بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 85 از 194
حدیث نمبر: 8800 مسند احمد
خَلَفُ ، خَالِدٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بِتَغْطِيَةِ الْوَضُوءِ، وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِكْفَاءِ الْإِنَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں رات کو سوتے وقت وضو کا پانی ڈھانپ دینے مشکیزے کا منہ باندھ دینے اور برتنوں کو اوندھا کردینے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8800]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8801 مسند احمد
خَلَفٌ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا أَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَتَاهُ عَنِّي حَدِيثٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ فِي أَرِيكَتِهِ , فَيَقُولُ: اتْلُوا عَلَيَّ بِهِ قُرْآنًا! مَا جَاءَكُمْ عَنِّي مِنْ خَيْرٍ قُلْتُهُ أَوْ لَمْ أَقُلْهُ، فَأَنَا أَقُولُهُ، وَمَا أَتَاكُمْ عَنِّي مِنْ شَرٍّ، فَأَنَا لَا أَقُولُ الشَّرَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تم میں سے کسی ایسے آدمی کے متعلق نہ سنوں کہ اس کے سامنے میری کوئی حدیث بیان کی جائے اور وہ مسہری پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو اور کہے کہ میرے سامنے تو قرآن پڑھو (حدیث نہ پڑھو) تمہارے پاس میرے حوالے سے خیر کی جو بات بھی پہنچے خواہ میں نے کہی ہو یا نہ کہی ہو وہ میری ہی کہی ہوئی ہے اور میرے حوالے سے جو غلط بات تم تک پہنچے تو یاد رکھو کہ میں غلط بات نہیں کہتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8801]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبي معشر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبي معشر
حدیث نمبر: 8802 مسند احمد
خَلَفٌ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنُ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَأُرَاهُ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي الصَّلَاةِ إِلَى السَّمَاءِ، أَوْ لَيَخْطِفَنَّ اللَّهُ أَبْصَارَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ دوران نماز آسمان کی طرف آنکھیں اٹھا کر دیکھنے سے باز آجائیں ورنہ ان کی بصارتیں سلب کرلی جائیں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8802]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 429، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: حديث صحيح، م: 429، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8803 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟" قَالَ: بَرْبَرِيٌّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ عَنِّي" قَالَ: بِمِرْفَقِهِ هَكَذَا، فَلَمَّا قَامَ عَنْهُ، أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" إِنَّ الْإِيمَانَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں ایک شخص شریک تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا کہ میں بربری ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ جاؤ جب وہ چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایمان ان لوگوں کے گلے سے بھی نیچے نہیں اترے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8803]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف و متنه منكر، صالح مختلط
الحكم: إسناده ضعيف و متنه منكر، صالح مختلط
حدیث نمبر: 8804 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا، وَلَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَصَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے قبر کو جشن منانے کی جگہ نہ بنانا اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنانا اور جہاں کہیں بھی ہو مجھ پر درود پڑھتے رہنا کیونکہ تمہارا درود مجھے پہنچتا رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8804]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8805 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْخُذَ أُمَّتِي بِمَأْخَذِ الْأُمَمِ وَالْقُرُونِ قَبْلَهَا، شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمَا فَعَلَتْ فَارِسُ وَالرُّومُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَلْ النَّاسُ إِلَّا أُولَئِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت گزشتہ امتوں والے اعمال میں بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر مبتلا نہ ہوجائے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا جیسے فارس اور روم کے لوگوں نے کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو کیا ان کے علاوہ بھی پہلے کوئی لوگ گذرے ہیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8805]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7319
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7319
حدیث نمبر: 8806 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، يَعْنِي مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8806]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8807 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " كَانَ صَدَاقُنَا إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ أَوَاقٍ، وَطَبَّقَ بِيَدَيْهِ، وَذَلِكَ أَرْبَعُ مِائَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان موجود رہے ہمارا مہر دس اوقیہ چاندی ہوتا تھا اور انہوں نے اپنے ہاتھ جوڑ کر دکھائے یہ کل چار سو درہم کی مقدار بنتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8807]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8808 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ أَنْزِعُ بِدَلْوٍ، ثُمَّ أَخَذَهَا أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ فِيهِمَا ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَرْحَمُهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ، فَإِنْ بَرِحَ يَنْزِعُ حَتَّى اسْتَحَالَتْ غَرْبًا ثُمَّ ضَرَبَتْ بِعَطَنٍ، فَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَزْعِ عَبْقَرِيٍّ أَحْسَنَ مِنْ نَزْعِ 63 عُمَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ خواب میں میں نے دیکھا کہ میں ایک حوض پر ڈول کھینچ کر لوگوں کو پانی پلا رہا ہوں پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور مجھے راحت پہنچانے کے لئے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا اور ایک دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزروی کے آثار تھے اللہ ان پر رحم فرمائے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے انہوں نے وہ ڈول لیا اور وہ ڈول ان کے ہاتھ میں آکر بڑا ڈول بن گیا لوگ اس سے سیراب ہوگئے اور میں نے عمر سے اچھا ڈول کھینچنے والا کوئی عبقری آدمی نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8808]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3664، م: 2392
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3664، م: 2392
حدیث نمبر: 8809 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ , قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھاتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ ہمارے زندہ اور فوت شدہ موجود اور غائب چھوٹوں اور بڑوں مردوں اور عورتوں کی بخشش فرما اے اللہ تو ہم میں سے جسے زندہ رکھا اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے ایمان پر موت دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8809]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب، لكنه قد توبع
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 8810 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ، وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِمَا تَحْقِرُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شیطان اس بات سے مایوس ہوگیا ہے کہ تمہاری اس سر زمین عرب میں دو باہرہ اس کی پوجا کی جائے گی البتہ وہ ایسی چیزوں پر خوش ہوگیا ہے جنہیں تم حقیر سمجھتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8810]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8811 مسند احمد
هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَمْ تَرَوْا مَا قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: الْكَوْكَبُ وَبِالْكَوْكَبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دیکھو تو سہی کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے وہ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندوں پر جتنی بھی نعمتیں برسائیں ہمیشہ ایک گروہ نے ان کی ناشکری ہی کی اور یہی کہتے رہے کہ یہ فلاں ستارے کی تاثیر ہے اور یہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8811]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 72، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين
الحكم: حديث صحيح، م: 72، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين
حدیث نمبر: 8812 مسند احمد
هَيْثَمٌ ، حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ يَعْنِي الصَّنْعَانِيَّ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ يَعْنِي الصَّنْعَانِيَّ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ، فَقَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ؟" فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ، وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک جگہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس جا کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا کیا میں تمہیں بتاؤں کہ تم میں سب سے بہتر اور سب سے بدتر کون ہے؟ لوگ خاموش رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ اپنی بات دہرائی اس پر ان میں سے ایک آدمی بولا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس سے خیر کی امید ہو اور اس کے شر سے امن ہو اور سب سے بدتر وہ ہے جس سے خیر کی توقع نہ ہو اور اس کے شر سے امن نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8812]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8813 مسند احمد
هَيْثَمٌ ، حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ ، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِي وَمَالِي، وَإِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ مَا أَكَلَ فَأَفْنَى، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى، أَوْ أَعْطَى فَأَقْنَى، مَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان کہتا پھرتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ اس کا مال تو صرف یہ تین چیزیں ہیں جو کھا کر فناء کردیا یا اللہ کے راستہ میں دے کر کسی کو خوش کردیا اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ سب لوگوں کے لئے رہ جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8813]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2959
الحكم: إسناده صحيح، م: 2959
حدیث نمبر: 8814 مسند احمد
هَيْثَمٌ ، رِشْدِينُ ، عَمْرٍو ، بُكَيْرٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقَعَنَّ رَجُلٌ عَلَى امْرَأَةٍ وَحَمْلُهَا لِغَيْرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص ایسی عورت سے مباشرت نہ کرے جو کسی دوسرے سے حاملہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8814]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين
حدیث نمبر: 8815 مسند احمد
هَيْثَمٌ ، حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ يَلْكُزُهُ الشَّيْطَانُ بِحِضْنَيْهِ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مَرْيَمَ وَابْنِهَا، أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الصَّبِيِّ حِينَ يَسْقُطُ كَيْفَ يَصْرُخُ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" فَذَاكَ حِينَ يَلْكُزُهُ الشَّيْطَانُ بِحِضْنَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان کچو کے لگاتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کے ساتھ ایسا نہیں ہوا کیا تم اس بات کو دیکھتے نہیں کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو کسی طرح رو رہا ہوتا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ وہی تو ہے جو شیطان اسے کچوکے لگاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8815]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3431، م: 2366
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3431، م: 2366
حدیث نمبر: 8816 مسند احمد
هَيْثَمٌ ، حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ ، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَجْتَمِعُ الْكَافِرُ وَقَاتِلُهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي النَّارِ أَبَدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کافر اور اس کا مسلمان قاتل جہنم میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8816]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1891
الحكم: إسناده صحيح، م: 1891
حدیث نمبر: 8817 مسند احمد
هَيْثَمٌ ، حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، الْعَلَاءِ ، قُتَيْبَةُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، الْعَلَاء ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنِ الْعَلَاء ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُجْمَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَطْلُعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ، ثُمَّ يُقَالُ: أَلَا تَتَّبِعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ؟ فَيَتَمَثَّلُ لِصَاحِبِ الصَّلِيبِ صَلِيبُهُ، وَلِصَاحِبِ الصُّوَرِ صُوَرُهُ، وَلِصَاحِبِ النَّارِ نَارُهُ، فَيَتَّبِعُونَ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، وَيَبْقَى الْمُسْلِمُونَ، فَيَطْلُعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ، فَيَقُولُ: أَلَا تَتَّبِعُونَ النَّاسَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، نعوذُِِ بالَََََّلهِِِ منكَ، اللَّهُ رَبُّنَا، وَهَذَا مَكَانُنَا حَتَّى نَرَى رَبَّنَا، وَهُوَ يَأْمُرُهُمْ وَيُثَبِّتُهُمْ، ثُمَّ يَتَوَارَى، ثُمَّ يَطْلُعُ , فَيَقُولُ: أَلَا تَتَّبِعُونَ النَّاسَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، اللَّهُ رَبُّنَا، وَهَذَا مَكَانُنَا حَتَّى نَرَى رَبَّنَا، وَهُوَ يَأْمُرُهُمْ وَيُثَبِّتُهُمْ"، قَالُوا: وَهَلْ نَرَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ تِلْكَ السَّاعَةَ، ثُمَّ يَتَوَارَى، ثُمَّ يَطْلُعُ فَيُعَرِّفُهُمْ نَفْسَهُ فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، أَنا رَبّّّّّّّّكم، اتَّبِعُونِي، فَيَقُومُ الْمُسْلِمُونَ، وَيُوضَعُ الصِّرَاطُ، فَهُمْ عَلَيْهِ مِثْلُ جِيَادِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ، وَقَوْلُهُمْ عَلَيْهِ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَيَبْقَى أَهْلُ النَّارِ، فَيُطْرَحُ مِنْهُمْ فِيهَا فَوْجٌ فَيُقَالُ: هَلْ امْتَلَأْتِ؟ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ ثُمَّ يُطْرَحُ فِيهَا فَوْجٌ فَيُقَالُ: هَلْ امْتَلَأْتِ؟ وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ حَتَّى إِذَا أُوعِبُوا فِيهَا، وَضَعَ الرَّحْمَنُ عَزَّ وَجَلَّ قَدَمَهُ فِيهَا، وَزَوَى بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ، ثُمَّ قَالَتْ: قَطْ قَطْ، فَإِذَا صُيِّرَ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ، أُتِيَ بِالْمَوْتِ مُلَبَّبًا، فَيُوقَفُ عَلَى السُّورِ الَّذِي بَيْنَ أَهْلِ النَّارِ، وَأَهْلِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ، فَيَطَّلِعُونَ مُسْتَبْشِرِينَ يَرْجُونَ الشَّفَاعَةَ، فَيُقَالُ: لِأَهْلِ الْجَنَّةِ، وَلِأَهْلِ النَّارِ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاء قَدْ عَرَفْنَاهُ، هُوَ الْمَوْتُ الَّذِي وُكِّلَ بِنَا، فَيُضْجَعُ فَيُذْبَحُ ذَبْحًا عَلَى السُّورِ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، خُلُودٌ لَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ، خُلُودٌ لَا مَوْتَ" ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ:" وَأُزْوِيَ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ثُمَّ قَالَ: قَطْ؟ قَالَتْ: قَطْ قَطْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک ٹیلے پر جمع کیا جائے گا پھر رب العلمین انہیں جھانک کر دیکھے گا پھر اعلان کیا جائے گا کہ ہر قوم ان کے پیچھے چلی جائے جن کی وہ عبادت کرتی تھی چنانچہ صلیب کے بچاری کے لئے صلیب تصویروں کے بچاری کے لئے تصویر اور آگ کے پجاری کے لئے آگ کی تمثیل پیش کردی جائے گی اور وہ اپنے معبودوں کے پیچھے چل پڑیں گے اور صرف مسلمان رہ جائیں گے پھر رب العلمین انہیں بھی جھانک کر دیکھے گا اور فرمائے گا تم لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں جا رہے؟ وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں اللہ ہمارا رب ہے اور جب تک ہم اپنے رب کو دیکھ نہیں لیتے یہیں رہیں گے وہ انہیں حکم دے گا اور ثابت قدم رکھے گا (پھر وہ چھپ جائے گا اور دوبارہ ظاہر ہو کری ہی سوال جواب کرے گا) صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے پروردگار کو دیکھ سکیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں چود ہویں رات کا چاند دیکھنے میں کسی قسم کی مشقت ہوتی ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر اس وقت تمہیں اسے دیکھنے میں بھی کوئی مشقت نہیں ہوگی بہرحال تیسری مرتبہ پوشیدہ ہونے کے بعدجب وہ ظاہر ہوگا تو انہیں اپنی معرفت عطاء فرمادے گا اور انہیں بتادے گا کہ میں ہی تمہارا رب ہوں تم میرے پیچھے آجاؤ چنانچہ مسلمان اٹھ کھڑے ہوں گے اور پل صراط قائم کردیا جائے گا اور مسلمان اس پر بہترین گھوڑوں اور عمدہ شہسواروں کی طرح گذرجائیں گے اور کہتے جائیں گے سلم سلم جہنمی رہ جائیں گے اور انہیں فوج در فوج جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تو بھر گئی؟ اور وہ کہے گی کہ کچھ بھی ہے؟ اس میں ایک اور فوج پھینک دی جائے گی اور پھر یہی سوال جواب ہوں گے حتی کہ رحمان اس میں اپنا قدم رکھ دے گا اور جہنم کے حصے سکڑج ائیں گے اور وہ کہے گی بس بس بس پھر جب جنتی جنت میں چلے جائیں گے اور جہنمی جہنم میں تو موت کو لا کر پل صراط پر کھڑا کردیا جائے گا اور اہل جنت کو پکار کر بلایا جائے گا وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے کہ کہیں انہیں جنت سے نکال تو نہیں دیا جائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ جی پروردگار! یہ موت ہے پھر اہل جہنم کو پکار کر آواز دی جائے گی وہ اس خوشی سے جھانک کر دیکھیں گے کہ شاید انہیں اس جگہ سے نکلنا نصیب ہوجائے پھر ان سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے جی ہاں یہ موت ہے چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے پل صراط پر ذبح کردیا جائے گا اور دونوں گروہوں سے کہا جائے گا کہ تم جن حالات میں رہ رہے ہو۔ اس میں تم ہمیشہ ہمیش رہوگے اس میں کبھی موت نہ آئے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8817]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وله إسنادان: الأول صحيح ، والثاني قوي ، خ: 6573، م: 182
الحكم: حديث صحيح، وله إسنادان: الأول صحيح ، والثاني قوي ، خ: 6573، م: 182
حدیث نمبر: 8818 مسند احمد
هَيْثَمٌ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كَفَّارَةُ الْمَجَالِسِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کفارہ مجلس یہ ہے کہ انسان مجلس سے اٹھتے وقت یوں کہہ لے۔ سبحانک اللہم وبحمدک استغفرک واتوب الیک '' [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8818]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، إسماعيل بن عياش - وإن كان مختلطا فى روايته عن غير أهل بلده وهذا منها - قد توبع
الحكم: حديث صحيح، إسماعيل بن عياش - وإن كان مختلطا فى روايته عن غير أهل بلده وهذا منها - قد توبع
حدیث نمبر: 8819 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، حُسَيْنٌ ، يَحْيَى ، أَبَا سَلَمَةَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ: حدثنا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8819]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6988، م: 2263
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6988، م: 2263