خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ هل سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الطِّيَرَةُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْمَسْكَنِ، وَالْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ"، قَالَ: قُلْتُ: إِذاً أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَصْدَقُ الطِّيَرَةِ الْفَأْلُ، وَالْعَيْنُ حَقٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدشگونی تین چیزوں میں ہوتی ہے گھر میں۔ گھوڑے میں۔ عورت میں انہوں نے فرمایا اگر میں اثبات میں اس کا جواب دوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ایسی بات کی نسبت کروں گا جو انہوں نے نہیں فرمائی البتہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے سچا شگون فال ہے اور نظر لگنا برحق ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7883]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 5755، م: 2187،2223، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر.
الحكم: صحيح، خ: 5755، م: 2187،2223، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر.