بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 137 از 194
حدیث نمبر: 9840 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: لَوْلَا أَمْرَانِ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا مَمْلُوكًا، وَذَلِكَ أَنَّ الْمَمْلُوكَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصْنَعَ فِي مَالِهِ شَيْئًا، وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا خَلَقَ اللَّهُ عَبْدًا يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ سَيِّدِهِ، إِلَّا وَفَّاهُ اللَّهُ أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر دو چیزیں نہ ہوتیں تو مجھے کسی کی ملکیت میں غلام بن کر رہنا زیادہ پسند تھا کیونکہ غلام اپنے مال میں بھی کوئی تصرف نہیں کرسکتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کے حقوق کو ادا کرتا ہو تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9840]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666
حدیث نمبر: 9841 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يُوطِنُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلَاةِ وَالذِّكْرِ، إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ، يَعْنِي حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ، كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح اور مکمل احتیاط سے کرے پھر مسجد میں آئے اور اس کا مقصد صرف نماز پڑھنا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوتے ہیں جیسے کسی مسافر کے اپنے گھر پہنچنے پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9841]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، لكن روي الحدیث بزيادة رجل مجهول، جهله الدارقطني، انظر ما بعده
الحكم: رجاله ثقات، لكن روي الحدیث بزيادة رجل مجهول، جهله الدارقطني، انظر ما بعده
حدیث نمبر: 9842 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9842]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن عبيدة، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن عبيدة، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 9843 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ پر مجلس کریں لیکن اس میں اللہ کا ذکر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر دورد نہ کریں اور جدا ہوجائیں وہ اس کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9843]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9844 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٍ ، بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّهُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ، وَقَالَ:" إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ: " إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ، وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ ہمیں ایک لشکر کے ساتھ بھیجا اور قریش کے دو آدمیوں کا نام لے کر فرمایا اگر تم ان دونوں کو پاؤ تو انہیں آگ میں جلا دینا پھر جب ہم لوگ روانہ ہونے کے ارادے سے نکلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں فلاں فلاں آدمیوں کے متعلق یہ حکم دیا تھا کہ انہیں آگ میں جلا دینا لیکن آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے سکتا ہے اس لئے اگر تم انہیں پاؤ تو انہیں قتل کردینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9844]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3016
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3016
حدیث نمبر: 9845 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَة ، ابْنِ شِهَابٍ ، مَنْ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ , فَنَادَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّى، تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ , حَتَّى ثَنَّى ذَلِكَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" أَبِكَ جُنُونٌ؟" قَالَ: لَا. قَالَ:" فَهَلْ أَحْصَنْتَ؟". قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ" . قَالَ ابْنِ شِهَابٍ : فَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ، فَرَجَمْنَاهُ فِي الْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ، فَأَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ! مجھ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر منہ پھیرلیا انہوں نے دائیں جانب سے آکر یہی کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر منہ پھیرلیا پھر بائیں جانب سے آکر یہی عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر اعراض فرمایا لیکن جب چوتھی مرتبہ بھی انہوں نے اقرار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم دیوانے تو نہیں ہو؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے لے جا کر ان پر حد رجم جاری کرو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ انہیں لے گئے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسے رجم کرنے والوں میں میں بھی شامل تھا ہم نے اسے عیدگاہ میں رجم کیا تھا جب انہیں پتھر لگے تو وہ بھاگنے لگا ہم نے " حرہ " میں اسے پکڑ لیا اور سنگسار کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9845]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6815، م: 1691
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6815، م: 1691
حدیث نمبر: 9846 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ قَضَى فِيمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصِنْ، أَنْ يُنْفَى عَامًا مَعَ الْحَدِّ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کنوارے زانی کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ اسے حد جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ایک سال کے لئے سیاسۃً جلاوطن بھی کیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9846]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6833
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6833
حدیث نمبر: 9847 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو کچھ میں جانتاہوں اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ و بکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9847]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6485
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6485
حدیث نمبر: 9848 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَيَسْأَلُ:" هَلْ تَرَكَ لِذَلِكَ مِنْ قَضَاءٍ؟". فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، إِنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِلَّا قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ". فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ، قَامَ فَقَالَ: " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے یہ سوال پوچھتے کہ اس شخص پر کوئی قرض ہے؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پوچھتے کہ اسے ادا کرنے کے لئے اس نے کچھ مال چھوڑا ہے؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے اور اگر وہ ناں میں جواب دیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما دیتے کہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو پھر اللہ نے فتوحات کا دروازہ کھولا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ میں مؤمنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لئے جو شخص قرض چھوڑ کر جائے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9848]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2298، م: 1619
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2298، م: 1619
حدیث نمبر: 9849 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا طِيَرَةَ , وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ:" كَلِمَةٌ صَالِحَةٌ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے البتہ فال سب سے بہتر ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! فال سے کیا مراد ہے؟ فرمایا اچھا کلمہ جو تم میں سے کوئی سنے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9849]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5755، م: 2223
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5755، م: 2223
حدیث نمبر: 9850 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9850]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 437، م: 530
الحكم: إسناده صحيح، خ: 437، م: 530
حدیث نمبر: 9851 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے اور رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے اور جب رکوع سے اپنی کمر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور کھڑے کھڑے ربنا لک الحمد کہتے پھر سجدے میں جاتے ہوئے سجدے سے سر اٹھاتے ہوئے دوبارہ سجدے میں جاتے ہوئے اور سر اٹھاتے ہوئے تکبیر کہتے تھے پھر ساری نماز میں اسی طرح کرتے تھے یہاں تک کہ نماز مکمل کرلیتے اسی طرح قعدہ کے بعدجب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تب بھی تکبیر کہتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9851]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 789، م: 392
الحكم: إسناده صحيح، خ: 789، م: 392
حدیث نمبر: 9852 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، ابْنِ دَارَّةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنِ ابْنِ دَارَّةَ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: إِنَّا لَبِالْبَقِيعِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ إِذْ سَمِعْنَاهُ يَقُولُ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: فَتَدَاكَّ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَقَالُوا: إِيهٍ يَرْحَمُكَ اللَّهُ! قَالَ: يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِكُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ لَقِيَكَ يُؤْمِنُ بِي، لَا يُشْرِكُ بِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن وارہ جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزادہ کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ہم نے جنت البقیع میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ہم نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگوں میں اس چیز کو سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت سے کون بہرہ مند ہوگا لوگ ان پر جھک پڑے اور اصرار کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی آپ پر رحمتیں نازل ہوں بیان کیجئے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے اے اللہ! ہر اس بندہ مسلم کی مغفرت فرما جو تجھ سے اس حال میں ملے کہ وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہو اور تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9852]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9853 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چاند کو دیکھ کر روزہ رکھا کرو، چاند دیکھ کر عید منایا کرو، اگر چاند نظر نہ آئے اور آسمان پر ابر چھایا ہو تو تیس کی گنتی پوری کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9853]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081
حدیث نمبر: 9854 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین پر کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9854]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5788، م: 2087
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5788، م: 2087
حدیث نمبر: 9855 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، بُدَيْلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے اور مسیح دجال کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9855]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
حدیث نمبر: 9856 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَيُذَادَنَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِي عَنِ الْحَوْضِ، كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الْإِبِلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے کچھ ساتھیوں کو میرے حوض سے اس طرح دور کیا جائے گا جیسے کسی اجنبی اونٹ کو اونٹوں سے دور کیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9856]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2367، م: 2302
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2367، م: 2302
حدیث نمبر: 9857 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدَ بْنَ جُحَادَةَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ جُحَادَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: " نَهَى عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باندیوں کی جسم فروشی کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9857]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2283
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2283
حدیث نمبر: 9858 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرَّكَائِزِ الْخُمُسُ" ، قَالَ شُعْبَةُ: مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَقُولُ: الرَّكَائِزَ غَيْرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جانور سے مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کنویں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9858]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 9859 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9859]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 768، م: 578، وهذا إسناد ضعيف الجهالة عبدالعزيز
الحكم: حديث صحيح، خ: 768، م: 578، وهذا إسناد ضعيف الجهالة عبدالعزيز