بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 184 از 194
حدیث نمبر: 10780 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَسُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي بْنَ مَعْمَرٍ أَبُو طُوَالَةَ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَسُرَيْجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي بْنَ مَعْمَرٍ أَبُو طُوَالَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: " أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي؟ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے میری خاطر آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں؟ میرے جلال کی قسم! آج میں انہیں اپنے سائے میں جبکہ میرے سائے کے علاوہ کہیں سایہ نہیں۔ جگہ عطاء کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10780]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:2566
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:2566
حدیث نمبر: 10781 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيَدَعَنَّ رِجَالٌ فَخْرَهُمْ بِأَقْوَامٍ إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَهَنَّمَ , أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجُعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتَنَ" , وَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ , مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ , وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ , النَّاسُ بَنُو آدَمَ , وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ اپنے آباؤ اجداد پر فخر کرنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ کی نگاہوں میں وہ اس بکری سے بھی زیادہ حقیر ہوں گے جس کے جسم سے بدبو آنا شروع ہوگئی ہو اللہ تبارک وتعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا تعصب اور اپنے آباؤ اجداد پر فخر کرنا دور کردیا ہے اب یا تو کوئی شخص متقی مسلمان ہوگا یا بدبخت گناہگار ہوگا سب لوگ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور آدم (علیہ السلام) کی پیدائش مٹی سے ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10781]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10782 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، زُهَيْرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي، وَلَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ بِالْفَلَاةِ، وَمَنْ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا , وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا , وَإِذَا أَقْبَلَ إِلَيَّ يَمْشِي أَقْبَلْتُ أُهَرْوِلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جو تم میں سے کسی کو جنگل میں اپنا گمشدہ سامان (یا سواری) ملنے سے ہوتی ہے اگر وہ ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتاہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10782]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح،خ5755،5717 م: 2747،2223،2220
الحكم: إسناده صحيح،خ5755،5717 م: 2747،2223،2220
حدیث نمبر: 10783 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ ، أَبِي ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ , حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ , أَخْبَرَنِي أَبِي , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ هَذَا , بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَرَّ بِالْمُسْلِمِينَ شَهْرٌ قَطُّ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْهُ , وَمَا مَرَّ بِالْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ قَطُّ أَشَرُّ لَهُمْ مِنْهُ , بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَيَكْتُبُ أَجْرَهُ وَنَوَافِلَهُ , وَيَكْتُبُ إِصْرَهُ وَشَقَاءَهُ , مِنْ قَبْلِ أَنْ يُدْخِلَهُ , وَذَاكَ لِأَنَّ الْمُؤْمِنَ يُعِدُّ فِيهِ الْقُوَّةَ مِنَ النَّفَقَةِ لِلْعِبَادَةِ , وَيُعِدُّ فِيهِ الْمُنَافِقُ ابْتِغَاءَ غَفَلَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَوْرَاتِهِمْ , فَهُوَ غُنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ يَغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ" , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ , حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ" , فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ مہینہ تم پر سایہ فگن ہوا ہے پیغمبر اللہ قسم کھاتے ہیں کہ مسلمانوں پر ماہ رمضان سے بہتر کوئی مہینہ سایہ فگن نہیں ہوتا اور منافقین پر رمضان سے زیادہ سخت کوئی مہینہ نہیں آتا اللہ تعالیٰ اس کے آنے سے پہلے اس کا اجر اور نوافل لکھنا شروع کردیتا ہے اور منافقین کا گناہوں پر اصرار اور بدبختی بھی پہلے سے لکھنا شروع کردیتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اس مہینے میں عبادت کے لئے طاقت مہیا کرتے ہیں اور منافقین لوگوں کی غفلتوں اور عیوب کو تلاش کرتے ہیں گویا یہ مہینہ مسلمان کے لئے غنیمت ہے جس پر گناہ گار لوگ رشک کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10783]
حکم دارالسلام
إسناد ضعیف لضعف کثیر
الحكم: إسناد ضعیف لضعف کثیر
حدیث نمبر: 10784 مسند احمد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ - وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ -: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم: «أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ» فَذَكَرَهُ
حکم دارالسلام
إسناد ضعیف کسابقہ،وانظر ماقبلہ
الحكم: إسناد ضعیف کسابقہ،وانظر ماقبلہ
حدیث نمبر: 10785 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، زَيْدٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى , وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى , وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" , قَالَ: سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا مَنْ تَعُولُ؟ قَالَ: امْرَأَتُكَ تَقُولُ: أَطْعِمْنِي أَوْ أَنْفِقْ عَلَيَّ شَكَّ أَبُو عَامِرٍ أَوْ طَلِّقْنِي، وَخَادِمُكَ يَقُولُ: أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي , وَابْنَتُكَ تَقُولُ: إِلَى مَنْ تَذَرُنِي؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کچھ نہ کچھ مالداری چھوڑ دے (سارا مال خرچ نہ کرے) اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم صدقہ کرنے میں ان لوگوں سے ابتداء کیا کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں کسی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ذمہ داری والے افراد کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا تمہاری بیوی کہتی ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ مجھے طلاق دے دو خادم کہتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ کسی اور کے ہاتھ فروخت کردو اولاد کہتی ہے کہ آپ مجھے کس کے سہارے چھوڑے جاتے ہیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10785]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 5355
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 5355
حدیث نمبر: 10786 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ , عَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشِعْبٍ فِيهِ عُيَيْنَةُ مَاءٍ عَذْبٍ، فَأَعْجَبَهُ طِيبُهُ، فَقَالَ: لَوْ أَقَمْتُ فِي هَذَا الشِّعْبِ فَاعْتَزَلْتُ النَّاسَ , وَلَا أَفْعَلُ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا تَفْعَلْ , فَإِنَّ مَقَامَ أَحَدِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاةِ سِتِّينَ عَامًا خَالِيًا، أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ الْجَنَّةَ؟ اغْزُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ , مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ , وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک صحابی کا کسی ایسی جگہ سے گذر ہوا جہاں پر میٹھے پانی کا چشمہ تھا اور انہیں وہاں کی آب وہوا بھی اچھی لگی انہوں نے سوچا کہ میں یہیں رہائش اختیار کر کے خلوت گزیں ہوجاتا ہوں پھر انہوں نے سوچا کہ نہیں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھوں گا چنانچہ انہوں نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کا جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہونا اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتے ہوئے ساٹھ سال تک مسلسل عبادت کرنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور تم جنت میں داخل ہوجاؤ؟ اللہ کی راہ میں جہاد کرو جو شخص اونٹنی کے تھن میں دودھ اترنے کی مقدار کے برابر بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے اس کے لئے جنت واجب ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10786]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10787 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، خِلَاسٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ خِلَاسٍ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا دَابَّةً وَلَمْ يَكُنْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ ," فَأَمَرَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان ایک جانور کے بارے میں جھگڑا ہوگیا لیکن ان میں سے کسی کے پاس بھی اپنی ملکیت ثابت کرنے کے لئے گواہ نہیں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں قسم پر قرعہ اندازی کرنے کا حکم دیا (جس کے نام قرعہ نکل آئے وہ قسم کھالے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10787]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح،خ:2674
الحكم: إسناده صحيح،خ:2674
حدیث نمبر: 10788 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَنْظَلَةُ ، سَالِمًا ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ , قََالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُقْبَضُ الْعِلْمُ , وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ , وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ" , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ بِيَدِهِ: هَكَذَا , يَعْنِي: الْقَتْلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علم کو اٹھا نہ لیا جائے فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا نبی اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قتل قتل۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10788]
حکم دارالسلام
وإسناده حسن، خ: 7061، م: 2672
الحكم: وإسناده حسن، خ: 7061، م: 2672
حدیث نمبر: 10789 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ , وَلَا يُنَجِّيهِ مِنَ النَّارِ"، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَفَضْلٍ" , مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل کرکے جہنم سے نجات نہیں دلاسکتا جب تک کہ اللہ کا فضل و کرم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یارسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ دہرایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10789]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح،خ:5673، م: 2816
الحكم: إسناده صحيح،خ:5673، م: 2816
حدیث نمبر: 10790 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , حَدَّثَنَا أَبِي ، قََالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا طِيَرَةَ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ" , قِيلَ: وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ:" الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے البتہ " فال " سب سے بہتر ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! فال سے کیا مراد ہے؟ فرمایا اچھا کلمہ جو تم میں کوئی سنے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10790]
حکم دارالسلام
حديث صحيح،خ:5755، م: 2223،وھذا إسناد ضعیف لضعف النعمان
الحكم: حديث صحيح،خ:5755، م: 2223،وھذا إسناد ضعیف لضعف النعمان
حدیث نمبر: 10791 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، يُونُسَ بْنَ يَزِيدَ الْأَيْلِيَّ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , قََالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يَزِيدَ الْأَيْلِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ، فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا , وَتَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الْأَمْرِ أَكْرَهَهُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ , وَتَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں تم محسوس کروگے کہ ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں اور تم اس معاملے میں اس آدمی کو سب سے بہترین پاؤگے جو اس دین میں داخل ہونے سے پہلے بھی معزز تھا اور تم لوگوں میں سب سے بدترین شخص اس آدمی کو پاؤگے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10791]
حکم دارالسلام
إسناده صحیح،خ:2493،م:2526
الحكم: إسناده صحیح،خ:2493،م:2526
حدیث نمبر: 10792 مسند احمد
وَهْبٌ ، أَبِي ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَهْبٌ , حَدَّثَنَا أَبِي ، قََالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ , وَيَفِيضُ الْمَالُ , وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ , وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ" , قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ الْقَتْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمانہ قریب آجائے گا مال پانی کی طرح بہنے لگے گا فتنوں کا ظہور ہوگا اور " ہرج " کی کثرت ہوجائے گی کسی نے پوچھا کہ ہرج کا کیا معنی ہے؟ فرمایا قتل۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10792]
حکم دارالسلام
إسناده صحیح،خ:7061،م:2672
الحكم: إسناده صحیح،خ:7061،م:2672
حدیث نمبر: 10793 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ ، الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَبْدِ الِلَّهِ ، إِبْرَاهِيمُ ، عَبْدِ اللهِ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَجَاوَزُوا فِي الصَّلَاةِ , فَإِنَّ خَلْفَكُمْ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ" , قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ , عَنْ عَبْدِ الِلَّهِ , بِمِثْلِ ذَلِكَ , قََالَ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ , عَنْ عَبْدِ اللهِ , مِثْلَ ذَلِكَ، قََالَ: وَحَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ تمہارے پیچھے نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور ضرورت مند سب ہی ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10793]
حکم دارالسلام
إسناده صحیح،خ؛803،م:467
الحكم: إسناده صحیح،خ؛803،م:467
حدیث نمبر: 10794 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، بْنُ إِدْرِيسَ ، هِشَامٍ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ هِشَامٍ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَوَجَدَ رَجُلٌ عِنْدَهُ مَالَهُ، وَلَمْ يَكُنْ اقْتَضَى مِنْ مَالِهِ شَيْئًا، فَهُوَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10794]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2402، م: 1559، وهذا إسناد منقطع، الحسن االبصری لم یسمع من أبی ھریرۃ
الحكم: حديث صحيح، خ: 2402، م: 1559، وهذا إسناد منقطع، الحسن االبصری لم یسمع من أبی ھریرۃ
حدیث نمبر: 10795 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلِ الْمَدِينَةِ , فَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , أَوْ يَا أَبَا هِرٍّ , هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ , إِنَّ الْمُكْثِرِينَ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , إِلَّا مَنْ قَالَ: بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا , وَقَلِيلٌ مَا هُمْ" ." يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ" ." يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ؟" , قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ: " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ , وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا , وَإِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اہل مدینہ میں سے کسی کے باغ میں چلا جارہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ! مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں پھر کچھ دیرچلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ! کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیوں نہیں فرمایا یوں کہا کرو لاحول ولاقوۃ الا باللہ و لاملجا من اللہ الا الیہ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر لوگوں کا کیا حق ہے؟ اور لوگوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں اور جب وہ یہ کرلیں تو اللہ پر ان کا حق یہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10795]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 10796 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، صَالِحِ بْنِ نَبْهَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ صَالِحِ بْنِ نَبْهَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا تَدَابَرُوا , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے تجارت نہ کرے آپس میں قطع رحمی نہ کرو ایک دوسرے کو تجارت میں دھوکہ نہ دو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کررہا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10796]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6724،م:2563
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6724،م:2563
حدیث نمبر: 10797 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَإِذَا لَقِيتُمْ الْمُشْرِكِينَ بِالطَّرِيقِ , فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ , وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم مشرکین سے راستے میں ملو تو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10797]
حکم دارالسلام
إسناد صحیح،م: 2167
الحكم: إسناد صحیح،م: 2167
حدیث نمبر: 10798 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ , عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَفْضُلُ الصَّلَاةُ فِي جَمَاعَةٍ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ , بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10798]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 648، م: 649
الحكم: حديث صحيح، خ: 648، م: 649
حدیث نمبر: 10799 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَامِرُ بْنُ يَسَافٍ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْحَنَفِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ يَسَافٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْحَنَفِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى صَلَاةِ رَجُلٍ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ اس آدمی کی نماز پر نظر بھی نہیں فرماتا جو رکوع اور سجدے کے درمیان اپنی کمر کو سیدھا نہیں کرتا۔ (اطمینان سے ارکان ادا نہیں کرتا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10799]
حکم دارالسلام
حدیث حسن،وھذا إسناد مختلف فیہ،عامر: مختلف فیہ
الحكم: حدیث حسن،وھذا إسناد مختلف فیہ،عامر: مختلف فیہ