بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 43 از 194
حدیث نمبر: 7959 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عُبَيْدٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ مِنْ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، يُحَدِّثُ عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلًى لِأَبِي رُهْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ لَقِيَ امْرَأَةً، فَوَجَدَ مِنْهَا رِيحَ إِعْصَارٍ طَيِّبَةً، فَقَالَ لَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ: الْمَسْجِدَ تُرِيدِينَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: وَلَهُ تَطَيَّبْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ فَيَقْبَلُ اللَّهُ لَهَا صَلَاةً حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنْهُ اغْتِسَالَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ" ، فَاذْهَبِي فَاغْتَسِلِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابورہم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی خاتون سے ہوگیا جس نے خوشبو لگا رکھی تھی؟ انہوں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارا مسجد کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا جی ہاں انہوں نے پوچھا کیا تم نے اسی وجہ سے خوشبولگا رکھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے لہٰذا تم جا کر اسے دھو دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7959]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبدالله.
الحكم: حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبدالله.
حدیث نمبر: 7960 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، فُرَاتٍ ، أَبَا حَازِمٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُرَاتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، قَالَ: قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، إِنَّهُ سَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ"، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ:" فُوابِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ، وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ الَّذِي جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھنے کا شرف پانچ سال تک حاصل ہوا ہے میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ بنی اسرائیل میں ملکی نظم و نسق انبیاء کرام علیہماالسلام ہی چلایا کرتے تھے جب ایک نبی رخصت ہوتے تو دوسرے نبی ان کے جانشین بن جاتے لیکن میرے بعد چونکہ کوئی نبی نہیں ہے اس لئے اس امت میں خلفاء ہوں گے اور خوب ہوں گے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا درجہ بدرجہ ہر ایک کی بیعت پوری کرو اور انہیں ان کا وہ حق دو جو اللہ نے ان کے لئے مقرر کیا ہے کیونکہ اللہ ان سے ان کی رعایا کے متعلق خود ہی پوچھ گچھ کرلے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7960]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3455، م: 1842.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3455، م: 1842.
حدیث نمبر: 7961 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ ، يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ أَقُولُهُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ، قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ، وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئے جو میں صبح وشام پڑھ لیا کروں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یوں کہہ لیا کرو کہ اے اللہ اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے ظاہر اور پوشیدہ سب کچھ جاننے والے ہر چیز کے پالنہار اور مالک میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہوسکتا میں اپنی ذات کے شر شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں یہ کلمات صبح و شام اور بستر پر لیٹتے وقت کہہ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7961]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7962 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " مَا كَانَ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرَ وَالْمَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمارے پاس سوائے دو کالی چیزوں کھجور اور پانی کے کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7962]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7963 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: هَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: شَهْرًا، فَأَتَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهُوَ فِي غُرْفَةٍ عَلَى حَصِيرٍ، قَدْ أَثَّرَ الْحَصِيرُ بِظَهْرِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كِسْرَى يَشْرَبُونَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَأَنْتَ هَكَذَا! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُمْ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي حَيَاتِهِمْ الدُّنْيَا". ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ، هَكَذَا وَهَكَذَا، وَكَسَرَ فِي الثَّالِثَةِ الْإِبْهَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو (ایک مہینہ) کے لئے چھوڑ دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک کمرے میں چٹائی پر تشریف فرما تھے جس کے نشانات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کمر مبارک پر پڑگئے تھے یہ دیکھ کر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (قیصر و) کسریٰ تو سونے چاندی کے برتنوں میں پانی پئیں اور آپ اس حال میں رہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں کو عمدہ چیزیں فوری طور پر اسی دنیا کی زندگی میں دے دی گئی ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات مہینہ ٢٩ کا بھی ہوتا ہے اتنا اتنا اور تیسری مرتبہ میں انگوٹھا بند کرلیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7963]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7964 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، بُدَيْلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ " يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ جَهَنَّمَ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عذاب جہنم سے عذاب قبر سے اور مسیح دجال کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7964]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588.
حدیث نمبر: 7965 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، أَبَا عُثْمَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّهُمْ أَصَابَهُمْ جُوعٌ، قَالَ: وَنَحْنُ سَبْعَةٌ، قال: " فَأَعْطَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ، لِكُلِّ إِنْسَانٍ تَمْرَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمیں بھوک نے ستایا ہم سات افراد تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سات کھجوریں عطاء فرمائیں ہر آدمی کے لئے صرف ایک کھجور تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7965]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7966 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَهَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بَلْجٍ ، عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَهَاشِمٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ قَالَ هَاشِمٌ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: أَلَا أُعَلِّمُكَ قَالَ هَاشِمٌ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ: لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، يَقُولُ:" أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ سکھاؤں جو جنت کا خزانہ ہے اور عرش کے نیچے سے آیا ہے وہ کلمہ ہے لا قوۃ الا باللہ جسے سن کر اللہ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے سر تسلیم خم کردیا اور اپنے آپ کو سپرد کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7966]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: «من تحت العرش» ، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح دون قوله: «من تحت العرش» ، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7967 مسند احمد
مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، وَهَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، أَبِي بَلْجٍ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، وَهَاشِمٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ هَاشِمٌ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، وقَالَ مُحَمَّدٌ: عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ وَقَالَ هَاشِمٌ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَجِدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ، فَلْيُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو یہ بات محبوب ہو کہ وہ ایمان کا ذائقہ چکھے اسے چاہئے کہ کسی شخص سے صرف اللہ کی رضا کے لئے محبت کیا کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7967]
حکم دارالسلام
إسناد حسن.
الحكم: إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7968 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَأَذُودَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ عَنْ حَوْضِي كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الْإِبِلِ عَنِ الْحَوْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے میں تم سے کچھ لوگوں کو اپنے حوض سے اس طرح دور کروں گا جیسے کسی اجنبی اونٹ کو حوض سے دور کیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7968]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2367، م: 2302.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2367، م: 2302.
حدیث نمبر: 7969 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَذعَتُّهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ أَجْمَعُونَ، قَالَ: فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ: رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي، قَالَ: فَرَدَّهُ خَاسِئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آج رات ایک سرکش جن مجھ پر حاوی ہونے کی کوشش کرنے لگا کہ میری نماز تڑوا دے اللہ نے مجھے اس پر قابو فرما دیا اور میں نے اسے پکڑ لیا میرا ارادہ یہ تھا کہ میں اسے مسجد کے کسی ستون سے باندھ دوں اور صبح ہو تو تم سب اسے دیکھو لیکن پھر مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی کہ پروردگار مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے شایان شان نہ ہو راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دھتکار کر بھگا دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7969]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 461، م: 541.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 461، م: 541.
حدیث نمبر: 7970 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ طَالَ بِي عُمُرٌ أَنْ أَلْقَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِنْ عَجِلَ بِي مَوْتٌ، فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امید ہے کہ اگر میری عمر طویل ہوئی تو میری ملاقات حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوجائے گی لیکن میری رخصت کا پیغام پہلے آجائے گا تو تم میں سے جس کی بھی ان کے ساتھ ملاقات ہو وہ انہیں میرا سلام پہنچا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7970]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، واختلف في وقفه ورفعه، ورجح أحمد شاكر رفعه.
الحكم: إسناده صحيح، واختلف في وقفه ورفعه، ورجح أحمد شاكر رفعه.
حدیث نمبر: 7971 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ طَالَتْ بِي حَيَاةٌ أَنْ أُدْرِكَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِنْ عَجِلَ بِي مَوْتٌ، فَمَنْ أَدْرَكَهُ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امید ہے کہ اگر میری عمر طویل ہوئی تو میری ملاقات حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوجائے گی لیکن میری رخصت کا پیغام پہلے آجائے گا تو تم میں سے جس کی بھی ان کے ساتھ ملاقات ہو وہ انہیں میرا سلام پہنچا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7971]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7972 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، وَيُونُسَ بْنَ عُبَيْدٍ ، عَمَّارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، وَيُونُسَ بْنَ عُبَيْدٍ ، يُحَدِّثَانَ، عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَمَّا عَلِيٌّ فَرَفَعَهُ إلى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا يُونُسُ، فَلَمْ يَعْدُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ سورة البروج آية 3، قَالَ: يَعْنِي: " الشَّاهِدَ: يَوْمَ عَرَفَةَ، وَالْمَوْعُودَ: يَوْمَ الْقِيَامَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً یا مرفوعاً مروی ہے کہ و شاہد و مشہود میں شاہد سے مراد یوم عرفہ ہے اور مشہود سے مراد قیامت کا دن ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7972]
حکم دارالسلام
المرفوع منه ضعيف لضعف علي، والموقوف لا بأس به.
الحكم: المرفوع منه ضعيف لضعف علي، والموقوف لا بأس به.
حدیث نمبر: 7973 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يُونُسَ ، عَمَّارًا ، أبي هريرة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يُونُسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارًا مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ يُحَدِّثُ، عن أبي هريرة ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ سورة البروج آية 3، قَالَ: " الشَّاهِدُ: يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالْمَشْهُودُ: يَوْمَ عَرَفَةَ، وَالْمَوْعُودُ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً یا مرفوعاً مروی ہے کہ و شاہد و مشہود میں شاہد سے مراد یوم عرفہ ہے اور مشہود سے مراد قیامت کا دن ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7973]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7974 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ يَقُولُ:" إِنَّ هَلَاكَ أُمَّتِي أَوْ فَسَادَ أُمَّتِي رُؤُوسٌ أُمَرَاءُ أُغَيْلِمَةٌ سُفَهَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم جو کہ صادق و مصدوق تھے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7974]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مالك.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مالك.
حدیث نمبر: 7975 مسند احمد
مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ، ثَلَاثُونَ آيَةً، شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ، وَهِيَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم میں تیس آیات پر مشتمل ایک سورت ایسی ہے جس نے ایک آدمی کے حق میں سفارش کی حتی کہ اس کی بخشش ہوگئی اور وہ سورت ملک ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7975]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعلل.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعلل.
حدیث نمبر: 7976 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، الْمُغِيرَةِ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي نُعْمٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي نُعْمٍ يُحَدِّثُ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بن أحمد: قَالَ أَبِي: إِنَّمَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ، وَلَكِنْ غُنْدَرٌ كَذَا قَالَ إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، وَكَسْبِ الْبَغِيِّ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ" ، قَالَ: وَعَسْبِ الْفَحْلِ، قَالَ: وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: هَذِهِ مِنْ كِيسِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگانے والے کی اور جسم فروشی کی کمائی اور کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس میں سانڈ کی جفتی پر دی جانے والی قیمت کو بھی شامل کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ میری تھیلی میں سے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7976]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2283، مختصرا.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2283، مختصرا.
حدیث نمبر: 7977 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُغِيرَةَ ، الشَّعْبِيِّ ، مُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، حِيث بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِ بَرَاءَةٌ. فَقَالَ: مَا كُنْتُمْ تُنَادُونَ؟ قَالَ: كُنَّا نُنَادِي: أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ، فَإِنَّ أَجَلَهُ أَوْ أَمَدَهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ، فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ، وَلَا يَحُجُّ هَذَا الْبَيْتَ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ. قَالَ: فَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اہل مکہ کی طرف برأت کا پیغام دے کر بھیجا تھا میں ان کے ساتھ ہی تھا کسی نے پوچھا کہ آپ لوگ کیا اعلان کررہے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ یہ منادی کررہے تھے کہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہوگا جو مومن ہو آج کے بعد بیت اللہ کا طواف کوئی شخص برہنہ ہو کر نہیں کرسکے گا جس شخص کا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو اس کی مدت چار مہینے مقرر کی جاتی ہے۔ چار مہینے گذرنے کے بعد اللہ اور اس کے رسول مشرکین سے بری ہوں گے اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج بیت اللہ نہیں کرسکے گا یہ اعلان کرتے کرتے میری آواز بیٹھ گئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7977]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، خ: 369، م: 1347.
الحكم: إسناده حسن، خ: 369، م: 1347.
حدیث نمبر: 7978 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ " إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ طَالَتْ بِي حَيَاةٌ أَنْ أُدْرِكَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنْ عَجِلَ بِي مَوْتٌ، فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امید ہے کہ اگر میری عمر طویل ہوئی تو میری ملاقات حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوجائے گی لیکن میری رخصت کا پیغام پہلے آجائے گا تو تم میں سے جس کی بھی ان کے ساتھ ملاقات ہو وہ انہیں میرا سلام پہنچا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7978]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، واختلف في رفعه ووقفه.
الحكم: إسناده صحيح، واختلف في رفعه ووقفه.