بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 174 از 194
حدیث نمبر: 10580 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عن النبي صلي الله عليه وسلم قََالَ: " إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عَلَيْهِ الَسَلاَّم قََالَ: أَطُوفُ اللَّيْلَةَ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ , فَتَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يَضْرِبُ بِالسَّيْفِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَمْ يَسْتَثْنِ , قََالَ: فَطَافَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ , فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ غَيْرُ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ , وَلَدَتْ نِصْفَ إِنْسَانٍ" , قََالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ أَنَّهُ كَانَ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَوَلَدَتْ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يَضْرِبُ بِالسَّيْفِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان نے فرمایا آج رات میں سو عورتوں کے پاس چکر لگاؤں گا۔ ان میں سے ہر ایک عورت کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ اس موقع پر وہ ان شاء اللہ کہنا بھول گئے چنانچہ ان کی بیویوں میں سے صرف ایک بیوی کے یہاں ایک نامکمل بچہ پیدا ہوا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ ان شاء اللہ کہہ لیتے تو ان کے یہاں حقیقتا سو بیٹے پیدا ہوتے اور وہ سب کے سب اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10580]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2819، م: 1654
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2819، م: 1654
حدیث نمبر: 10581 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا , تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مغرب سے سورج نکلنے کا واقعہ پیش آنے سے قبل جو شخص بھی توبہ کرلے اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10581]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4635، م: 157
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4635، م: 157
حدیث نمبر: 10582 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامُ ، وَرَوْحٌ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ . وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ , وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی بدشگونی کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور بہترین فال اچھی چیز ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10582]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده جيد، م: 1611
الحكم: صحيح، وإسناده جيد، م: 1611
حدیث نمبر: 10583 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ، قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنَ الْعَطَشِ، فَنَزَعَتْ مُوقَهَا، فَغُفِرَ لَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک فاحشہ عورت نے سخت گرمی کے ایک دن میں ایک کتے کو ایک کنوئیں کے چکر کاٹتے ہوئے دیکھا جس کی زبان پیاس کی وجہ سے لٹک چکی تھی اس نے موزے کو اتار کر اس میں پانی بھر کر اسے پلادیا اور اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10583]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3321، م: 2245
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3321، م: 2245
حدیث نمبر: 10584 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلَمْ تَدَعْهَا تُصِيبُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، وَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا حَتَّى مَاتَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10584]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243
حدیث نمبر: 10585 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ , فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيَصِلْ , وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے نہ ہو تو اسے کھالینا چاہئے اور اگر روزے سے ہو تو ان کے حق میں دعا کرنی چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10585]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1431
الحكم: إسناده صحيح، م: 1431
حدیث نمبر: 10586 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قََالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ اشْتَرَى مُصَرَّاةً، فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ , فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ , لَا سَمْرَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہوکر) ایسی بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10586]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
حدیث نمبر: 10587 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَهِيمَةُ عَقْلُهَا جُبَارٌ , وَالْمَعْدِنُ عَقْلُهَا جُبَارٌ , وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10587]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 10588 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اخْتَصَمَتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ , فَقَالَتْ الْجَنَّةُ: أَيْ رَبِّ مَا لَهَا يَدْخُلُهَا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ؟! وَقَالَتْ النَّارُ: يَا رَبِّ مَا لَهَا يَدْخُلُهَا الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ؟! قَالَ لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ , وَقَالَ لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ مِنْكِ مَنْ أَشَاءُ , وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُنَّ مِلْؤُهَا , قَالَ: فَأَمَّا الْجَنَّةُ , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَظْلِمُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا , وَإِنَّهَا يُنْشَأُ لَهَا مِنْ خَلْقِهِ مَا شَاءَ , وَأَمَّا النَّارُ , فَيُلْقَوْنَ فِيهَا , وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ , وَيُلْقَوْنَ فِيهَا , وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ , حَتَّى يَضَعَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا قَدَمَهُ , فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ , وَتَقُولُ: قَطْ قَطْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا جنت کہنے لگی کہ پروردگار میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے؟ اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعے رحم کروں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا چنانچہ جنت کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا اور جہنم کے اندر جتنے لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا جہنم یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے پاؤں کو اس میں رکھ دیں گے اس وقت جہنم بھر جائے گی اور اس کے اجزاء سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی بس۔ بس بس۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10588]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4849، م: 2846
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4849، م: 2846
حدیث نمبر: 10589 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ , فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي طَهُورِهِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا فَيَغْسِلَهَا , فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10589]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 162، م: 278
الحكم: إسناده صحيح، خ: 162، م: 278
حدیث نمبر: 10590 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ , لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ تَكْذِبُ , وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا , وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ" , قَالَ: وَقَالَ:" الرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ فَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَالرُّؤْيَا تَحْزِينًا مِنَ الشَّيْطَانِ , وَالرُّؤْيَا مِنَ الشَّيْءِ يُحَدِّثُ بِهِ الْإِنْسَانُ نَفْسَهُ , فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ , فَلَا يُحَدِّثْهُ أَحَدًا , وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ" , قَالَ: وَأُحِبُّ الْقَيْدَ فِي النَّوْمِ , وَأَكْرَهُ الْغُلَّ , الْقَيْدُ: ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آخرزمانے میں مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہوا کرے گا اور تم میں سے سب سے زیادہ سچاخواب اسی کا ہوگا جو بات کا سچا ہوگا اور مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزء ہے اور خواب کی تین قسمیں ہیں اچھے خواب تو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتے ہیں بعض خواب انسان کا تخیل ہوتے ہیں اور بعض خواب شیطان کی طرف سے انسان کو غمگین کرنے کے لئے ہوتے ہیں جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنا شروع کردے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خواب میں " قید " کا دکھائی دینا پسند ہے لیکن " بیڑی " ناپسند ہے کیونکہ قید کی تعبیر دین میں ثابت قدمی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10590]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7017، م: 2263
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7017، م: 2263
حدیث نمبر: 10591 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ، فِي الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ امام کے بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہے اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10591]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422
حدیث نمبر: 10592 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَنْبَأَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْحَرِّ , فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّم" , أَوْ" مِنْ فَيْحِ أَبْوَابِ جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10592]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 533، م: 615
الحكم: إسناده صحيح، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 10593 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: كُنَّا عِنْدَهُ فَإِمَّا تَفَاخَرُوا، وَإِمَّا تَذَاكَرُوا، فَقَالَ: الرِّجَالُ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ مِنَ النِّسَاءِ , فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَوَلَمْ يَقُلْ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي تَدْخُلُ الْجَنَّةَ , وُجُوهُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ , وَالزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ , لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ , يُرَى مُخُّ سُوقَيْهِمَا مِنْ وَرَاءِ الْحُلَلِ , وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , مَا فِيهَا مِنْ أَعْزَبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے اس بات پر آپس میں جھگڑا کیا کہ جنت میں مردوں کی تعداد زیادہ ہوگی یا عورتوں کی؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہنے لگے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہروں والا ہوگا اس کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے باہر سے نظر آجائے گا اور جنت میں کوئی شخص کنوارہ نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10593]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3254، م:2834
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3254، م:2834
حدیث نمبر: 10594 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , قََالَ: قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " الْفَأْرُ مِمَّا مُسِخَ، وَسَأُنَبِّئُكُمْ بِآيَةِ ذَلِكَ إِذَا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهَا لَبَنُ اللِّقَاحِ، لَمْ تُصِبْ مِنْهُ، وَإِذَا وُضِعَ لَبَنُ الْغَنَمِ"، قَالَ: فَقَالَ لَهُ كَعْبٌ: أَقَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ" أَفأُنْزِلَتْ عَلَيَّ التَّوْرَاةُ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چوہا ایک مسخ شدہ قوم ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتا ہے۔ کعب احبار رحمہ اللہ (جو نومسلم یہودی عالم تھے) کہنے لگے کہ کیا یہ حدیث آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے کہا کہ کیا مجھ پر تورات نازل ہوئی ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10594]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997
حدیث نمبر: 10595 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءٍ , غُسِلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ , أَوَّلُهَا بِالتُّرَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار دے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے اور پہلی مرتبہ مٹی سے مانجھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10595]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 172، م: 279
الحكم: إسناده صحيح، خ: 172، م: 279
حدیث نمبر: 10596 مسند احمد
يَزِيدُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " مَنْ أَفْلَسَ بِمَالِ قَوْمٍ، فَرَأَى رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10596]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559، وسعيد بن أبى عروبة رواية یزید عنہ قبل اختلاط،ثم ھو متابع
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559، وسعيد بن أبى عروبة رواية یزید عنہ قبل اختلاط،ثم ھو متابع
حدیث نمبر: 10597 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، الْحَجَّاجُ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ كَتَمَ عِلْمًا يَعْلَمُهُ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَجَّمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10597]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10598 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْبَرَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْبَرَاءُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" الضُّعَفَاءُ الْمَظْلُومُونَ، قَالَ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟" , قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" كُلُّ شَدِيدٍ جَعْظَرِيٍّ هُمْ الَّذِينَ لَا يَأْلَمُونَ رُءُوسَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ جنتی کمزور اور مظلوم لوگ ہوں گے کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ جہنمی ہر بیوقوف اور متکبر آدمی ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10598]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، دون قوله: «هم الذين لا يألمون رؤوسهم» ، وهذه زيادة منكرة، فقد تفرد بها البراء ، وهو ضعيف
الحكم: صحيح لغيره، دون قوله: «هم الذين لا يألمون رؤوسهم» ، وهذه زيادة منكرة، فقد تفرد بها البراء ، وهو ضعيف
حدیث نمبر: 10599 مسند احمد
يَزِيدُ ، زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَزَالُ نَفْسُ ابْنِ آدَمَ مُعَلَّقَةً بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی جان اس وقت تک لٹکی رہتی ہے جب تک کہ اس پر قرض موجود ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10599]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح إن ثبت سماع سعد لهذا الحديث من أبى سلمة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح إن ثبت سماع سعد لهذا الحديث من أبى سلمة