بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 69 از 194
حدیث نمبر: 8479 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَجْلَانَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَجْلَانَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدَهُمَا مُسْلِمٌ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ الْمُسْلِمُ أَوْ قَارَبَ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي جَوْفِ عَبْدٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ الْإِيمَانُ وَالشُّحُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو آدمی جہنم میں اس طرح جمع نہیں ہوں گے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچائے وہ مسلمان جو کسی کافر کو قتل کرے اور اس کے بعد سیدھا راستہ اختیار کرلے اور ایک مسلمان کے نتھنوں میں جہاد فی سبیل اللہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں اکھٹے نہیں ہوسکتے اسی طرح ایک مسلمان کے دل میں ایمان اور بخل اکھٹے نہیں ہوسکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8479]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 1891
الحكم: صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 1891
حدیث نمبر: 8480 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي الزِّنَادِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " خَرَجَتْ امْرَأَتَانِ وَمَعَهُمَا صَبِيَّانِ، فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَى أَحَدِهِمَا، فَأَخَذَتَا يَخْتَصِمَانِ فِي الصَّبِيِّ الْبَاقِي، فَاخْتَصَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا، فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ النَّبِيِّ , فَقَالَ: كَيْفَ أَمَرَكُمَا؟ فَقَصَّتَا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّ الْغُلَامَ بَيْنَكُمَا، فَقَالَتْ الصُّغْرَى: أَتَشُقُّهُ؟! قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: لَا تَفْعَلْ، حَظِّي مِنْهُ لَهَا، فَقَالَ: هُوَ ابْنُكِ، فَقَضَى بِهِ لَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو عورتیں تھیں ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے تھے اچانک کہیں سے ایک بھیڑیا آیا اور ایک لڑکے کو اٹھا کرلے گیا وہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر حضرت داؤد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ جو بچہ رہ گیا وہ بڑی والی کا ہے۔ وہ دونوں وہاں سے نکلیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے انہیں بلا لیا اور فرمانے لگے کہ تمہارا کیا مسئلہ ہے؟ انہوں نے اپنا واقعہ بیان کیا حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا چھری لے کر آؤ میں اس بچے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے تمہیں دیتا ہوں یہ سن کر چھوٹی والی کہنے لگی کہ اللہ آپ پر رحم فرمائے یہ اسی کا بچہ ہے (کم ازکم زندہ تو رہے گا) آپ اسے دو حصوں میں تقسیم نہ کریں چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے چھوٹی والی کے حق میں فیصلہ کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8480]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3427، م: 1720
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3427، م: 1720
حدیث نمبر: 8481 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا"، قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: فَإِنَّكَ تُدَاعِبُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ:" إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تو ہمیشہ حق بات ہی کہتا ہوں کسی صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ تو ہمارے ساتھ مذاق بھی کرتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مذاق میں بھی ہمیشہ حق بات ہی کہتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8481]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8482 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْأَكْثَرُونَ الْأَسْفَلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہی قیامت کے دن نچلے درجے میں ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8482]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 8483 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدٍ ، الْعَجْلَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ الْعَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ فَقَالَ: " أَنَا وَالَّذِينَ مَعِي، ثُمَّ الَّذِينَ عَلَى الْأَثَرِ، ثُمَّ الَّذِينَ عَلَى الْأَثَرِ" ثُمَّ كَأَنَّهُ رَفَضَ مَنْ بَقِيَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے بہتر انسان کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اور میرے ساتھی اس کے بعد وہ لوگ جو ہمارے بعد ہوں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے اس بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8483]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 8484 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدٍ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " لَنْ يَزَالَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ عِصَابَةٌ عَلَى الْحَقِّ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک جماعت دین کے معاملے میں ہمیشہ حق پر رہے گی اور کسی مخالفت کرنے والے کی مخالفت اسے نقصان نہ پہنچا سکے گی یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ اسی حال پر ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8484]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8485 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدٍ ، الْقَعْقَاعِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الذُّبَابَ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءٌ، وَفِي الْآخَرِ شِفَاءٌ، فَإِذَا وَقَعَ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَإِنَّهُ يَتَّقِي بِالَّذِي فِيهِ الدَّاءُ، فَلْيغِْمْسه ثُمَّ يُخْرِجُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے میں بیماری ہوتی ہے اور وہ بیماری والے پر کے ذریعے اپنا بچاؤ کرتی ہے (پہلے اسے برتن میں ڈالتی ہے) اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8485]
حکم دارالسلام
إسناده قوي والحديث صحيح، خ: 5782
الحكم: إسناده قوي والحديث صحيح، خ: 5782
حدیث نمبر: 8486 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخٍِِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مردوں کی صفوں میں پہلی صف سب سے بہترین اور آخری صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں آخری صف سب سے بہترین اور پہلی صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8486]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، م: 440
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، م: 440
حدیث نمبر: 8487 مسند احمد
يُونُسُ ، وَحَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَوَضَّأُ أَحَدُكُمْ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ وَيُسْبِغُهُ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِيهِ، إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِطَلْعَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح اور مکمل احتیاط سے کرے پھر مسجد میں آئے اور اس کا مقصد صرف نماز پڑھنا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوتے ہیں جیسے کسی مسافر کے اپنے گھر پہنچنے پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8487]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبي عبيدة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبي عبيدة
حدیث نمبر: 8488 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٍ ، سَعِيدٌ ، عَبَّادِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ لَيْثٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَخِيهِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ میں چار چیزوں سے آپ کی پناہ میں آتاہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے ایسے دل سے جو خشیت اور خشوع سے خالی ہو ایسے نفس سے جو کبھی سیراب نہ ہو اور ایسی دعاء سے جو قبول نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8488]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عباد لم يرو عنه غير أخيه، وذكره العجلي وابن حبان وابن خلفون فى جملة الثقات
الحكم: حديث صحيح، عباد لم يرو عنه غير أخيه، وذكره العجلي وابن حبان وابن خلفون فى جملة الثقات
حدیث نمبر: 8489 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، سَعِيدٌ ، أَبِيهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُسَافِرُ لَيْلَةً، إِلَّا وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَةٍ مِنْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان عورت کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر ایک دن کا بھی سفر کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8489]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1088، م: 1339
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1088، م: 1339
حدیث نمبر: 8490 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، سَعِيدٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، أَعَزَّ جُنْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اسی نے اپنے لشکر کو غالب کیا اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں پر تنہا غالب آگیا اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8490]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4114، م: 2724
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4114، م: 2724
حدیث نمبر: 8491 مسند احمد
يُونُسُ ، وَحَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ يُونُسُ: عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کو کچھ نہ کچھ معجزات ضرور دیئے گئے جن پر لوگ ایمان لاتے رہے اور مجھے جو معجزہ دیا گیا ہے وہ اللہ کی وحی ہے جو وہ میری طرف بھیجتا ہے اور مجھے امید ہے کہ تمام انبیاء سے زیادہ قیامت کے دن میرے پیروکار ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8491]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4981، م: 152
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4981، م: 152
حدیث نمبر: 8492 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَمْرٍو ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: إِنَّ عَبْدِي الْمُؤْمِنَ عِنْدِي بِمَنْزِلَةِ كُلِّ خَيْر، يَحْمَدُنِي وَأَنَا أَنْزِعُ نَفْسَهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میری نگاہوں میں اپنے بندہ مومن کے لئے ہر موقع پر خیر ہی خیر ہے وہ میری حمد بیان کر رہا ہوتا ہے کہ میں اس کے دونوں پہلوؤں سے اس کی روح کھینچ لیتاہوں (مرتے وقت بھی وہ میری حمد کر رہا ہوتا ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8492]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 8493 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے واللہ میں دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8493]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6307
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6307
حدیث نمبر: 8494 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبَّادُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ اسْتَمَعَ إِلَى آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، كُتِبَ لَهُ حَسَنَةٌ مُضَاعَفَةٌ، وَمَنْ تَلَاهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن کی ایک آیت سنتا ہے اس کے لئے بڑھا چڑھا کر نیکی لکھی جاتی ہے اور جو اس کی تلاوت کرتا ہے وہ اس کے لئے قیامت کے دن باعث نور ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8494]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عباس لين الحديث ، والحسن لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: إسناده ضعيف، عباس لين الحديث ، والحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8495 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، وُهَيْبٌ ، عِسْلُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عِسْلُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا طَلَعَ النَّجْمُ ذَا صَبَاحٍ، رُفِعَتْ الْعَاهَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب صبح والا ستارہ طلوع ہوجائے تو (کھیتوں کی) مصیبتیں ٹل جاتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8495]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 8496 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، وُهَيْبٌ ، وَحَمَّادٌ ، عِسْلٍ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، وَحَمَّادٌ , عَنْ عِسْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّدْلِ" ، يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں کپڑا لٹکانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8496]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عسل
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عسل
حدیث نمبر: 8497 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ مِنْ تَلْبِيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا لبیک الہ الحق۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8497]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8498 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَرَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِجِذْلِ شَوْكٍ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ: لَأُمِيطَنَّ هَذَا الشَّوْكَ عَنِ الطَّرِيقِ أَنْ لَا يَعْقِرَ رَجُلًا مُسْلِمًا"، قَال" فَغُفِرَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے گذرتے ہوئے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا تاکہ کوئی مسلمان زخمی نہ ہوجائے اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8498]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 652، م: 1914
الحكم: إسناده صحيح، خ: 652، م: 1914