بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 57 از 194
حدیث نمبر: 8239 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُ أَنِّي أَنْزِعُ عَلَى حَوْضِي أَسْقِي النَّاسَ، فَأَتَانِي أَبُو بَكْرٍ، فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ يَدِي لِيُرِفَّهُ، حَتَّى نَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، قَالَ: فَأَتَانِي ابْنُ الْخَطَّابِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، فَأَخَذَهَا مِنِّي، فَلَمْ يَنْزِعْ رَجُلٌ حَتَّى تَوَلَّى النَّاسُ، وَالْحَوْضُ يَتَفَجَّرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا خواب میں میں نے دیکھا کہ میں اپنے حوض پر ڈول کھینچ کر لوگوں کو پانی پلا رہا ہوں پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور مجھے راحت پہنچانے کے لئے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا اور دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزوری کے آثار تھے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اللہ ان کی مغفرت فرمائے انہوں نے وہ ڈول لیا ان کے بعد کسی آدمی کو ڈول کھینچنے کی نوبت نہیں آئی یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو کر چلے گئے اور حوض میں سے پانی ابھی بھی ابل رہا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8239]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7022، م: 2392
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7022، م: 2392
حدیث نمبر: 8240 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا خُوزَ وَكِرْمَانَ، قَوْمًا مِنَ الْأَعَاجِمِ حُمْرَ الْوُجُوهِ، فُطْسَ الْأُنُوفِ، صِغَارَ الْأَعْيُنِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم خوز اور کرمان جو عجمیوں کی ایک قوم ہے سے جنگ نہ کرلو ان کے چہرے سرخ ناکیں چپٹی ہوئی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ان کے چہرے چپٹی ہوئی کمان کی مانند ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8240]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3590، م: 2912
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3590، م: 2912
حدیث نمبر: 8241 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا أَقْوَامًا نِعَالُهُمْ الشَّعْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کرو جن کی جوتیاں بالوں سے بنی ہوں گی [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8241]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8242 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخُيَلَاءُ وَالْفَخْرُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تکبر اور فخر گھوڑے اور اونٹ والوں میں ہوتا ہے اور سکون و اطمینان بکری والوں میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8242]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 8243 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ، مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ، وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس دین کے معاملے میں تمام لوگ قریش کے تابع ہیں عام مسلمان قریشی مسلمانوں اور عام کافر قریشی کافروں کے تابع ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8243]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3495، م: 1818
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3495، م: 1818
حدیث نمبر: 8244 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ، صالحُ نِسَاءُ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی اپنی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8244]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527
حدیث نمبر: 8245 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَيْنُ حَقٌّ"، وَنَهَى عَنِ الْوَشْمِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نظر لگنا برحق ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جسم گدوانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8245]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5740، م: 2187
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5740، م: 2187
حدیث نمبر: 8246 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتْ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ، لَا يَمْنَعُهُ إِلَّا انْتِظَارُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آدمی جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے نماز کا انتظار ہی اسے مسجد میں روک کر رکھتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8246]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 477، م: 649
الحكم: إسناده صحيح، خ: 477، م: 649
حدیث نمبر: 8247 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8247]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1426
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1426
حدیث نمبر: 8248 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ"، قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ، وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمام لوگوں میں دین و آخرت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کیسے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمام انبیاء (علیہم السلام) باپ شریک بھائی ہیں اور ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہی ہے میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8248]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3442، م: 2365
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3442، م: 2365
حدیث نمبر: 8249 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُوتِيتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي، فَأُوحِيَ إِلَيَّ: أَنْ انْفُخْهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبُ صَنْعَاءَ، وَصَاحِبُ الْيَمَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا اسی دوران میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے مجھے وہ بڑے گراں گذرے چنانچہ مجھ پر وحی آئی کہ انہیں پھونک مار دو چنانچہ میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے میں نے اس کی تعبیر ان دو کذابوں سے کی جن کے درمیان میں ہوں یعنی صنعا والا (اسود عنسی) اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8249]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4375، م: 2274
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4375، م: 2274
حدیث نمبر: 8250 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ وَاحِدٌ منكُمْ بِمُنْجِيهِ عَمَلُهُ، وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا"، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَفَضْلٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا البتہ سیدھے اور قریب رہو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8250]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 5673، م: 2816
الحكم: صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 8251 مسند احمد
وَقَالَ: وَقَالَ:" نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَلِبْسَتَيْنِ: أَنْ يَحْتَبِيَ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ فِي إِزَارِهِ إِذَا مَا صَلَّى، إِلَّا أَنْ يُخَالِفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقِهِ، وَنَهَى عَنِ اللَّمْسِ وَالنَّجْشِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو قسم کی خریدو فروخت اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے لباس تو یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرا سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے الاّ یہ کہ وہ اس کے دو کنارے مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈال لے اور بیع ملامسہ اور نجش سے منع فرمایا ہے۔ فائدہ: بیع ملامسہ کا مطلب یہ ہے کہ خریدار یہ کہہ دے کہ میں جس چیز پر ہاتھ رکھ دوں وہ اتنے روپے کی میری ہوگئی اور نجش سے مراد دھوکہ ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8251]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2145، م: 1511
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2145، م: 1511
حدیث نمبر: 8252 مسند احمد
وَقَال: " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8252]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 8253 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أنا أَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَه"، قَالَ:" رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، وَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، َإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْن، قَال:" اللَّهُ أَكْبَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز کے اعتبار سے میں تم سب سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشابہہ ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو ربنا و لک الحمد کہتے جب رکوع میں جاتے یا رکوع سے سر اٹھاتے یا دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے تو ہر موقع پر تکبیر کہتے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8253]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 795، م: 392
الحكم: إسناده صحيح، خ: 795، م: 392
حدیث نمبر: 8254 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِم ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَجْلَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِم ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ مِنْ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ بِإِصْبَعِهِ، إِلَّا مَرْيَم وابنها" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان اپنی انگلی سے کچوکے لگاتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہ السلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8254]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3431، م: 2366
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3431، م: 2366
حدیث نمبر: 8255 مسند احمد
عن رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قال:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِه، إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى مَا وَرَائِي كَمَا أَنْظُرُ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيَّ، فَسَوُّوا صُفُوفَكُمْ، وَأَحْسِنُوا رُكُوعَكُمْ، وَسُجُودَكُم" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے آگے اور سامنے کی چیزیں دیکھ رہا ہوتا ہوں اس لئے تم اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو اور اپنے رکوع و سجود کو خوب اچھی طرح ادا کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8255]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 418، م: 423
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 418، م: 423
حدیث نمبر: 8256 مسند احمد
وَبِإِسْنَادِه، وَبِإِسْنَادِه، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ مِنْ حَوْلِ الْمَسْجِدِ لَا يَشْهَدُونَ الْعِشَاَء، أَوْ لَّا حَرِّقَنَّ حَوْلَ بُيُوتِهِمْ بِحُزَمِ الْحَطَب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسجد کے ارد گرد رہنے والے جو لوگ نماز عشاء میں نہیں آتے وہ نماز ترک کرنے سے باز آجائیں ورنہ میں ان کے گھروں کے پاس لکڑیوں کے گٹھے جمع کر کے انہیں آگ لگا دوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8256]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2420، م: 651
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2420، م: 651
حدیث نمبر: 8257 مسند احمد
هَاشِمٌ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الَّأَسْوَدِ بْنِ الََْعَلَاءِ الثَّقَفِيّ ، أَبِي سَلَمَة ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الَّأَسْوَدِ بْنِ الََْعَلَاءِ الثَّقَفِيّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَال: " مِنْ حِينِ يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِهِ فَرِجْلٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً، وَالْأُخْرَى تَمْحُو سَيِّئَة" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے گھر سے میری مسجد کے لئے نکلے تو اس کے ایک قدم پر نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرا قدم اس کے گناہ مٹاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8257]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 477، م: 666
الحكم: إسناده صحيح، خ: 477، م: 666
حدیث نمبر: 8258 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَمْزَةُ يَعْنِي الزَّيَّاتَ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، اْلأَغَرِّ أَبِي مُسْلِم ، أَبِي هُرَيْرَة ، وأبي سعيدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ يَعْنِي الزَّيَّاتَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ اْلأَغَرِّ أَبِي مُسْلِم ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، وأبي سعيدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَال:" فَيُنَادِي مَعَ ذَلِك: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا , وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلاَ تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشُبُّوا فَلاَ تَهْرَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا" قَال: َيَتَنَادَوْنَ بِهَذِهِ الْأَرْبَعَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں یہ منادی کردی جائے گی کہ تم زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی غم نہ دیکھو گے یہ چار انعامات منادی کر کے سنائیں جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8258]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح