بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 76 از 194
حدیث نمبر: 8620 مسند احمد
سُرَيْجٌ يَعْنِي ابْنَ النُّعْمَانِ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، أَبِي وَهْبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ يَعْنِي ابْنَ النُّعْمَانِ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال:" حُرِّمَتْ الْخَمْرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَيَأْكُلُونَ الْمَيْسِرَ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا سورة البقرة آية 219 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ النَّاسُ: مَا حَرَّمَ عَلَيْنَا، إِنَّمَا قَالَ: فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ سورة البقرة آية 219 وَكَانُوا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمٌ مِنَ الْأَيَّامِ، صَلَّى رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، أَمَّ أَصْحَابَهُ فِي الْمَغْرِب، خَلَطَ فِي قِرَاءَتِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهَا آيَةً أَغْلَظَ مِنْهَا: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ سورة النساء آية 43، وَكَانَ النَّاسُ يَشْرَبُونَ حَتَّى يَأْتِيَ أَحَدُهُمْ الصَّلَاةَ وَهُوَ مُفِيقٌ، ثُمَّ أُنْزِلَتْ آيَةٌ أَغْلَظُ مِنْ ذَلِكَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ سورة المائدة آية 90، فَقَالُوا: انْتَهَيْنَا رَبَّنَا، فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَاسٌ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ، كَانُوا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَيَأْكُلُونَ الْمَيْسِر، وَقَدْ جَعَلَهُ اللَّهُ رِجْسًا َمِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا سورة المائدة آية 93 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ لَتَرَكُوهَا كَمَا تَرَكْتُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شراب کی حرمت تین مختلف درجوں میں ہوئی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ شراب بھی پیتے تھے اور جوئے کا پیسہ بھی کھاتے تھے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان چیزوں کے متعلق سوال کیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ یہ لوگ شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ ان دونوں میں گناہ بہت زیادہ ہے اور لوگوں کے کچھ منافع بھی ہیں لوگ کہنے لگے کہ اس آیت میں شراب حرام تو نہیں قرار دی گئی اس میں تو اللہ نے صرف یہ فرمایا: ہے کہ ان میں گناہ بہت زیادہ ہے چنانچہ شراب پیتے رہے۔ حتیٰ کہ ایک دن مہاجرین میں سے ایک صحابی نے مغرب کی نماز میں لوگوں کی امامت کی تو (نشے کی وجہ سے) انہیں قرأت میں اشتباہ ہوگیا اس پر اللہ نے پہلے سے زیادہ سخت آیت نازل فرمائی کہ اے اہل ایمان نشے کی حالت میں نماز کے قریب بھی نہ جایا کرو تاآنکہ تمہیں یہ سمجھ آنے لگے کہ تم کیا کہہ رہے ہو لوگ پھر بھی شراب پیتے رہے البتہ نماز کے لئے اس وقت آتے جب اپنے ہوش و حواس میں ہوتے اس کے بعد تیسرے درجے میں اس سے بھی زیادہ سخت آیت نازل ہوئی کہ اے اہل ایمان شراب جوا بت اور پانسے کے تیر گندی چیزیں اور شیطانی کام ہیں ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اس آیت کے نازل ہونے پر لوگ کہنے لگے کہ پروردگار اب ہم باز آگئے پھر کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کچھ لوگ جو اللہ کے راستہ میں شہید ہوئے یا طبعی طور پر فوت ہوگئے اور وہ شراب بھی پیتے تھے اور جوئے کا پیسہ بھی کھاتے تھے (ان کا کیا بنے گا) جبکہ اللہ نے ان چیزوں کو گندگی اور شیطانی کام قرار دے دیا ہے؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ان کے لئے ان چیزوں میں کوئی حرج نہیں جو وہ پہلے کھاچکے بشرطیکہ اب متقی اور ایمان والے رہیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر ان کی موجودگی میں شراب حرام ہوتی تو وہ بھی تمہاری طرح اسے چھوڑ ہی دیتے (اس لئے گھبرانے کی کوئی بات نہیں) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8620]
حکم دارالسلام
حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف أبي معشر
الحكم: حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف أبي معشر
حدیث نمبر: 8621 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ وَعَلَيْهِ مِنْ رَمَضَانَ شَيْءٌ لَمْ يَقْضِهِ، لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنْهُ، وَمَنْ صَامَ تَطَوُّعًا، وَعَلَيْهِ مِنْ رَمَضَانَ شَيْءٌ لَمْ يَقْضِهِ، فَإِنَّهُ لَا يُتَقَبَّلُ مِنْهُ حَتَّى يَصُومَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ماہ رمضان کو پائے اور اس پر گزشتہ رمضان کے کچھ روزے واجب ہوں جہنیں اس نے قضاء نہ کیا ہو تو اس کا موجودہ روزہ قبول نہ ہوگا اور جو شخص نفلی روزے رکھنا شروع کردے جبکہ اس کے ذمے رمضان کے کچھ روزے واجب ہوں جن کی قضاء نہ کرسکا تو اس کا وہ نفلی روزہ قبول نہ ہوگا تاآنکہ وہ فرض روزے مکمل کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8621]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ
الحكم: إسنادہ ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ
حدیث نمبر: 8622 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، ابْنُ الْهَادِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَنْثِرْ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيَاشِيمِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کہ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے تو ناک کو اچھی طرح صاف کرلے کیونکہ شیطان اس کی ناک کے بانسے پر رات گذارتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8622]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 3295 ، م : 238 ، وھذا إسناد ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ ، وھو متابع
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 3295 ، م : 238 ، وھذا إسناد ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ ، وھو متابع
حدیث نمبر: 8623 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ، أَبِي تَمِيمٍ الزُّهْرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الَّتِي أُقِيمَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اقامت ہونے کے بعد وقتی فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8623]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ ، و أبو تمیم مجھول ، وقد صح الحدیث بلفظ : «... فلا صلاۃ إلا المکتوبة» ، م : 710
الحكم: إسنادہ ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ ، و أبو تمیم مجھول ، وقد صح الحدیث بلفظ : «... فلا صلاۃ إلا المکتوبة» ، م : 710
حدیث نمبر: 8624 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ ، عَلِيَّ بْنَ خَالِدٍ الدُّؤَلِيَّ ، النَّضْرَ بْنَ سُفْيَانَ الدُّؤَلِيَّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وقَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ خَالِدٍ الدُّؤَلِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّضْرَ بْنَ سُفْيَانَ الدُّؤَلِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَلَعَاتِ الْيَمَنِ، فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي، فَلَمَّا سَكَت، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ هَذَا يَقِينًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ یمن کے کسی بالائی حصے میں تھے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان دینے کے لئے کھڑے ہوئے جب وہ اذان دے کر خاموش ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بلال کے کہے ہوئے کلمات کی طرح یقین قلب کے ساتھ یہ کلمات کہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8624]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد محتمل للتحسین
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد محتمل للتحسین
حدیث نمبر: 8625 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، نَافِعِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مُنْتَظِرُ الصَّلَاةِ مِنْ بَعْدِ الصَّلَاة، كَفَارِسٍ اشْتَدَّ بِهِ فَرَسُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى كَشْحِهِ، تُصَلِّي عَلَيْهِ مَلَائِكَةُ اللَّهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ أَوْ يَقُومُ، وَهُوَ فِي الرِّبَاطِ الْأَكْبَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے والا آدمی اس مجاہد کی طرح ہوتا ہے جس کا گھوڑا اللہ کے راستہ میں اپنے پہلو پر تیار کھڑا ہو اس کے لئے اللہ کے فرشتے اس وقت تک دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ بےوضو نہ ہوجائے یا وہاں سے کھڑا نہ ہوجائے اور وہ رباط اکبر سب سے اہم چوکیداری میں شمار ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8625]
حکم دارالسلام
إسنادہ حسن
الحكم: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8626 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّب ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّب ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّا نَكُونُ بِهَذَا الرَّمْلِ، فَلَا نَجِدُ الْمَاء، وَيَكُونُ فِينَا الْحَائِضُ وَالْجُنُبُ وَالنُّفَسَاءُ، فَيَأْتِي عَلَيْهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ لَا تَجِدُ الْمَاءَ! قَالَ:" عَلَيْكَ بِالتُّرَابِ" ، يَعْنِي التَّيَمُّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں چار پانچ مہینے تک مسلسل صحرائی علاقوں میں رہتا ہوں ہم میں حیض و نفاس والی عورتیں اور جنبی مرد بھی ہوتے ہیں (پانی نہیں ملتا) تو آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا: مٹی کو اپنے اوپر لازم کرلو (یعنی تیمم کرلیا کرو) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8626]
حکم دارالسلام
حدیث حسن ، وھذا إسناد ضعیف لأجل المثنی
الحكم: حدیث حسن ، وھذا إسناد ضعیف لأجل المثنی
حدیث نمبر: 8627 مسند احمد
أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ الرَّاسِبِيُّ ، هِشَامٌ ، عَبَّادِ بْنِ أَبِي عَلِيٍّ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ الرَّاسِبِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أنه قَالَ: " وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ، وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ، وَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ، لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ ذَوَائِبَهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا، يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَلَمْ يَكُونُوا عَمِلُوا عَلَى شَيْءٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: امراء چوہدریوں اور حکومتی اہلکاروں کے لئے ہلاکت ہے یہ لوگ قیامت کے دن تمنا کریں گے کہ ان کی چوٹیاں ثریا ستارے سے لٹکی ہوتیں اور یہ آسمان و زمین کے درمیان تذبذب کا شکار ہوتے لیکن کسی ذمہ داری پر کام نہ کیا ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8627]
حکم دارالسلام
إسنادہ حسن
الحكم: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8628 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، الْمُهَاجِرِ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِتَمَرَاتٍ، فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، قَالَ: فَصَفَّهُنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ دَعَا , فَقَالَ لِي: " اجْعَلْهُنَّ فِي مِزْوَدٍ، فأَدْخِلْ يَدَكَ وَلَا تَنْثُرْهُ"، قَالَ: فَحَمَلْتُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا وَسْقًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَنَأْكُلُ وَنُطْعِمُ، وَكَانَ لَا يُفَارِقُ حَقْوِي، فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، انْقَطَعَ عَنْ حَقْوِي فَسَقَطَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں کچھ کھجوریں لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ ان میں برکت کی دعاء کردیجئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بکھیر کر اپنے ہاتھ پر رکھا اور دعاء کرکے فرمایا: کہ انہیں اپنے توشہ دان میں ڈال لو اور ہاتھ ڈال کر اس میں کھجوریں نکالتے رہنا اسے الٹا کرکے جھاڑنا نہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس میں سے کتنے ہی وسق نکال نکال کر اللہ کے راستہ میں دئیے ہم خود بھی کھاتے کھلاتے رہے اور میں اس تھیلی کو اپنے سے کبھی جدا نہ کرتا تھا لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد وہ کہیں گر کر گم ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8628]
حکم دارالسلام
إسنادہ حسن
الحكم: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8629 مسند احمد
حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عُمَرَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يعني ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يعني ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ مِنْ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا لبیک الہ الحق۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8629]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8630 مسند احمد
حُجَيْن بن المثُنى أَبُو عُمَرَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، مَنْصُورِ بْنِ أُذَيْنٍ ، مَكْحُولٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حُجَيْن بن المثُنى أَبُو عُمَرَ ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أُذَيْنٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيمَانَ كُلَّهُ، حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ فِي الْمُزَاحَةِ، وَيَتْرُكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک مذاق میں بھی جھوٹ بولنا چھوڑ نہ دے اور سچا ہونے کے باوجود جھگڑا ختم نہ کردے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8630]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف ، مکحول لم یسمع من أبي ھریرۃ ، و منصور مجھول
الحكم: إسنادہ ضعیف ، مکحول لم یسمع من أبي ھریرۃ ، و منصور مجھول
حدیث نمبر: 8631 مسند احمد
حُجَيْنٌ بن المثنى ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ بن المثنى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَإِذَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، قَالَ لَهُ أَخُوه: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَإِذَا قِيلَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَلْيَقُلْ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ، وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ الحمدللہ کہے۔ دوسرا مسلمان بھائی اس کی الحمدللہ سن کر اسے یرحمک اللہ کہے پھر چھینکنے والا یھدیکم اللہ و یصلح بالکم کہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8631]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 6224
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 6224
حدیث نمبر: 8632 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ الشُّرْبِ مِنْ فَمِ السِّقَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا: ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8632]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 5628
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 5628
حدیث نمبر: 8633 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، الْعَبَّاسِ بْنِ فَرُّوخَ الْجُرَيْرِيِّ ، أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِي ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ فَرُّوخَ الْجُرَيْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِي ، يَقُولُ: تَضَيَّفْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَبْعًا، فَكَانَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَخَادِمُهُ يَعْتَقِبُونَ اللَّيْلَ أَثْلَاثًا، يُصَلِّي هَذَا، ثُمَّ يُوقِظُ هَذَا، وَيُصَلِّي هَذَا، ثُمَّ يَرْقُدُ، وَيُوقِظُ هَذَا، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ تَصُومُ؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا، فَأَصُومُ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ ثَلَاثًا، فَإِنْ حَدَثَ لِي حَادِثٌ، كَانَ آخِرُ شَهْرِي . قَالَ: قَالَ: وَسَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا، فَأَصَابَنِي سَبْعُ تَمَرَاتٍ، إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ، وَمَا فِيهِنَّ شَيْءٌ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْهَا، أَنَّهَا شَدَّتْ مَضَاغِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سات دن تک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں مہمان رہا انہوں نے اپنی بیوی اور خادم کے ساتھ رات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا پہلے ایک آدمی نماز پڑھتا پھر وہ دوسرے کو جگا دیتا وہ نماز پڑھ لیتا تو تیسرے کو جگا دیتا ایک دن میں نے پوچھا اے ابوہریرہ! آپ روزہ کس ترتیب سے رکھتے ہیں؟ فرمایا: کہ میں تو مہینے کے آغاز میں ہی تین روزے رکھ لیتا ہوں اور اگر کوئی مجبوری پیش آجائے تو مہینے کے آخر میں رکھ لیتا ہوں اور میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ کھجوریں تقسیم فرمائیں مجھے سات کھجوریں ملیں جن میں سے ایک کھجور گدر بھی تھی میرے نزدیک وہ ان میں سب میں سے زیادہ عمدہ تھی کہ اسے سختی سے مجھے چبانا پڑ رہا تھا (اور میرے مسوڑھے اور دانت حرکت کر رہے تھے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8633]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 5441
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 5441
حدیث نمبر: 8634 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ أَوْ رَجُلًا كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ، ففقده رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَاتَ، فَقَالَ: " أَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي بِهِ!" قَالُوا: إِنَّهُ كَانَ لَيْلًا، قَالَ: فَقَالَ:" دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ" فَدَلُّوهُ، فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام عورت یا مرد مسجد نبوی کی خدمت کرتا تھا (مسجد میں جھاڑو دے کر صفائی ستھرائی کا خیال رکھتا تھا) ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہ نظر نہ آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ تو فوت ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ ایک عام آدمی تھا (اس لئے آپ کو زحمت دینا مناسب نہ سمجھا) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی قبر بتاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بتادی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی قبر پر جا کر اس کے لئے دعاء مغفرت کی [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8634]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 458 ، م : 956
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 458 ، م : 956
حدیث نمبر: 8635 مسند احمد
يُونُسُ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (یوم النحر سے اگلے دن گیارہ ذی الحجہ کو جبکہ ابھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منیٰ ہی میں تھے) فرمایا: کہ کل ہم (ان شاء اللہ) خیف بنی کنانہ جہاں قریش نے کفر پر قسمیں کھائی تھیں میں پڑاؤ کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8635]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1590 ، م : 1314
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1590 ، م : 1314
حدیث نمبر: 8636 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ تطلب ميراثها من رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا لَهَا: إنا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنِّي لَا أُوَرَّثُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی میراث طلب کرنے آئیں تو ان دونوں نے فرمایا: کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میری وراثت میرے مال میں جاری نہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8636]
حکم دارالسلام
إسنادہ حسن
الحكم: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8637 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجْتَمِعُ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ، مُؤْمِنٌ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ بَعْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ مسلمان جہنم میں دوسرے کے ساتھ اسی طرح اکٹھا نہیں ہوگا کہ کسی کے لئے نقصان دہ ہو جو کسی کافر کو قتل کرے اور اس کے بعد سیدھا راستہ اختیار کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8637]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 1891
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 1891
حدیث نمبر: 8638 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أَلْجَمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8638]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8639 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الَّذِي يَجْلِسُ فَيَسْمَعُ الْحِكْمَةَ، ثُمَّ لَا يُحَدِّثُ عَنْ صَاحِبِهِ إِلَّا بِشَرِّ مَا سَمِعَ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى رَاعِيًا، فَقَالَ: يَا رَاعِيَ، اجْزُرْ لِي شَاةً مِنْ غَنَمِكَ، قَالَ: اذْهَبْ فَخُذْ بِأُذُنِ خَيْرِهَا، فَذَهَبَ فَأَخَذَ بِأُذُنِ كَلْبِ الْغَنَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو کسی مجلس میں شریک ہو اور وہاں حکمت کی باتیں سنے لیکن اپنے ساتھی کو اس میں سے چن چن کر غلط باتیں ہی سنائے اس شخص کی سی ہے جو کسی چرواہے کے پاس آئے اور اس سے کہا کہ اے چرواہے! اپنے ریوڑ میں سے ایک بکری میرے لئے ذبح کردے وہ اسے جواب دے کہ جا کر ان میں سے جو سب سے بہتر ہو اس کا کان پکڑ کرلے آؤ اور وہ جا کر ریوڑ کے کتے کا کان پکڑ کرلے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8639]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لضعف علي ، ولجھالة أوس
الحكم: إسنادہ ضعیف لضعف علي ، ولجھالة أوس