بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 128 از 194
حدیث نمبر: 9660 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَدْنَى أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا، رَجُلٌ يُجْعَلُ لَهُ نَعْلَانِ يَغْلِي، مِنْهُمَا دِمَاغُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح جوش مارے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9660]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وإسناده قوي
الحكم: صحيح لغيره، وإسناده قوي
حدیث نمبر: 9661 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُقَاتِلُ النَّاسَ، حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لاالہ الا اللہ نہ کہہ لیں، جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں تو انہوں نے اپنی جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا الاّ یہ کہ اس کلمہ کا کوئی حق ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9661]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9662 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سُمَيٌّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُمَيٌّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ، وَضَعَ ثَوْبَهُ أَوْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، وَخَفَضَ أَوْ غَضَّ مِنْ صَوْتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب چھینک آتی تو اپنا ہاتھ یا کپڑا چہرہ پر رکھ لیتے اور آواز کو پست رکھتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9662]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9663 مسند احمد
يَحْيَى ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيُّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَخَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ أَصْحَابُهُ خَلْفَهُ , فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن نجاشی فوت ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجاشی کی موت کی اطلاع ہمیں دی اور عیدگاہ کی طرف نکلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے صفیں باندھ لیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9663]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951
حدیث نمبر: 9664 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ، ثُمَّ إِنْ قَامَ وَالْقَوْمُ جُلُوسٌ فَلْيُسَلِّمْ، فَلَيْسَتْ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو اسے سلام کرنا چاہئے پھر اگر بیٹھنا چاہئے تو بیٹھ جائے اور جب کسی مجلس سے جانے کے لئے کھڑا ہونا چاہے تب بھی سلام کرنا چاہئے اور پہلا موقع دوسرے موقع سے زیادہ حق نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9664]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9665 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمْ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُتَعَلِّقٌ بِالْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ أَخْفَاهَا لَا تَعْلَمُ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امرأة ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا، قَالَ: أَنَا أَخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سات قسم کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطاء فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کہیں سایہ نہ ہوگا۔ (١) عادل حکمران (٢) اللہ کی عبادت میں نشو و نما پانے والا نوجوان (٣) وہ آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو۔ (٤) وہ دو آدمی جو صرف اللہ کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت کریں، اسی پر جمع ہوں اور اسی پر جدا ہوں۔ (٥) وہ آدمی جو اس خفیہ طریقے سے صدقہ دے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ (٦) وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑیں۔ (٧) وہ آدمی جسے کوئی منصب و جمال والی عورت اپنی ذات کی دعوت دے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا الہٰی میں دو کمزوروں یعنی یتیم اور عورت کا مال ناحق کھانے کو حرام قرار دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9665]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 660، م: 1031
الحكم: إسناده صحيح، خ: 660، م: 1031
حدیث نمبر: 9666 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ: الْيَتِيمِ، وَالْمَرْأَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وٹے سٹے کے نکاح سے " جس میں مہر مقرر کئے بغیر ایک دوسرے کے رشتے کے تبادلے ہی کو مہر سمجھ لیا جائے " منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9666]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9667 مسند احمد
عَبْدُ الله بْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّغَارِ، قَالَ: وَالشِّغَارُ: أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ وَأُزَوِّجُكَ ابْنَتِي، أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَكَ وَأُزَوِّجُكَ أُخْتِي" . قَالَ: " وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ، وَعَنِ الْحَصَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کنکریاں مار کر بیع کرنے سے اور دھوکہ کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9667]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1513، 1416
الحكم: إسناده صحيح، م: 1513، 1416
حدیث نمبر: 9668 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، ثَوْرٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، مَكْحُولٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " الْعَيْنُ حَقٌّ، وَيَحْضُرُ بِهَا الشَّيْطَانُ , وَحَسَدُ ابْنِ آدَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نظر کا لگنا برحق ہے اور شیطان اس وقت موجود ہوتا ہے اور انسان حسد کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9668]
حکم دارالسلام
قوله: « العين الحق » صحيح فقط ، خ: 5740، م: 2187، وهذا إسناد منقطع، مکحول لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: قوله: « العين الحق » صحيح فقط ، خ: 5740، م: 2187، وهذا إسناد منقطع، مکحول لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 9669 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " غُفِرَ لِرَجُلٍ نَحَّى غُصْنَ شَوْكٍ عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا، اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9669]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1914
الحكم: إسناده صحيح، م: 1914
حدیث نمبر: 9670 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ، أَبُو صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَوْلَى السَّعْدِيِّينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّ رِجَالًا يَسْتَنْفِرُونَ عَشَائِرَهُمْ، يَقُولُونَ: الْخَيْرَ الْخَيْرَ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ، لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ. وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا، أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَنْفِي أَهْلَهَا، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَخْرُجُ مِنْهَا أَحَدٌ رَاغِبًا عَنْهَا، إِلَّا أَبْدَلَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے قبیلے والوں کو بہتر، بہتر قرار دے کر برانگیختہ کررہے ہیں (اور مدینے سے جا رہے ہیں) حالانکہ اگر انہیں معلوم ہوتا تو مدینہ ہی ان کے حق میں خیر ہے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے جو شخص مدینہ منورہ کی پریشانیوں اور تکالیف پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارش کروں گا، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے مدینہ منورہ اپنے باشندوں کو اس طرح پاک صاف کردیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل کو دور کردیتی ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے جو شخص یہاں سے بےرغبتی کے ساتھ نکل کر جائے گا اللہ اس کے بدلے میں اس سے بہتر شخص کو یہاں آباد فرما دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9670]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1871، م: 1381
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1871، م: 1381
حدیث نمبر: 9671 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، ووكيع ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . ووكيع , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ عَلَيْهِ، فَبَاتَ وَهُوَ غَضْبَانُ، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ" . قَالَ وَكِيعٌ:" عَلَيْهَا سَاخِطٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا ببستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں تاآنکہ صبح ہوجائے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9671]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3237، م: 1436
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3237، م: 1436
حدیث نمبر: 9672 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبُو حَيَّانَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" يَا بِلَالُ، حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً، فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ"، فَقَالَ بِلَالٌ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ، مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي أَنْ أُصَلِّيَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا بلال مجھے اپنا کوئی ایسا عمل بتاؤ جو زمانہ اسلام میں کیا ہو اور تمہیں اس کا ثواب ملنے کی سب سے زیادہ امید ہو؟ کیونکہ میں نے آج رات جنت میں تمہارے قدموں کی چاپ اپنے آگے سنی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے زمانہ اسلام میں اس کے علاوہ کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کا ثواب ملنے کی مجھے سب سے زیادہ امید ہو کہ میں نے دن یا رات کے جس حصے میں بھی وضو کیا اس وضو سے حسب توفیق نماز ضرور پڑھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9672]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1149، م: 2458
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1149، م: 2458
حدیث نمبر: 9673 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ حَسَنٌ , وَحُسَيْنٌ هَذَا عَلَى عَاتِقِهِ وَهَذَا عَلَى عَاتِقِهِ، وَهُوَ يَلْثِمُ هَذَا مَرَّةً وَيَلْثِمُ هَذَا مَرَّةً، حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُحِبُّهُمَا. فَقَالَ: " مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائیں تو آپ کے ساتھ حضرات حسنین رضی اللہ عنہ بھی تھے ایک کندھے پر ایک اور دوسرے کندھے پر دوسرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی ایک کو بوسہ دیتے اور کبھی دوسرے کو اسی طرح چلتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے قریب آگئے ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ ان دونوں سے بڑی محبت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو ان دونوں سے محبت کرتا ہے گویا وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9673]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن
حدیث نمبر: 9674 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَيْحَانُ , وَجَيْحَانُ، وَالنِّيلُ , وَالْفُرَاتُ، وَكُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ" . قَالَ أَبُو أُسَامَةَ:" كُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دریائے فرات، دریائے نیل، دریائے جیحون، دریائے سیحون، سب جنت کی نہریں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9674]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2839
الحكم: إسناده صحيح، م: 2839
حدیث نمبر: 9675 مسند احمد
أَبُو أُسَامَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي يَحْيَى ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا، وَصِيَامِهَا، وَصَدَقَتِهَا، غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، قَالَ: " هِيَ فِي النَّارِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ قِلَّةِ صِيَامِهَا، وَصَدَقَتِهَا، وَصَلَاتِهَا، وَإِنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ، وَلَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، قَالَ:" هِيَ فِي الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فلاں عورت کثرت سے نماز، روزہ اور صدقہ کرنے میں مشہور ہے لیکن وہ اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو ستاتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ جہنمی ہے پھر اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فلاں عورت نماز، روزہ اور صدقہ کی کمی میں مشہور ہے وہ صرف پنیر کے چند ٹکڑے صدقہ کرتی ہے لیکن اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو نہیں ستاتی فرمایا وہ جنتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9675]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9676 مسند احمد
أَبُو أُسَامَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ عَادَ مَرِيضًا، وَمَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ وَعْكٍ كَانَ بِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْشِرْ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا، لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ ایک مریض کی عیادت کے لئے " جسے بخار ہوگیا تھا " تشریف لے گئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا خوش ہوجاؤ کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنی آگ کو اپنے مومن بندے پر دنیا ہی میں مسلط کردیتا ہوں تاکہ آخرت میں اس کا جو حصہ ہے وہ دنیا ہی میں پورا ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9676]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 9677 مسند احمد
أَسْبَاطٌ ، مُطَرِّفٌ ، أَبِي الْجَهْمِ ، أَبِي زَيْدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، طَوْقٌ مِنْ ذَهَبٍ. قَالَ:" طَوْقٌ مِنْ نَارٍ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ. قَالَ:" سِوَارَانِ مِنْ نَارٍ". قَالَتْ: قُرْطَانِ مِنْ ذَهَبٍ. قَالَ:" قُرْطَانِ مِنْ نَارٍ"، قَالَ وَكَانَ عَلَيْهَا سِوَارٌ مِنْ ذَهَبٍ فَرَمَتْ بِهماِ، ثُمَّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ إِحْدَانَا إِذَا لَمْ تَزَّيَّنْ لِزَوْجِهَا صَلِفَتْ عِنْدَهُ، قَالَ: فَقَالَ: " مَا يَمْنَعُ إِحْدَاكُنَّ تَصْنَعُ قُرْطَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، ثُمَّ تُصَفِّرُهُمَا بِالزَّعْفَرَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ سونے کا ہار ہے فرمایا یہ جہنم کی آگ کا طوق ہے اس نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ سونے کے دو کنگن ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ آگ کے کنگن ہیں اس نے کہا یہ سونے کی دو بالیاں ہیں فرمایا آگ کی بالیاں ہیں اس خاتون نے سونے کے کنگن پہن رکھے تھے اس نے وہ اتار کر پھینک دئیے اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم میں سے جو عورت اپنے شوہر کے سامنے زیب وزینت اختیار نہ کرے وہ اس کی نگاہوں میں بےوقعت ہوجاتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہیں اس بات سے کس نے روکا ہے کہ چاندی کی بالیاں بنا کر ان پر زعفران کا رنگ پھیر دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9677]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبي زيد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبي زيد
حدیث نمبر: 9678 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ: عَلِيمٌ حَكِيمٌ، غَفُورٌ رَحِيمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے قرآن کریم سات حرفوں پر نازل کیا ہے مثلا علیم حکیم غفور رحیم۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9678]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9679 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، سُفْيَانَ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ، مَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی جان اس وقت تک لٹکتی رہتی ہے جب تک اس پر قرض موجود ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9679]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن