بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 100 از 194
حدیث نمبر: 9100 مسند احمد
ابْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9100]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف فى إسناد هذا الحديث کما في « العلل » للدارقطني 49/3، 50
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف فى إسناد هذا الحديث کما في « العلل » للدارقطني 49/3، 50
حدیث نمبر: 9101 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ: أَنْصِتْ، فَقَدْ لَغَوْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9101]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
الحكم: إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
حدیث نمبر: 9102 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، وَيُمَجِّسَانِهِ، كَمَثَلِ الْبَهِيمَةِ تُنْتِجُ الْبَهِيمَةَ، هَلْ تَكُونُ فِيهَا جَدْعَاءُ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک جانور کے یہاں جانور پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نکٹا محسوس کرتے ہو؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9102]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
الحكم: إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
حدیث نمبر: 9103 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سر انجام دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9103]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1384، م: 2659
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1384، م: 2659
حدیث نمبر: 9104 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، أَبِي الْوَلِيدِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَمَمْتُمْ النَّاسَ فَخَفِّفُوا، فَإِنَّ فِيهِمْ الْكَبِيرَ، وَالضَّعِيفَ وَالصَّغِيرَ" . وَقَالَ فِي حَدِيثٍ آخَرَ: عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ مولى عَمْرِو بْنِ خِدَاشٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور بچے سب ہی ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9104]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ 703، م: 467، وهذا إسناد ضعيف، أبو الوليد لم يعرف
الحكم: حديث صحيح، خ 703، م: 467، وهذا إسناد ضعيف، أبو الوليد لم يعرف
حدیث نمبر: 9105 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، أَبِي الْوَلِيدِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہذا نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9105]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 533 ، م: 615
الحكم: صحيح، خ: 533 ، م: 615
حدیث نمبر: 9106 مسند احمد
الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنَ الْإِبِلِ، فَجَاءَهُ يَتَقَاضَاهُ، فَطَلَبُوا لَهُ فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُ". فَقَالَ: أَوْفَيْتَنِي أَوْفَى اللَّهُ لَكَ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس کے اونٹ جتنی عمر کا ایک اونٹ تلاش کرکے لے آؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے تلاش کیا لیکن مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا ہر اونٹ اس سے بڑی عمر کا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا ہی اونٹ دے دو وہ دیہاتی کہنے لگا کہ آپ نے مجھے پورا پورا ادا کیا اللہ آپ کو پورا پورا عطاء فرمائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہترین ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9106]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2305، م: 1601
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2305، م: 1601
حدیث نمبر: 9107 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ، ثُمَّ جَهَدَها، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب مرد اپنی بیوی کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور کوشش کرلے تو اس پر غسل واجب ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9107]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 291، م: 348
الحكم: إسناده صحيح، خ: 291، م: 348
حدیث نمبر: 9108 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تُكَلِّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت کو یہ چھوٹ دی گئی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9108]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ، 5269، م: 127
الحكم: إسناده صحيح، خ، 5269، م: 127
حدیث نمبر: 9109 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، صَالِحِ بْنِ نَبْهَانَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ نَبْهَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ کیا کرو دھوکہ اور حسد نہ کیا کرو اور بندگان خدا! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9109]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6724، م: 2563
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6724، م: 2563
حدیث نمبر: 9110 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ، وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی شاعرنے جو سب سے سچا شعر کہا ہے وہ یہ ہے کہ یاد رکھو اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل (فانی) ہے اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی الصلت اسلام قبول کرلیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9110]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3841، م: 2256
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3841، م: 2256
حدیث نمبر: 9111 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ الْأُكْلَةُ وَالْأُكْلَتَانِ، أَوْ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ شَيْئًا، وَلَا يُفْطَنُ بِمَكَانِهِ فَيُعْطَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں اصل مسکین وہ ہوتا ہے جو لوگوں سے بھی کچھ نہ مانگے اور دوسروں کو بھی اس کی ضروریات کا علم نہ ہو کہ لوگ اس پر خرچ ہی کردیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9111]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1479، م: 1039
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1479، م: 1039
حدیث نمبر: 9112 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار کو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اسے بدلہ عطاء فرمائے گا تب بھی وہ خوش ہوگا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9112]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 9113 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9113]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527
حدیث نمبر: 9114 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ ذَكْوَانَ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ ذَكْوَانَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " يَشْتُمُنِي ابْنُ آدَمَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتُمَنِي , وَيُكَذِّبُنِي، وَمَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُكَذِّبَنِي، أَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ: قَوْلُهُ: إِنَّ لِي وَلَدًا، وَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ: قَوْلُهُ: لَنْ يُعِيدَنِي كَمَا بَدَأَنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا بندہ میری ہی تکذیب کرتا ہے حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے اور مجھے ہی برا بھلا کہتا ہے حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تکذیب تو اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے ہمیں جسطرح پیدا کیا ہے دوبارہ اس طرح پیدا نہیں کرے گا اور برا بھلا کہنا اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9114]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3193
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3193
حدیث نمبر: 9115 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، مُوسَى بْنِ عُثْمَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُبَالُ فِي الْمَاءِ الَّذِي لَا يَجْرِي، ثُمَّ يُغْتَسَلُ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے غسل کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9115]
حکم دارالسلام
حديث صحیح، وهذا إسناد حسن، خ: 239، م: 282
الحكم: حديث صحیح، وهذا إسناد حسن، خ: 239، م: 282
حدیث نمبر: 9116 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ الدَّهْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہا کرو کہ زمانے کی تباہی ہو کیونکہ زمانے کا خالق بھی تو اللہ ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9116]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6182، م: 2246
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6182، م: 2246
حدیث نمبر: 9117 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ عِلْمَهُ , فَهُوَ عِلْمُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جماعت انبیاء (علیہم السلام) میں سے ایک نبی زمین پر لکیریں کھینچا کرتے تھے (جسے علم رمل کہتے ہیں) جس شخص کا علم ان کے موافق ہوجائے وہ اسے جان لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9117]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9118 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ ، رَجُلٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ خَبٌّ لَئِيمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن شریف اور بھولا بھالا ہوتا ہے جبکہ کافر دھوکے باز اور کمینہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9118]
حکم دارالسلام
حديث حسن، والراوي المبهم هو الحجاج بن فرافصة، وحديثه من باب الحسن
الحكم: حديث حسن، والراوي المبهم هو الحجاج بن فرافصة، وحديثه من باب الحسن
حدیث نمبر: 9119 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، وَالْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ , مَا لَمْ يُحْدِثْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ بےوضو نہ جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9119]
حکم دارالسلام
حديث صحیح، وهذا إسناد حسن، خ: 477، م: 649
الحكم: حديث صحیح، وهذا إسناد حسن، خ: 477، م: 649