بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 39 از 194
حدیث نمبر: 7879 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَجْلَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلَانَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ مِنْ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ بِأُصْبُعِهِ، إِلَّا مَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ، وَابْنَهَا عِيسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچہ کو شیطان کچوکے لگاتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7879]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3431، م: 2366.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3431، م: 2366.
حدیث نمبر: 7880 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، رَجُلٌ ، أَبِيهِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَرَأَى أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَسًا مِنْ رِقَاعٍ فِي يَدِ جَارِيَةٍ، فَقَالَ: أَلَا تَرَى هَذَا؟! قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَعْمَلُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک بچی کے ہاتھ میں کپڑے کا گھوڑا دیکھا تو فرمانے لگے اسے تو دیکھو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے یہ کام وہ کرتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7880]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الرجل الذي من قريش وأبيه، وهذا الخبر يخالف ما ثبت من حديث عائشة عند البخاري: 6130، ومسلم: 2440.
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الرجل الذي من قريش وأبيه، وهذا الخبر يخالف ما ثبت من حديث عائشة عند البخاري: 6130، ومسلم: 2440.
حدیث نمبر: 7881 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ النَّاسَ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ، وَيَقُولُ: " مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى الْقِيَامِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قیام رمضان کی ترغیب دیتے تھے لیکن پختہ حکم نہیں دیتے تھے اور فرماتے تھے جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو قیام پر جمع نہیں فرمایا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7881]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 37، م: 759.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 37، م: 759.
حدیث نمبر: 7882 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، أَيُّوبُ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" فُقِدَ سِبْطٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَذَكَرَ الْفَأْرَةَ، فَقَالَ: أَلَا تَرَى أَنَّكَ لَوْ أَدْنَيْتَ مِنْهَا لَبَنَ الْإِبِلِ لَمْ تَقْرَبْهُ؟ وَإِنْ قَرَّبْتَ إِلَيْهَا لَبَنَ الْغَنَمِ شَرِبَتْهُ؟" فَقَالَ: أَكَذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" أَفَأَقْرَأُ التَّوْرَاةَ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت گم ہوگئی کسی کو پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کہاں گئی؟ میرا تو خیال یہی ہے کہ وہ چوہا ہے کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتا ہے؟ اس پر کعب احبار رحمہ اللہ (جو نومسلم یہودی عالم تھے) کہنے لگے کہ کیا یہ حدیث آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے کہا کہ کیا میں تورات پڑھتا ہوں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7882]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997.
حدیث نمبر: 7883 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ هل سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الطِّيَرَةُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْمَسْكَنِ، وَالْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ"، قَالَ: قُلْتُ: إِذاً أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَصْدَقُ الطِّيَرَةِ الْفَأْلُ، وَالْعَيْنُ حَقٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدشگونی تین چیزوں میں ہوتی ہے گھر میں۔ گھوڑے میں۔ عورت میں انہوں نے فرمایا اگر میں اثبات میں اس کا جواب دوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ایسی بات کی نسبت کروں گا جو انہوں نے نہیں فرمائی البتہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے سچا شگون فال ہے اور نظر لگنا برحق ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7883]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 5755، م: 2187،2223، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر.
الحكم: صحيح، خ: 5755، م: 2187،2223، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر.
حدیث نمبر: 7884 مسند احمد
رَوْحٌ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، أَبَا الْغَادِيَةَ الْيَمَامِيَّ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، سَمِعْتُ أَبَا الْغَادِيَةَ الْيَمَامِيَّ ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، فَدَعَاهُمْ، فَمَا قَامَ إِلَّا أَبُو هُرَيْرَةَ وَخَمْسَةٌ معه، أَنَا أَحَدُهُمْ، فَذَهَبُوا فَأَكَلُوا، ثُمَّ جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَغَسَلَ يَدَهُ، ثُمَّ قَالَ:" وَاللَّهِ، يَا أَهْلَ الْمَسْجِدِ، إِنَّكُمْ لَعُصَاةٌ لِأَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوغادیہ یمامی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا وہاں کثیر بن صلت کا قاصد آگیا اس نے وہاں کے لوگوں کی دعوت کی لیکن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ پانچ دوسرے آدمیوں کے علاوہ جن میں سے ایک میں بھی تھا کوئی کھڑا نہ ہوا یہ حضرات چلے گئے اور اس کے یہاں کھانا تناول فرمایا پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آ کر ہاتھ دھوئے اور فرمایا بخدا! تم لوگ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نافرمان ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7884]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو غادية اليمامي، مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف، أبو غادية اليمامي، مجهول.
حدیث نمبر: 7885 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7885]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951.
حدیث نمبر: 7886 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَيْحَانُ، وَجَيْحَانُ، وَالنِّيلُ، وَالْفُرَاتُ، كُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی نے فرمایا دریائے فرات، دریائے نیل، دریائے جیحون، دریائے سیحون، یہ سب جنت کی نہریں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7886]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2839.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2839.
حدیث نمبر: 7887 مسند احمد
مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، ومحمدُ بن عمرو ، أبي سَلَمة ، أبي هريرة
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ومحمدُ بن عمرو ، عن أبي سَلَمة ، عن أبي هريرة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ نَبِيٍّ وَلَا خَلِيفَةٍ"، أَوْ قَالَ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ، بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا، وَمَنْ وُقِيَ شَرَّ بِطَانَةِ السُّوءِ فَقَدْ وُقِيَ، يَقُولُهَا ثَلَاثًا وَهُوَ مَعَ الْغَالِبَةِ عَلَيْهِ مِنْهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی نبی یا حکمران ایسا نہیں ہے کہ اس کے دو قسم کے مشیر نہ ہوں ایک گروہ اسے نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے اور دوسرا گروہ (اس کی بدنصیبی میں اپنا کردار ادا کرنے میں) کوئی کسر نہیں چھوڑتا جو اس برے گروہ کے شر سے بچ گیا وہ محفوظ رہا (تین مرتبہ فرمایا) ورنہ جو گروہ اس پر غالب آگیا اس کا شمار انہی میں ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7887]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ لكنه متابع.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ لكنه متابع.
حدیث نمبر: 7888 مسند احمد
عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَنْشَقَ أَدْخَلَ الْمَاءَ مَنْخِرَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ناک میں پانی ڈالتے تو ناک کے نتھنوں میں پانی داخل کرتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7888]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 162، م: 237.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 162، م: 237.
حدیث نمبر: 7889 مسند احمد
عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُرَّةَ ، حَكِيمِ بْنِ أَبِي حُرَّةَ ، سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُرَّةَ ، عَنْ عَمِّهِ حَكِيمِ بْنِ أَبِي حُرَّةَ ، عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِلطَّاعِمِ الشَّاكِرِ، مِثْلُ مَا لِلصَّائِمِ الصَّابِرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھا کر شکر کرنے والے کا ثواب روزہ رکھ کر صبر کرنے والے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7889]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7890 مسند احمد
عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، سُلَيْمَانُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا يَنْبَغِي لِذِي الْوَجْهَيْنِ أَنْ يَكُونَ أَمِينًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی دوغلے آدمی کا امین ہونا ممکن نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7890]
حکم دارالسلام
حديث قوي، وإسناده هنا منقطع، عبيدالله لم يسمع من أبي هريرة.
الحكم: حديث قوي، وإسناده هنا منقطع، عبيدالله لم يسمع من أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7891 مسند احمد
أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ ، طَيِّبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ ، عَنْ طَيِّبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ، الْمُتَشَبِّهِينَ بِالرِّجَالِ، وَالْمُتَبَتِّلِينَ مِنَ الرِّجَالِ، الَّذِينَ يَقُولُونَ: لَا نَتَزَوَّجُ، وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ، اللَّائِي يَقُلْنَ ذَلِكَ، وَرَاكِبَ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى اسْتَبَانَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ، وَقَالَ: الْبَائِتُ وَحْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر گوشہ نشین مردوں پر جو یہ کہیں کہ وہ شادی نہیں کریں گے اور گوشہ نشین عورتوں پر جو یہی بات کہیں اور جنگل میں تنہا سفر کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے صحابہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات اتنی محسوس ہوئی کہ اس کے آثار ان کے چہروں سے ظاہر ہونے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اکیلے رات گذارنے والے کا بھی ذکر فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7891]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: «لعنة راكب الفلاة والبائت وحده» ، وإسناده ضعيف لجهالة طيب.
الحكم: صحيح دون قوله: «لعنة راكب الفلاة والبائت وحده» ، وإسناده ضعيف لجهالة طيب.
حدیث نمبر: 7892 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذَوَيْهِ ، مَنْ ، وَهْبًا ، هَمَّامًا ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذَوَيْهِ ، أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ وَهْبًا يَقُولُ: أَخْبَرَنِي، يَعْنِي هَمَّامًا ، قال عبد الله بن أحمد: كَذَا قَالَ أَبِي، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ يَنْتَظِرُ الَّتِي بَعْدَهَا، وَلَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَسْجِدِهِ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، مَا لَمْ يُحْدِثْ" . قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ حَضْرَمَوْتَ: وَمَا ذَلِكَ الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ: إِنْ فَسَا أَوْ ضَرَطَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فر شتے اس کے لئے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ بےوضو نہ ہوجائے اس پر حضرموت کے ایک آدمی نے پوچھا اے ابوہریرہ بےوضو ہونے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا اس کی ہوا خارج ہوجائے یا زور سے آواز نکلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7892]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 477، م: 649، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن وهب.
الحكم: حديث صحيح، خ: 477، م: 649، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن وهب.
حدیث نمبر: 7893 مسند احمد
مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ
رقم الحديث: 7694 حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، اسْتَأْذَنَ عَلَى سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَبَّحَ لِي، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ إِذْنَ الرَّجُلِ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ أَنْ يُسَبِّحَ، وَإِنَّ إِذْنَ الْمَرْأَةِ أَنْ تُصَفِّقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن کیسان رحمہ اللہ ایک مرتبہ نماز پڑہ رہے تھے کہ سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ نے اندر آنے کی اجازت چاہی انہوں نے سبحان اللہ کہہ دیا سلام پھیرنے کے بعد وہ کہنے لگے اگر مرد نماز پڑھ رہاہو تو اس کی طرف سے سبحان اللہ کہنے کو اجازت سمجھنا چاہئے اور عورت کا تالی بجانا اس کی طرف سے اجازت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7893]
حکم دارالسلام
هذا أثر عن سالم بن أبي الجعد، وليس بحديث، وإسناده إليه صحيح، وانظر مابعده.
الحكم: هذا أثر عن سالم بن أبي الجعد، وليس بحديث، وإسناده إليه صحيح، وانظر مابعده.
حدیث نمبر: 7894 مسند احمد
مَرْوَانُ ، عَوْفٌ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7894]
حکم دارالسلام
هذا مرسل لأن الحسن تابعي، وانظر مابعده.
الحكم: هذا مرسل لأن الحسن تابعي، وانظر مابعده.
حدیث نمبر: 7895 مسند احمد
مَرْوَانُ ، عَوْفٌ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، أَخْبَرَنِي عَوْفٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7895]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422.
حدیث نمبر: 7896 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ، يُحِبُّ الْوِتْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7896]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6410، م: 2677.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6410، م: 2677.
حدیث نمبر: 7897 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نُهِيَ عَنِ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ" . قَالَ: قُلْنَا لِهِشَامٍ: مَا الِاخْتِصَارُ؟ قَالَ: يَضَعُ يَدَهُ عَلَى خَصْرِهِ وَهُوَ يُصَلِّي. قَالَ يَزِيدُ: قُلْنَا لِهِشَامٍ: ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ بِرَأْسِهِ، أَيْ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7897]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1220، م: 545.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1220، م: 545.
حدیث نمبر: 7898 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ إِذَا أَمْسَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ تَضُرَّهُ حُمَةٌ تِلْكَ اللَّيْلَةَ" . قَالَ: فَكَانَ أَهْلُنَا قَدْ تَعَلَّمُوهَا، فَكَانُوا يَقُولُونَهَا، فَلُدِغَتْ جَارِيَةٌ مِنْهُمْ، فَلَمْ تَجِدْ لَهَا وَجَعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص شام ہونے پر تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق۔ اس رات اسے کوئی زہریلی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی ہمارے اہل خانہ نے اس دعا کو سیکھ رکھا تھا اور وہ دعا کو پڑھتے تھے اتفاق سے ایک مرتبہ ہماری ایک بچی کو کسی چیز نے ڈس لیا لیکن اسے کسی قسم کا کوئی درد محسوس نہ ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7898]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2709.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2709.