يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ أَوْ رَجُلًا كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ، ففقده رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَاتَ، فَقَالَ: " أَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي بِهِ!" قَالُوا: إِنَّهُ كَانَ لَيْلًا، قَالَ: فَقَالَ:" دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ" فَدَلُّوهُ، فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام عورت یا مرد مسجد نبوی کی خدمت کرتا تھا (مسجد میں جھاڑو دے کر صفائی ستھرائی کا خیال رکھتا تھا) ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہ نظر نہ آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ تو فوت ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ ایک عام آدمی تھا (اس لئے آپ کو زحمت دینا مناسب نہ سمجھا) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی قبر بتاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بتادی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی قبر پر جا کر اس کے لئے دعاء مغفرت کی [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8634]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 458 ، م : 956
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 458 ، م : 956