يَحْيَى ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ، وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِ اللَّيْلِ، فَإِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُ اللَّيْلِ، نَزَلَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا , فَقَالَ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ؟، هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ؟، هَلْ مِنْ تَائِبٍ فَأَتُوبَ عَلَيْهِ؟، هَلْ مِنْ دَاعٍ فَأُجِيبَهُ؟،" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا۔ کیونکہ تہائی یا نصف رات گذرنے کے بعد اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطاء کروں؟ ہے کوئی گناہوں کی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کروں؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کروں؟ ہے کوئی پکارنے والا کہ اس کی پکار کو قبول کروں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9591]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1145، م: 758
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1145، م: 758