بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 123 از 194
حدیث نمبر: 9560 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " كَانَ اسْمُ زَيْنَبَ بَرَّةَ، فَسَمَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہ کا نام پہلے برہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بدل کر ان کا نام زینب رکھ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9560]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 6192 ، م : 2141
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 6192 ، م : 2141
حدیث نمبر: 9561 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة . وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَحْفَظُهُ"، قَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، الم تَنْزِيلُ، وَ هَلْ أَتَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن نماز فجر میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9561]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1068 ، م : 880
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1068 ، م : 880
حدیث نمبر: 9562 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً، أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهُ إِرْبًا مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی غلام کو آزاد کرے اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرما دیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9562]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2517 ، م : 1509
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2517 ، م : 1509
حدیث نمبر: 9563 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الْحَارِثُ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَتَبَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ حَظَّهَا مِنَ الزِّنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ہر انسان پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ چھوڑا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9563]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 6612 ، م : 2657
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 6612 ، م : 2657
حدیث نمبر: 9564 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الضِّيَافَةَ ثَلَاثَةٌ، فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ضیافت (مہمان نوازی) تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد جو کچھ بھی وہ صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9564]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، و ھذا إسناد حسن
الحكم: حدیث صحیح ، و ھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9565 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلَا يَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ إِلَّا طَيِّبٌ، إِلَّا كَأَنَّمَا يَضَعُهَا فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُرَبِّيهَا، كَمَا يُرَبِّي الرَّجُلُ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ، حَتَّى إِنَّ التَّمْرَةَ لَتَعُودُ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ " جو حلال قبول کرتا ہے " اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے، اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے، حتیٰ کہ ایک کھجور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے ایک پہاڑ کے برابر بن جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9565]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1410 ، م : 1014
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1410 ، م : 1014
حدیث نمبر: 9566 مسند احمد
يَحْيَى ، مُجَالِدٍ ، عَامِرٌ ، الْمُحَرِّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَة ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُجَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنِ الْمُحَرِّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَ، حَتَّى يَقُولُوا: كَانَ اللَّهُ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ، فَمَا كَانَ قَبْلَهُ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگوں پر سوال کی عادت غالب آجائے گی حتیٰ کہ وہ یہ سوال کرنے لگیں گے کہ ساری مخلوق کو تو اللہ نے پیدا کیا، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9566]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 3276 ، م : 135 ، وھذا إسناد ضعیف لضعف مجالد
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 3276 ، م : 135 ، وھذا إسناد ضعیف لضعف مجالد
حدیث نمبر: 9567 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، ابْنُ أَبِي نُعْمٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ نَبِيُّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بَرِيئًا مِمَّا قَالَ لَهُ، إِلَّا قَامَ عَلَيْهِ يَعْنِي الْحَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم، نبی التوبہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اپنے کسی غلام پر ایسے کام کی تہمت لگائی جس سے وہ بری ہو قیامت کے دن اس پر اس کی حد جاری کی جائے گی، ہاں! اگر وہ غلام ویسا ہی ہو جیسے اس کے مالک نے کہا تو اور بات ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9567]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 6858 ، م : 1660
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 6858 ، م : 1660
حدیث نمبر: 9568 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، سَعِيدٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ؟، قَالَ:" أَتْقَاهُمْ"، قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ. قَالَ:" فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ، ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ، ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ، ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ". قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ. قَالَ:" فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي؟ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پوچھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ معزز آدمی کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو سب سے زیادہ متقی ہو، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم آپ سے یہ سوال نہیں پوچھ رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر حضرت یوسف علیہ السلام سب سے زیادہ معزز ہیں جو نبی ابن نبی ابن نبی ابن خلیل اللہ ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم آپ سے یہ بھی نہیں پوچھ رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر عرب کی کانوں کے متعلق پوچھ رہے ہو؟ ان میں جو لوگ زمانہ جاہلیت میں سب سے بہتر تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی سب سے بہتر ہیں جبکہ دین کی سمجھ بوجھ کرلیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9568]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 3353 ، م : 2378
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 3353 ، م : 2378
حدیث نمبر: 9569 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّهُ دَعَا مَنْ قَبْلَكُمْ فَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ، وَسَفَكُوا دِمَاءَهُمْ، وَقَطَّعُوا أَرْحَامَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ظلم سے آپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں ظلم اندھیروں کی شکل میں ہوگا اور فحش گوئی سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اللہ فحش باتوں اور کاموں کو پسند نہیں کرتا اور بخل سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اسی بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو دعوت دی اور انہوں نے محرمات کو حلال سمجھا خونریزی کی اور قطع رحمی کی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کی باندی زنا کرے اور اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اسے کوڑوں کی سزا دے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ظلم سے اپنے آپ کو بچاؤ۔۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9569]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9570 مسند احمد
يَحْيَى الْقَطَّانُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٌ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، انظر ما قبله
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9571 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" إِذَا زَنَتْ خَادِمُ أَحَدِكُمْ"، فَذَكَرَ مَعْنَى الْحَدِيثِ يَعْنِي لِيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ.
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2152 ، م : 1703
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2152 ، م : 1703
حدیث نمبر: 9572 مسند احمد
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ، سُفْيَانَ ، سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا تَقَاضَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا، فَقَالُوا: مَا نَجِدُ إِلَّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُ"، فَقَالَ: أَوْفَيْتَنِي، أَوْفَى اللَّهُ لَكَ، قَالَ: " خِيَارُ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہمیں مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا ہر اونٹ اس سے بڑی عمر کا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا ہی اونٹ دے دو وہ دیہاتی کہنے لگا کہ آپ نے مجھے پورا پورا ادا کیا اللہ آپ کو پورا پورا عطاء فرمائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہتر ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9572]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2392 ، م : 1601
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2392 ، م : 1601
حدیث نمبر: 9573 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ: وَسَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قُلْتُ لِيَحْيَى: كِلَاهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ، إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا، لَا يَفُكُّهُ إِلَّا الْعَدْلُ، أَوْ يُوبِقُهُ الْجَوْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو آدمی صرف دس افراد پر ہی ذمہ دار (حکمران) رہا ہو وہ بھی قیامت کے دن زنجیروں میں جکڑا ہوا پیش ہوگا، پھر یا تو اس کا عدل چھڑا لے گا یا اس کا ظلم و جور ہلاک کروا دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9573]
حکم دارالسلام
إسنادہ قوي
الحكم: إسنادہ قوي
حدیث نمبر: 9574 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ: وَسَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, قُلْتُ لِيَحْيَى: كِلَاهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " شُعْبَتَانِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُهُمَا النَّاسُ أَبَدًا: النِّيَاحَةُ، وَالطَّعْنُ فِي النَّسَبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے زمانہ جاہلیت کے دو شعبے ایسے ہیں جنہیں لوگ کبھی نہیں ترک کریں گے، ایک تو نوحہ کرنا اور دوسرا کسی کے نسب پر طعنہ مارنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9574]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 9575 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الْأَسْوَدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ جَارِيَةَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِنْ حِينِ يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِهِ، فَرِجْلٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً، وَأُخْرَى تَمْحُو سَيِّئَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اپنے گھر سے میری مسجد کے لئے نکلے تو اس کے ایک قدم پر نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرا قدم اس کے گناہ مٹاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9575]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9576 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا عَلَيْهِ، نَعْلَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح جوش مارے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9576]
حکم دارالسلام
صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد جید
الحكم: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد جید
حدیث نمبر: 9577 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو کچھ میں جانتا ہوں اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ و بکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9577]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، خ : 6637
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، خ : 6637
حدیث نمبر: 9578 مسند احمد
يَحْيَى ، خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكٍ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَلَا مَمْلُوكِهِ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9578]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1464 ، م : 982
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1464 ، م : 982
حدیث نمبر: 9579 مسند احمد
يَحْيَى ، أُسَامَةُ ، مَكْحُولٍ ، عِرَاكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9579]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 1464 ، م : 982 ، وھذا الإسناد فیه انقطاع ، مکحول لم یسمع من عراك ھذا الحدیث بعینه
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 1464 ، م : 982 ، وھذا الإسناد فیه انقطاع ، مکحول لم یسمع من عراك ھذا الحدیث بعینه