بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 148 از 194
حدیث نمبر: 10060 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چاند کو دیکھ کر روزہ رکھا کرو، چاند کو دیکھ کر عید منایا کرو اگر چاند نظر نہ آئے اور آسمان پر ابر چھایاہو تو تیس کی گنتی پوری کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10060]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081
حدیث نمبر: 10061 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ"، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّه؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا , إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ" ، قَالَ بَهْزٌ:" وَفَضْل"، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے یہ جملہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10061]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 10062 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کے بندو آپس میں بھائی بھائی بن کررہا کرو آپس میں دشمنی اور بغض نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10062]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10063 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: " لَوْ سَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُم، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَمَا ظَلَمَ بِأَبِي وَأُمِّي، لَقَدْ آوَوْهُ وَنَصَرُوهُ , أَوْ وَاسَوْهُ وَنَصَرُوهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصاری دوسری وادی میں تو میں انصار کے ساتھ ان کی وادی میں چلوں گا۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10063]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3779، م: 76
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3779، م: 76
حدیث نمبر: 10064 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةُ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَأَبُو دَاوُدَ , قََالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , الْمَعْنَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: سَمِعَ أَبَا الْقَاسِمِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قبیلہ غفار کی اللہ بخشش فرمائے اور قبیلہ اسلم کو اللہ سلامتی عطاء فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10064]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3514، م: 2515
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3514، م: 2515
حدیث نمبر: 10065 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے تب بھی اسے قطع نہ کرسکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10065]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4881، م: 2826
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4881، م: 2826
حدیث نمبر: 10066 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَيْرُكُمْ إِسْلَامًا أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا، إِذَا فَقِهُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور وہ فقیہہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10066]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10067 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ , وَالْأُكْلَةُ وَالْأُكْلَتَانِ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک یا دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں اصل مسکین وہ ہوتا ہے جس کے پاس خود بھی مالی کشادگی نہ ہو اور دوسروں سے بھی وہ لگ لپٹ کر سوال نہ کرتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10067]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1479، م: 1039
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1479، م: 1039
حدیث نمبر: 10068 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ اللہ سے خیر کا سوال کررہاہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10068]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
حدیث نمبر: 10069 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَمَا يَخْشَى، أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ، أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ تَعَالَى رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے جیسا بنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10069]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 691، م: 427
الحكم: إسناده صحيح، خ: 691، م: 427
حدیث نمبر: 10070 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " يَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا، وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ میں عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10070]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
حدیث نمبر: 10071 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ابْنِ قَارِظٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ ابْنِ قَارِظٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10071]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: م: 352
الحكم: إسناده صحيح، خ: م: 352
حدیث نمبر: 10072 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، قَنَتَ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ َنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ َنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ َنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ َنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز عشاء کی آخری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعاء فرماتے کہ اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم وستم سے نجات عطاء فرما، اے اللہ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10072]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6393، م: 675
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6393، م: 675
حدیث نمبر: 10073 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى , عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قََالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ: " لَأُقَرِّبَنَّ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ، بَعْدَمَا يَقُول: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكَافِرِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا! نماز میں میں تم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہوں ابوسلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز ظہر عشاء اور نماز فجر کی آخری رکعت میں سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے تھے جس میں مسلمانوں کے لئے دعا اور کفار پر لعنت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10073]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4598، م: 675
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4598، م: 675
حدیث نمبر: 10074 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ، كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ" ، وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی شاعر نے جو سب سے زیادہ سچا شعر کہا ہے وہ یہ ہے کہ یاد رکھو اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل (فانی) ہے اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی الصلت اسلام قبول کرلیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10074]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 797، م: 676
الحكم: إسناده صحيح، خ: 797، م: 676
حدیث نمبر: 10075 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى الْمُؤْمِنِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10075]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982
حدیث نمبر: 10076 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ رَجُلٌ مَاتَ، فَقَالُوا: خَيْرًا، وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَجَبَتْ"، وَذُكِرَ عِنْدَهُ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالُوا شَرًّا، وَأَثْنَوْا شَرًّا، فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَجَبَتْ"، قَالَ: " أَنْتُمْ شُهَدَاءُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ایک فوت شدہ آدمی کا تذکرہ ہوا لوگ اس کے عمدہ خصائل اور اس کی تعریف بیان کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی اسی اثناء میں ایک اور آدمی کا تذکرہ ہوا اور لوگوں نے اس کے برے خصائل اور اس کی مذمت بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی پھر فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10076]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10077 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، أَبِيه ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنِ أَبِيه ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10077]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3539، م: 2134، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والد سليم
الحكم: حديث صحيح، خ: 3539، م: 2134، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والد سليم
حدیث نمبر: 10078 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سَلِيمٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ مِنْ أَكْذَبِ الْحَدِيثِ، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو بغض نہ رکھو اور بندگان خدا! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10078]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6724، م: 2563، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والد سليم
الحكم: حديث صحيح، خ: 6724، م: 2563، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والد سليم
حدیث نمبر: 10079 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ كُتِبَ لَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُقْضَى دَفْنُهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ أَصْغَرُهُمَا أَوْ أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ" ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ فَتَعَاظَمَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَة.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہا اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے چھوٹا قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث معلوم ہوئی تو انہوں نے اسے بہت اہم سمجھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ دریافت کرنے کے لئے ایک آدمی کو بھیجا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابوہریرہ سچ کہتے ہیں، اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس طرح تو ہم نے بہت سے قیراط ضائع کردئیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10079]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1325، م: 945
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1325، م: 945