بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 8251
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 8251
حدیث نمبر: 8251 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ: وَقَالَ:" نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَلِبْسَتَيْنِ: أَنْ يَحْتَبِيَ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ فِي إِزَارِهِ إِذَا مَا صَلَّى، إِلَّا أَنْ يُخَالِفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقِهِ، وَنَهَى عَنِ اللَّمْسِ وَالنَّجْشِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو قسم کی خریدو فروخت اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے لباس تو یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرا سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے الاّ یہ کہ وہ اس کے دو کنارے مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈال لے اور بیع ملامسہ اور نجش سے منع فرمایا ہے۔ فائدہ: بیع ملامسہ کا مطلب یہ ہے کہ خریدار یہ کہہ دے کہ میں جس چیز پر ہاتھ رکھ دوں وہ اتنے روپے کی میری ہوگئی اور نجش سے مراد دھوکہ ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8251]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2145، م: 1511
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2145، م: 1511
← پچھلی حدیث (8250) باب پر واپس اگلی حدیث (8252) →