بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 124 از 194
حدیث نمبر: 9580 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٌ ، وَحَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ . ح وَحَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ"، قَالَ يَحْيَى: قَالَهَا ثَلَاثًا، " لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا، وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے خواتین اسلام! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ سمجھے خواہ بکری کا ایک کھر ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9580]
حکم دارالسلام
إسناداہ صحیحان ، خ : 6017 ، م : 1030
الحكم: إسناداہ صحیحان ، خ : 6017 ، م : 1030
حدیث نمبر: 9581 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَوْتَ صَبِيٍّ فِي الصَّلَاةِ، فَخَفَّفَ الصَّلَاةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوران نماز کسی بچے کے رونے کی آواز سنی تو اپنی نماز ہلکی فرما دی (تاکہ اس کی ماں پریشان نہ ہو) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9581]
حکم دارالسلام
إسنادہ جید
الحكم: إسنادہ جید
حدیث نمبر: 9582 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ، طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کرتا ہے قیامت کے دن سات زمینوں سے اس ٹکڑے کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9582]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، م : 1611
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، م : 1611
حدیث نمبر: 9583 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، إِسْحَاقَ ، أَبِي هُرَيْرَة ، رَوْحٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أبي إِسْحَاقَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا فَلَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مَشَى طَرِيقًا فَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً، وَمَا مِنْ رَجُلٍ أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً" . حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أبي إِسْحَاقَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَلَمْ يَقُلْ:" إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ پر مجلس کریں لیکن اس میں اللہ کا ذکر نہ کریں وہ ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی اور جو آدمی کسی راستے پر چلتے ہوئے اللہ کا ذکر نہ کرے وہ چلنا بھی قیامت کے دن اس کے لئے باعث حسرت ہوگا اور جو آدمی اپنے بستر پر آئے لیکن اللہ کا ذکر نہ کرے وہ بھی اس کے لئے باعث حسرت ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9583]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة أبي إسحاق
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة أبي إسحاق
حدیث نمبر: 9584 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ: أَنْ يَشْتَمِلَ أَحَدُكُمْ الصَّمَّاءَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، أَوْ يَحْتَبِيَ بِثَوْبٍ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سودے میں دو سودے کرنے اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے اور وہ یہ کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرہ سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9584]
حدیث نمبر: 9585 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَوْفٍ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي هُرَيْرَة ، وَالْحَسَنِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، وَالْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام کو یاد دلانے کے لئے سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9585]
حکم دارالسلام
إسناد الموصول منه صحيح، خ: 1203، م: 422 ، ورواية الحسن مرسلة
الحكم: إسناد الموصول منه صحيح، خ: 1203، م: 422 ، ورواية الحسن مرسلة
حدیث نمبر: 9586 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9586]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408
حدیث نمبر: 9587 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟، قَالَ: " الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِيمَا يَكْرَهُ فِي نَفْسِهَا، وَلَا فِي مَالِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال پوچھا کہ کون سی عورت سب سے بہتر ہے؟ فرمایا وہ عورت کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے جب حکم دے تو اس کی بات مانے اور اپنی ذات اور اس کے مال میں جو چیز اس کے خاوند کو ناپسند ہو اس میں اپنے خاوند کی مخالفت نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9587]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9588 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ، مَنْ تَرَكَ شَيْئًا خَشْيَةً فَلَيْسَ مِنَّا"، يَعْنِي الْحَيَّاتِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سانپوں کے متعلق فرمایا ہم نے جب سے ان کے ساتھ جنگ شروع کی ہے کبھی صلح نہیں کی جو شخص خوف کی وجہ سے انہیں چھوڑ دے وہ ہم سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9588]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 9589 مسند احمد
يَحْيَى ، عَبْدِ اللَّهِ ، سَعِيدٌ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ، وَلْيَتَوَسَّدْ يَمِينَهُ، ثُمَّ لِيَقُلْ بِاسْمِكَ رَبِّ وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، اللَّهُمَّ إِنْ أَمْسَكْتَهَا فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا، بِمَا حَفِظْتَ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص رات کو بیدار ہو پھر اپنے بستر پر آئے تو اسے چاہیے کہ اپنے تہبند ہی سے اپنے بستر کو جھاڑ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے پیچھے کیا چیز اس کے بستر پر آگئی ہو پھر یوں کہے کہ اے اللہ میں نے آپ کے نام کی برکت سے اپنا پہلو زمین پر رکھ دیا اور آپ کے نام سے ہی اٹھاؤں گا اگر میری روح کو اپنے پاس روک لیں تو اس کی مغفرت فرمائیے اور اگر بھیج دیں تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمائیے جیسے آپ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9589]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7393، م: 2714
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7393، م: 2714
حدیث نمبر: 9590 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ الْحَرَّانِيُّ ، زُهَيْرٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9590]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 9591 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ، وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِ اللَّيْلِ، فَإِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُ اللَّيْلِ، نَزَلَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا , فَقَالَ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ؟، هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ؟، هَلْ مِنْ تَائِبٍ فَأَتُوبَ عَلَيْهِ؟، هَلْ مِنْ دَاعٍ فَأُجِيبَهُ؟،" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا۔ کیونکہ تہائی یا نصف رات گذرنے کے بعد اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطاء کروں؟ ہے کوئی گناہوں کی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کروں؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کروں؟ ہے کوئی پکارنے والا کہ اس کی پکار کو قبول کروں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9591]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1145، م: 758
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1145، م: 758
حدیث نمبر: 9592 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَقَالَ:" فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا"، وَقَالَ فِيهِ:" حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ یہ طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9592]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، انظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9593 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْقَاسِمُ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ، خِيَارُهُمْ أَتْبَاعٌ لِخِيَارِهِمْ، وَشِرَارُهُمْ أَتْبَاعٌ لِشِرَارِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اس دین کے معاملے میں تمام لوگ قریش کے تابع ہیں اچھے لوگ اچھوں کے اور برے لوگ بروں کے تابع ہیں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9593]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3495، م: 1818
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3495، م: 1818
حدیث نمبر: 9594 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الْإِمَامُ الْكَذَّابُ، وَالشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْعَامِلُ الْمَزْهُوُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں جن پر اللہ قیامت کے دن نظر کرم نہ فرمائے گا جھوٹاحکمران، بڈھازانی، شیخی خورا فقیر۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9594]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، م: 107
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، م: 107
حدیث نمبر: 9595 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِيَنَّ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ" ، وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً:" أَوْ لِيَصْمُتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو نہ ستائے جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9595]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده جيد، خ: 6138، م: 47
الحكم: حديث صحيح، وإسناده جيد، خ: 6138، م: 47
حدیث نمبر: 9596 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَبُلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، وَلَا يَغْتَسِلْ فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے اور نہ ہی غسل جنابت۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9596]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 239، م: 282
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 239، م: 282
حدیث نمبر: 9597 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ بِيَدِهِ عَلَى نَفْسِهِ، إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو وجود عطاء کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9597]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3194، م: 2751، إسناده جيد، لكن قوله: « بيده » زيادة شاذة
الحكم: حديث صحيح، خ: 3194، م: 2751، إسناده جيد، لكن قوله: « بيده » زيادة شاذة
حدیث نمبر: 9598 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي، فَإِنِّي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ، اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي، وَأَنَا أَقْسِمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا نام اور کنیت اپنے اندر جمع نہ کرو (صرف نام رکھو یا صرف کنیت) کیونکہ میری کنیت ابوالقاسم ہے اللہ تعالیٰ عطاء فرماتے ہیں اور میں تقسیم کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9598]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 9599 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَافَرَ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی سفر پر جاتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی مشکلات واپسی کی پریشانیوں اور اپنے اہل خانہ اور مال میں برے منظر کے دیکھنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ آپ سفر میں میرے ساتھی اور اہل خانہ میں میرے جانشین ہیں، اے اللہ ہمارے لئے زمین کو لپیٹ دے اور ہم پر سفر کو آسان فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9599]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي