بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 8249
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 8249
حدیث نمبر: 8249 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُوتِيتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي، فَأُوحِيَ إِلَيَّ: أَنْ انْفُخْهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبُ صَنْعَاءَ، وَصَاحِبُ الْيَمَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا اسی دوران میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے مجھے وہ بڑے گراں گذرے چنانچہ مجھ پر وحی آئی کہ انہیں پھونک مار دو چنانچہ میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے میں نے اس کی تعبیر ان دو کذابوں سے کی جن کے درمیان میں ہوں یعنی صنعا والا (اسود عنسی) اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8249]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4375، م: 2274
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4375، م: 2274
← پچھلی حدیث (8248) باب پر واپس اگلی حدیث (8250) →