بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 19 از 194
حدیث نمبر: 7479 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِسْمَاعِيلُ ، زِيَادٍ الْمَخْزُومِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ زِيَادٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ أَحَدُكُمْ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ"، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ، وَفَضْلٍ" وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھ لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7479]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5673، م: 2816، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد، لكنه تابع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 5673، م: 2816، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد، لكنه تابع.
حدیث نمبر: 7480 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مُنْخُرَيْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ، وَلَا يَجْتَمِعُ شُحٌّ، وَإِيمَانٌ فِي قَلْبِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کے نتھنوں میں جہاد فی سبیل اللہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں اکٹھے نہیں ہوسکتے اسی طرح ایک مسلمان کے دل میں ایمان اور بخل اکھٹے نہیں ہوسکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7480]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده، وفي إسناده حصين، وقد اختلف في اسمه، وهو مقبول، يعني إذا توبع، وإلا فلين الحديث.
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده، وفي إسناده حصين، وقد اختلف في اسمه، وهو مقبول، يعني إذا توبع، وإلا فلين الحديث.
حدیث نمبر: 7481 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، سَلْمَانَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرَّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلْمَانَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرَّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7481]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1190، م: 1394.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1190، م: 1394.
حدیث نمبر: 7482 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي الْحَكَمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ مَوْلَى اللَّيْثِيِّينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا سَبَقَ، إِلَّا فِي خُفٍّ، أَوْ حَافِرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صرف اونٹ یا گھوڑے میں ریس لگائی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7482]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وفي إسناد الحديث أبو الحكم، وهو لا يعرف.
الحكم: حديث صحيح، وفي إسناد الحديث أبو الحكم، وهو لا يعرف.
حدیث نمبر: 7483 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْبَخِيلِ، وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَأَمَّا الْمُنْفِقُ، فَلَا يُنْفِقُ مِنْهَا إِلَّا اتَّسَعَتْ حَلَقَةٌ مَكَانَهَا، فَهُوَ يُوَسِّعُهَا عَلَيْهِ، وَأَمَّا الْبَخِيلُ، فَإِنَّهَا لَا تَزْدَادُ عَلَيْهِ، إِلَّا اسْتِحْكَامًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کنجوس اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن کے جسم پر چھاتی سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک لوہے کے دو جبے ہوں خرچ کرنے والا جب بھی کچھ خرچ کرتا ہے تو اسی کے بقدر اس جبے میں کشادگی ہوتی جاتی ہے اور وہ اس کے لئے کھلتا جاتا ہے اور کنجوس آدمی کی جکڑ بندی ہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7483]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1443، م: 1021.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1443، م: 1021.
حدیث نمبر: 7484 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ:" لَوْ كَانَ أُحُدٌ عِنْدِي ذَهَبًا، لَسَرَّنِي أَنْ أُنْفِقَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيْهِ ثَلَاثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، إِلَّا شَيْءٌ أُرْصِدُهُ فِي دَيْنٍ يَكُونُ عَلَيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ بھی سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کردوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دینار یا درہم بھی میرے پاس باقی نہ بچے سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7484]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 2389، م: 991، وهذا الإسناد تفرد به أحمد، وفيه عنعنة ابن إسحاق.
الحكم: صحيح، خ: 2389، م: 991، وهذا الإسناد تفرد به أحمد، وفيه عنعنة ابن إسحاق.
حدیث نمبر: 7485 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي، كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى بُنْيَانًا، فَأَحْسَنَهُ، وَأَكْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ، وَيَعْجَبُونَ مِنْهُ، وَيَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا، إِلَّا مَوْضِعَ هَذِهِ اللَّبِنَةِ، فَكُنْتُ أَنَا هَذِهِ اللَّبِنَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسے ہے جیسے کسی آدمی نے نہایت حسین و جمیل عمارت بنائی البتہ اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس کے گرد چکر لگاتے تعجب کرتے اور کہتے جاتے تھے کہ ہم نے اس سے عمدہ عمارت کوئی نہیں دیکھی سوائے اس اینٹ کی جگہ کے سو وہ اینٹ میں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7485]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3535، م: 2286، وهذا الإسناد فيه خطأ، وانظر مابعده.
الحكم: حديث صحيح، خ: 3535، م: 2286، وهذا الإسناد فيه خطأ، وانظر مابعده.
حدیث نمبر: 7486 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، عِيَاضِ بْنِ دِينَارٍ ، أَبِيهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّلُ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں میری امت کا جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7486]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3254، م: 2834، وهذا الإسناد فيه خطأ، وذلك في قوله: «عياض عن أبيه» ، والصواب في الإسناد إسقاط دينار هذا منه.
الحكم: حديث صحيح، خ: 3254، م: 2834، وهذا الإسناد فيه خطأ، وذلك في قوله: «عياض عن أبيه» ، والصواب في الإسناد إسقاط دينار هذا منه.
حدیث نمبر: 7487 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَفِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي، يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7487]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6400، م: 852، وهذا الإسناد كسابقه.
الحكم: حديث صحيح، خ: 6400، م: 852، وهذا الإسناد كسابقه.
حدیث نمبر: 7488 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ، حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ"، قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک علم کو اٹھا نہ لیا جائے فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا نبی اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قتل قتل۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7488]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7061، م: 2672، وهو بإسناد سابقه.
الحكم: حديث صحيح، خ: 7061، م: 2672، وهو بإسناد سابقه.
حدیث نمبر: 7489 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عِيَاضُ بْنُ دِينَارٍ اللَّيْثِيُّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ دِينَارٍ اللَّيْثِيُّ وَكَانَ ثِقَةً، قال: قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، خَلِيفَةَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ عَلَى الْمَدِينَةِ أَيَّامَ الْحَجِّ، يَقُول: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّلُ زُمْرَةٍ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث خطبہ جمعہ میں سنائی تھی جبکہ وہ مدینہ منورہ کے گورنر تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7489]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3254، م: 2834، وهذا الإسناد فيه عياض، فإنه لم يرو عنه غير محمد بن إسحاق ووثقه.
الحكم: حديث صحيح، خ: 3254، م: 2834، وهذا الإسناد فيه عياض، فإنه لم يرو عنه غير محمد بن إسحاق ووثقه.
حدیث نمبر: 7490 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ، فَيَذْهَبَ إِلَى الْجَبَلِ، فَيَحْتَطِبَ، ثُمَّ يَأْتِيَ بِهِ يَحْمِلُهُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيَبِيعَهُ، فَيَأْكُلَ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ، وَلَأَنْ يَأْخُذَ تُرَابًا، فَيَجْعَلَهُ فِي فِيهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْعَلَ فِي فِيهِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ بات بہت بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی رسی پکڑے پہاڑ پر جا کر لکڑیاں کاٹے اور اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی خود کھائے یا صدقہ کردے بہ نسبت اس کے کسی سے جا کر سوال کرے اور انسان کے لئے مٹی لے کر اپنے منہ میں ڈال لینا اس سے بہتر ہے کہ اپنے منہ میں حرام کا لقمہ ڈالے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7490]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1470، م: 1042، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1470، م: 1042، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن.
حدیث نمبر: 7491 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَتَعَاقَبُونَ، مَلَائِكَةَ اللَّيْلِ، وَمَلَائِكَةَ النَّهَارِ، فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ الَّذِينَ كَانُوا فِيكُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ، فَيَقُولُ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي، فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَيْنَاهُمْ يُصَلُّونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو زمین پر باری باری آتے ہیں ان میں سے کچھ فرشتے رات کے ہیں اور کچھ دن کے یہ فرشتے نماز فجر اور نماز عصر کے وقت اکٹھے ہوتے ہیں پھر جو فرشتے تمہارے درمیان رہ چکے ہوتے ہیں وہ آسمانوں پر چڑھ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ باوجودیکہ ہر چیز جانتا ہے ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں کہ جس وقت ہم ان سے رخصت ہوئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7491]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 555، م: 632، فيه عنعنة ابن إسحاق، لكن له طرقا أخرى يصح بها.
الحكم: حديث صحيح، خ: 555، م: 632، فيه عنعنة ابن إسحاق، لكن له طرقا أخرى يصح بها.
حدیث نمبر: 7492 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا، فَلَا يَرْفُثْ، وَلَا يَجْهَلْ، وَإِنْ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ، أَوْ شَاتَمَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ، إِنِّي صَائِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7492]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1894، م: 1151، وله إسنادان: الأول: كإسناد الحديث السابق، والثاني: فيه عنعنة محمد بن إسحاق لكن توبع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1894، م: 1151، وله إسنادان: الأول: كإسناد الحديث السابق، والثاني: فيه عنعنة محمد بن إسحاق لكن توبع.
حدیث نمبر: 7493 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ، فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7493]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7492، م: 1151، محمد بن إسحاق- وإن رواه بالعنعنة وهو مدلس- قد توبع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 7492، م: 1151، محمد بن إسحاق- وإن رواه بالعنعنة وهو مدلس- قد توبع.
حدیث نمبر: 7494 مسند احمد
(حديث قدسي) (حديث موقوف) وَقَالَ: وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ، فَهُوَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، إِنَّمَا يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي، فَصِيَامُهُ لي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، إِلَّا الصِّيَامَ، فَهُوَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نیز ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ابن آدم کا ہر عمل اسی کے مناسب ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے مناسب ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار میری خاطر اپنا کھانا پینا چھوڑتا ہے لہذا اس کا روزہ میری وجہ سے ہوا اس لئے بدلہ بھی میں خود ہی دوں گا ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے اور سات سو گنا تک چلی جاتی ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7494]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7492، م: 1151، وهو بإسناد سابقه.
الحكم: حديث صحيح، خ: 7492، م: 1151، وهو بإسناد سابقه.
حدیث نمبر: 7495 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ"، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ فِي ذَلِكَ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَاكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7495]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1966، م: 1103، محمد بن إسحاق وإن كان مدلسا، وقد عنعنه، لكنه توبع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1966، م: 1103، محمد بن إسحاق وإن كان مدلسا، وقد عنعنه، لكنه توبع.
حدیث نمبر: 7496 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّاسُ مَعَادِنُ تَجِدُونَ خِيَارَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارَهُمْ فِي الْإِسْلَامِ، إِذَا فَقِهُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں تم محسوس کروگے کہ ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7496]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، خ: 3496، م: 2526، محمد بن إسحاق وإن كان مدلسا، وقد عنعنه، قد توبع.
الحكم: حديث صحيح ، خ: 3496، م: 2526، محمد بن إسحاق وإن كان مدلسا، وقد عنعنه، قد توبع.
حدیث نمبر: 7497 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُسْلِمُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7497]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5396، م: 2026، محمد بن إسحاق متابع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 5396، م: 2026، محمد بن إسحاق متابع.
حدیث نمبر: 7498 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ، لَا يَقْطَعُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے تب بھی اسے قطع نہ کرسکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7498]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4881، م: 2826، محمد بن إسحاق متابع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 4881، م: 2826، محمد بن إسحاق متابع.