يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ، فَيَذْهَبَ إِلَى الْجَبَلِ، فَيَحْتَطِبَ، ثُمَّ يَأْتِيَ بِهِ يَحْمِلُهُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيَبِيعَهُ، فَيَأْكُلَ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ، وَلَأَنْ يَأْخُذَ تُرَابًا، فَيَجْعَلَهُ فِي فِيهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْعَلَ فِي فِيهِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ بات بہت بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی رسی پکڑے پہاڑ پر جا کر لکڑیاں کاٹے اور اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی خود کھائے یا صدقہ کردے بہ نسبت اس کے کسی سے جا کر سوال کرے اور انسان کے لئے مٹی لے کر اپنے منہ میں ڈال لینا اس سے بہتر ہے کہ اپنے منہ میں حرام کا لقمہ ڈالے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7490]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1470، م: 1042، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1470، م: 1042، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن.