بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 103 از 194
حدیث نمبر: 9160 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى، كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يُنْقِصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ، كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يُنْقِصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کو ہدایت کی طرف دعوت دے اسے اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا اور ان کے اجر وثواب میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے گی اور جو شخص لوگوں کو گمراہی کی طرف دعوت دے اسے اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا اور ان کے گناہ میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9160]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2674
الحكم: إسناده صحيح، م: 2674
حدیث نمبر: 9161 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، َقالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْ شَهِيدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص بھی مدینہ منورہ کی مشقتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی بھی دوں گا اور سفارش بھی کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9161]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1378
الحكم: إسناده صحيح، م: 1378
حدیث نمبر: 9162 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، َقالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ التَّثَاؤُبَ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جمائی شیطان کے اثر کی وجہ سے آتی ہے اس لئے جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ممکن ہو اسے روکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9162]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2994
الحكم: إسناده صحيح، م: 2994
حدیث نمبر: 9163 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، َقالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَجْتَمِعُ كَافِرٌ، وَقَاتِلُهُ فِي النَّارِ أَبَدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کافر اور اس کا مسلمان قاتل جہنم میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9163]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1891
الحكم: إسناده صحيح، م: 1891
حدیث نمبر: 9164 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، َقالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْعُقُوبَةِ، مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ، مَا قَنَطَ مِنْ رَحْمَتِهِ أَحَدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر بندہ مومن کو وہ سزائیں معلوم ہوجائیں جو اللہ نے تیار کر رکھی ہیں تو کوئی بھی جنت کی طمع نہ کرے (صرف جہنم سے بچنے کی دعا کرتے رہیں) اور اگر کافر کو اللہ کی رحمت کا اندازہ ہو جائے تو کوئی بھی جنت سے ناامید نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9164]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2755
الحكم: إسناده صحيح، م: 2755
حدیث نمبر: 9165 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، َقالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى، وَلَا صَفَرَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا نَوْءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیماری متعدی ہونے ماہ صفر کے منحوس ہونے مردے کی کھوپڑی کے کیڑے اور ستاروں کی تاثیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9165]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5717، م: 2220
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5717، م: 2220
حدیث نمبر: 9166 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، َقالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَأْتِي الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، وَهِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ، حَتَّى يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ، ثُمَّ تَصْرِفُ الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ، وَهُنَالِكَ يَهْلِكُ" . قَالَ عَبْد اللَّهِ: كَذَا قَالَ أَبِي فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسیح دجال مشرق کی طرف سے آئے گا اور اس کی منزل مدینہ منورہ ہوگی یہاں تک کہ وہ احد کے پیچھے آکر پڑاؤ ڈالے گا پھر ملائکہ اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہیں وہ ہلاک ہوجائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9166]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1380
الحكم: إسناده صحيح، م: 1380
حدیث نمبر: 9167 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ ، ابْنِ دِينَارٍ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ ، أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنِ ابْنِ دِينَارٍ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا، فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ، وَيَعْجَبُونَ لَهُ، وَيَقُولُونَ: هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ؟، قَالَ: فَأَنَا تِلْكَ اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسے ہے جیسے کسی آدمی نے ایک نہایت حسین و جمیل اور مکمل عمارت بنائی البتہ اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس کے گرد چکر لگا تے تعجب کرتے اور کہتے جاتے تھے کہ ہم نے اس سے عمدہ عمارت کوئی نہیں دیکھی سوائے اس اینٹ کی جگہ کے سو وہ اینٹ میں ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9167]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3535، م: 2286
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3535، م: 2286
حدیث نمبر: 9168 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ مَوْلَى بَنِي تَِيمٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى بَنِي زُرَيْقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ، ثُمَّ لِيَطْرَحْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً، وَفِي الْآخَرِ دَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے پر میں بیماری ہوتی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9168]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5782
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5782
حدیث نمبر: 9169 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ مَوْلَى بَنِي تَِيمٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى بَنِي زُرَيْقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھونا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9169]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 172، م: 279
الحكم: إسناده صحيح، خ: 172، م: 279
حدیث نمبر: 9170 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا سَمِعَ الشَّيْطَانُ الْمُنَادِيَ يُنَادِي بِالصَّلَاةِ، وَلَّى وَلَهُ ضُرَاطٌ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ الصَّوْتَ، فَإِذَا فَرَغَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ، فَإِذَا أَخَذَ فِي الْإِقَامَةِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب شیطان اذان کی آواز سنتا ہے تو زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور اقامت کے وقت بھی اسی طرح کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9170]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1232، م: 389
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1232، م: 389
حدیث نمبر: 9171 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَجِدُ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِحَدِيثِ هَؤُلَاءِ، وَهَؤُلَاءِ بِحَدِيثِ هَؤُلَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم لوگوں میں سب سے بدترین شخص اس آدمی کو پاؤگے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتاہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9171]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6058، م: 2526
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6058، م: 2526
حدیث نمبر: 9172 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَيُؤْمِنَ النَّاسُ أَجْمَعُونَ، فَيَوْمَئِذٍ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا الْيَهُودَ، فَيَفِرَّ الْيَهُودِيُّ وَرَاءَ الْحَجَرِ، فَيَقُولَ الْحَجَرُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، يَا مُسْلِمُ، هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي. وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ، حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمْ الشَّعَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو سب لوگ اللہ پر ایمان لے آئیں گے لیکن اس وقت کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم یہودیوں سے قتال نہ کرلو اس وقت اگر کوئی یہودی بھاگ کر کسی پتھر کے پیچھے چھپ جائے گا تو وہ پتھر کہے گا اے بندہ اللہ اے مسلمان یہ میرے پیچھے ایک یہودی چھپا ہوا ہے اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کرلو جن کی جوتیاں بالوں کی ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9172]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2926، 2929، 4636، م: 157، 2912
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2926، 2929، 4636، م: 157، 2912
حدیث نمبر: 9173 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم قَالَ: " مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا َيُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ" . " وَالْمَدِينَةُ حَرَامٌ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ" . " وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کردے اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اللہ اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں کرے گا اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ایک جیسی ہے ایک عام آدمی بھی اگر کسی کو امان دے دے تو اس کا لحاظ کیا جائے گا جو شخص کسی مسلمان کی امان کو توڑے اس پر اللہ کی فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوگا مدینہ منورہ حرم ہے جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہ کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9173]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1508
الحكم: إسناده صحيح، م: 1508
حدیث نمبر: 9174 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، أَبُو الزِّنَادِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَوَكَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِحِفْظِ امْرِئٍ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَتَصْدِيقٌ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ، حَتَّى يُوجِبَ لَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يُرْجِعَهُ إِلَى بَيْتِهِ، أَوْ مِنْ حَيْثُ خَرَجَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی حفاظت اپنے ذمہ لے رکھی ہے جو اس کے راستے میں نکلے کہ اگر وہ صرف میرے راستے میں جہاد کی نیت سے نکلا ہے اور مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے پیغمبر کی تصدیق کرتے ہوئے روانہ ہوا ہے تو مجھ پر یہ ذمہ داری ہے کہ اسے جنت میں داخل کروں یا اس حال میں اس کے ٹھکانے کی طرف واپس پہنچا دوں کہ وہ ثواب یا مال غنیمت کو حاصل کرچکا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9174]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3123، م: 1876
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3123، م: 1876
حدیث نمبر: 9175 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كُلِمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ ُكلِمَ فِي سَبِيلِهِ، يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُرْحُهُ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ جُرِحَ، لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ، وَرِيحُهُ رِيحُ مِسْكٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کسے زخم لگا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9175]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2803، م: 1876
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2803، م: 1876
حدیث نمبر: 9176 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، قَالَ: فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ، أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ؟!، قَالَ: فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى أَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ، تَلُومُنِي عَلَى عَمَلٍ أَعْمَلُهُ، كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ؟!، قَالَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم! آپ کو اللہ نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور آپ کے اندر روح پھونکی آپ نے لوگوں شرمندہ کیا اور جنت سے نکلوا دیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ اللہ نے تمہیں اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہو جس کا فیصلہ اللہ نے میرے متعلق میری پیدائش سے چالیس برس پہلے کرلیا تھا؟ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9176]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6614، م: 2652
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6614، م: 2652
حدیث نمبر: 9177 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ يُكْنَى أَبَا الزِّنَادِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ يُكْنَى أَبَا الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي هَاشِمٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا أُمَّ الزُّبَيْرِ عَمَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلَانِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنوعبدالمطلب سے فرمایا کہ اے بنی عبدالمطلب اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو اے بنی ہاشم اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو میں اللہ کے سامنے تمہارے لئے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اے پیغمبر اللہ کی پھوپھی ام زبیر اور اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو کیونکہ میں اللہ کی طرف سے تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ تم جو چاہو مجھ سے مال و دولت مانگ سکتی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9177]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2527، م: 206
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2527، م: 206
حدیث نمبر: 9178 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكُمْ يُحَوَّلُ ذَهَبًا، يَكُونُ عِنْدِي بَعْدَ ثَلَاثٍ مِنْهُ شَيْءٌ، إِلَّا شَيْئًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ. إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمْ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ" , عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ، وَوَرَاءَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تمہارا یہ احد پہاڑ سونے کا بنادیا جائے اور تین دن گذرنے کے بعد اس میں سے میرے پاس کچھ بچ جائے سوائے اس چیز کے جو میں نے قرض کی ادائیگی کے لئے رکھ لوں کیونکہ قیامت کے دن مال و دولت کی ریل پیل والے لوگوں کے پاس ہی تھوڑا ہوگا سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں اور بائیں آگے بھیج دیں ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9178]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2389، م: 991
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2389، م: 991
حدیث نمبر: 9179 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، أَوْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9179]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 887، م: 252
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 887، م: 252