بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 104 از 194
حدیث نمبر: 9180 مسند احمد
عَبْدَةُ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9180]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وأنظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وأنظر ما قبله
حدیث نمبر: 9181 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9181]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1220، م: 545
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1220، م: 545
حدیث نمبر: 9182 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلْيَفْتَتِحْ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تہجد کی نماز کے لئے اٹھے تو اسے چاہئے کہ اس کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9182]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 768
الحكم: إسناده صحيح، م: 768
حدیث نمبر: 9183 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ أَبُو الزِّنَادِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ سَجْدَةً، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ، وَمَنْ أَدْرَكَ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ سَجْدَةً، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9183]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 556، م: 608
الحكم: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608
حدیث نمبر: 9184 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، فَأَطْعَمَهُ طَعَامًا , فَلْيَأْكُلْ مِنْ طَعَامِهِ، وَلَا يَسْأَلْهُ عَنْهُ، فَإِنْ سَقَاهُ شَرَابًا مِنْ شَرَابِهِ , فَلْيَشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ، وَلَا يَسْأَلْهُ عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ اسے کھانا کھلائے تو جانے والے کو کھا لینا چاہیے البتہ خود سے سوال نہیں کرنا چاہیے اسی طرح اگر پینے کے لئے کوئی چیز دی تو پی لینی چاہیے البتہ خود سے سوال نہیں کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9184]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف مسلم
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف مسلم
حدیث نمبر: 9185 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ أَوْ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ، سَأَلَهُمْ: " هَلْ تَرَكَ دَيْنًا؟". فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" هَلْ تَرَكَ وَفَاءً؟"، فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ. صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنْ قَالُوا: لَا. قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے یہ سوال پوچھتے کہ اس شخص پر کوئی قرض ہے؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پوچھتے کہ اسے اداء کرنے کے لئے اس نے کچھ مال چھوڑا ہے؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے اور اگر وہ ناں میں جواب دیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما دیتے کہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9185]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6731، م: 1619
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6731، م: 1619
حدیث نمبر: 9186 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ أَبَدًا اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدَهُمَا". قَالُوا: مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" مُؤْمِنٌ يَقْتُلُهُ كَافِرٌ، ثُمَّ يُسَدَّدُ بَعْدَ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو آدمی جہنم میں اس طرح جمع نہیں ہوں گے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچائے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا وہ مسلمان جو کسی کافر کو قتل کرے اور اس کے بعد سیدھا راستہ اختیار کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9186]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1891
الحكم: إسناده صحيح، م: 1891
حدیث نمبر: 9187 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا إِيمَانًا بِي، وَتَصْدِيقًا بِرُسُلِي، أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ أُرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ، الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ، مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے متعلق اپنے ذمے یہ بات لے رکھی ہے جو اس کے راستے میں نکلے کہ اگر وہ صرف میرے راستے میں جہاد کی نیت سے نکلا ہے اور مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے پیغمبر کی تصدیق کرتے ہوئے روانہ ہوا ہے تو مجھ پر یہ ذمہ داری ہے کہ اسے جنت میں داخل کروں یا اس کے ٹھکانے کی طرف واپس پہنچا دوں کہ وہ ثواب یا مال غنیمت کو حاصل کرچکا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9187]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3123، م: 1876
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3123، م: 1876
حدیث نمبر: 9188 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، َقَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِهِ، إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ جُرِحَ، لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ رِيحُ مِسْكٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کسے زخم لگا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9188]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2803، م: 1876
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2803، م: 1876
حدیث نمبر: 9189 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9189]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 9190 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، أَبُو حَصِينٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " كَانَ يُعْرَضُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، عُرِضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ (حضرت جبرائیل علیہ السلام) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہر سال ایک مرتبہ قرآن کریم کا دور کرتے تھے اور جس سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا اس سال دو مرتبہ دور فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9190]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4998
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4998
حدیث نمبر: 9191 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبِي حَصِينٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِاِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَرْفُثْ، وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنْ جُهِلَ عَلَيْهِ، فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کا کسی دن روزہ ہو تو اسے چاہئے کہ بےتکلف نہ ہو اور جہالت کا مظاہرہ بھی نہ کرے اگر کوئی شخص اس کے سامنے جہالت دکھائے تو اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9191]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
حدیث نمبر: 9192 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ فَيْحَهَا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہٰذا نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9192]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 533، م: 615
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 9193 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يُكْلَمُ عَبْدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ، يَجِيءُ جُرْحُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ رِيحُ مِسْكٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کسے زخم لگا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9193]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2803، م: 1876
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2803، م: 1876
حدیث نمبر: 9194 مسند احمد
أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، لَيْثٌ ، خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ كَانَ قَالَهُ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ" . وقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَقَدْ كُنْتُ أَسْتَنُّ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ، وَبَعْدَ مَا أَسْتَيْقِظُ، وَقَبْلَ مَا آكُلُ، وَبَعْدَ مَا آكُلُ، حِينَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اسے ہر وضو کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے میں سونے سے پہلے بھی مسواک کرتا ہوں سو کر اٹھنے کے بعد بھی کھانے سے پہلے بھی اور کھانے کے بعد بھی مسواک کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9194]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 887، م: 252
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 887، م: 252
حدیث نمبر: 9195 مسند احمد
أَبُو الْعَلَاءِ ، لَيْثٌ ، خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، أَنَّهُ قَالَ: رَقِيتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ، وَعَلَيْهِ سَرَاوِيلُ مِنْ تَحْتِ قَمِيصِهِ، فَنَزَعَ سَرَاوِيلَهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَرَفَعَ فِي عَضُدَيْهِ الْوُضُوءَ، وَرِجْلَيْهِ، فَرَفَعَ فِي سَاقَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَرِ الْوُضُوءِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نعیم بن عبداللہ ایک مرتبہ مسجد کی چھت پر چڑھ کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا انہوں نے قمیض کے نیچے شلوار پہن رکھی تھی انہوں نے شلوار اتاری اور وضو کرنے لگے اپنے چہرے اور ہاتھوں کو بازؤوں تک اور پاؤں کو پنڈلیوں تک دھویا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن میری امت کے لوگ وضو کے نشانات سے روشن اور چمکدار پیشانی والے ہوں گے (اس لئے تم میں سے جو شخص اپنی چمک بڑھا سکتا ہو اسے ایسا کرلینا چاہئے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9195]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 136، م: 246
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 136، م: 246
حدیث نمبر: 9196 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ خَتَنُ سَلَمَةَ الْأَبْرَشِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَكُونُ فِي ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دشمن سے آمنا سامنا ہونے کی تمنا مت کیا کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس صورت میں کیا کچھ ہوسکتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9196]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، خ: 3026 معلقًا، م: 1741، وهذا | إسناد فيه ابن إسحاق مدلس، وقد عنعن
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، خ: 3026 معلقًا، م: 1741، وهذا | إسناد فيه ابن إسحاق مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 9197 مسند احمد
هَارُونُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَبُو صَخْرٍ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ ، عُمَرَ بْنَ إِسْحَاقَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ إِسْحَاقَ مَوْلَى زَائِدَةَ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ، مَا اجْتُنِبَتْ الْكَبَائِرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9197]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 233 وهذا إسناد ضعیف، عمر بن إسحاق مجھول
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 233 وهذا إسناد ضعیف، عمر بن إسحاق مجھول
حدیث نمبر: 9198 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، هَارُونَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَبُو صَخْرٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُؤْمِنُ مَألَفٌ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ، وَلَا يُؤْلَفُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن الفت کا مقام ہوتا ہے اس شخص میں کوئی خیر نہیں ہوتی جو کسی سے الفت کرے اور نہ اس سے کوئی الفت کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9198]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9199 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، مَالِكٍ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ : سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تُفْتَحُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا , مَرَّتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتے ہیں جو ان کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان دونوں کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9199]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2565
الحكم: إسناده صحيح، م: 2565