ أَرَدْتَ تَلْيِينَ قَلْبِكَ، فَأَطْعِمْ الْمِسْكِينَ، وَامْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے دل کی سختی کی شکایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اگر تم اپنے دل کو نرم کرنا چاہتے ہو تو مسکینوں کو کھانا کھلایا کرو اور یتیم کے سر پر شفقت کے ساتھ ہاتھ پھیرا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7576]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7577 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ، وثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، صَوْمُ الدَّهْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صبر کے مہینے (رمضان) کا روزہ اور ہر مہینے تین دن کا روزہ رکھنا ایسے ہے جیسے پورے سال روزہ رکھنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7577]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7578 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ ، وَيَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، وَيَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ، إِمَّا مُحْسِنٌ، فَلَعَلَّهُ يَزْدَادُ خَيْرًا، وَإِمَّا مُسِيءٌ، لَعَلَّهُ يَسْتَعْتِبُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیکو کار ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی نیکیوں میں اور اضافہ ہوجائے اور اگر وہ گناہ گار ہے تو ہوسکتا ہے کہ توبہ کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7578]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7235، م: 2682.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7235، م: 2682.