حَجَّاجٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: لَوْلَا أَمْرَانِ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا مَمْلُوكًا، وَذَلِكَ أَنَّ الْمَمْلُوكَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصْنَعَ فِي مَالِهِ شَيْئًا، وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا خَلَقَ اللَّهُ عَبْدًا يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ سَيِّدِهِ، إِلَّا وَفَّاهُ اللَّهُ أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر دو چیزیں نہ ہوتیں تو مجھے کسی کی ملکیت میں غلام بن کر رہنا زیادہ پسند تھا کیونکہ غلام اپنے مال میں بھی کوئی تصرف نہیں کرسکتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کے حقوق کو ادا کرتا ہو تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9840]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666