يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: كُنَّا عِنْدَهُ فَإِمَّا تَفَاخَرُوا، وَإِمَّا تَذَاكَرُوا، فَقَالَ: الرِّجَالُ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ مِنَ النِّسَاءِ , فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَوَلَمْ يَقُلْ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي تَدْخُلُ الْجَنَّةَ , وُجُوهُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ , وَالزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ , لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ , يُرَى مُخُّ سُوقَيْهِمَا مِنْ وَرَاءِ الْحُلَلِ , وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , مَا فِيهَا مِنْ أَعْزَبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے اس بات پر آپس میں جھگڑا کیا کہ جنت میں مردوں کی تعداد زیادہ ہوگی یا عورتوں کی؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہنے لگے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہروں والا ہوگا اس کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے باہر سے نظر آجائے گا اور جنت میں کوئی شخص کنوارہ نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10593]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3254، م:2834
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3254، م:2834