بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 75 از 194
حدیث نمبر: 8600 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ خَيْرَ الْعَمَلِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے اوپر اتنے عمل کا بوجھ ڈالا کرو جس کی تمہارے اندر طاقت ہو کیونکہ بہترین عمل وہ ہوتا ہے جو دائمی ہو اگرچہ مقدار میں تھوڑا ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8600]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وإسنادہ ضعیف کسابقه
الحكم: حدیث صحیح ، وإسنادہ ضعیف کسابقه
حدیث نمبر: 8601 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لبَِنى عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: " يا بنى عبد المطلب، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، يَا بنى هاشم، اشْتَرُوا أنَفْسَكُمْ مِنَ الِلَََََََّه، يا بنى عبدِ منَافٍ، اشَْتُروا أَنْفسَُكُمْ مِنَ الِله، يا أُمَّ الزُّبَيْرِ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، اشْتَرِيَا أَنْفُسَكُمَا مِنَ اللَّهِ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَاسْأَلَانِي مَا شِئْتُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو عبدالمطلب سے فرمایا: کہ اے بنی عبد المطلب اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو اے بنی ہاشم اپنے آپ کو اللہ سے خرید لواے بنی عبدالمناف اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو اے پیغمبر اللہ کی پھوپھی۔ ام زبیر اور اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو کیونکہ میں اللہ کی طرف سے تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ تم جو چاہو مجھ سے (مال و دولت) مانگ سکتی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8601]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 3527 ، م : 206 ، وھذا إسناد فیه ابن لھیعة سیئ الحفظ ، وقد توبع
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 3527 ، م : 206 ، وھذا إسناد فیه ابن لھیعة سیئ الحفظ ، وقد توبع
حدیث نمبر: 8602 مسند احمد
أَبِي هُرَيْرَةَ
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَال: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِمَالِي، فَخَرَجَ بِهِ فَوَضَعَهُ فِي يَدِ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ عَلَى فُلَانَةَ الزَّانِيَةِ، ثُمَّ خَرَجَ بِمَالٍ َأَيْضًا، فَوَضَعَهُ فِي يَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ عَلَى فُلَانٍ السَّارِقِ، ثم ََّخَرَجَ بِمَالٍ أَيْضًا، فَوَضَعَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ غَنِيٍّ، وقَالَ: لَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ: لَا يَدْرِي حَيْثُ وَضَعَهُ، فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى نَفْسِهِ، فقال: وضعت صَدَقتي عند زانيةٍ، ثمََََََََّ وضَعتْهُا عند سارقٍ، ثمَََََََََّ وضَعتهُا عند غَني! فَأُرِيَ فِي الْمَنَامِ أَنَّ صَدَقَتَكَ قَدْ قُبِلَتْ، أَمَّا الزَّانِيَة، فَلَعَلَّهَا تَعِفُّ عَنْ زِنَاهَا، وَأَمَّا السَّارِقُ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يُغْنِيَهُ عَنِ السَّرِقَةِ، وَأَمَّا الْغَنِيُّ , فَلَعَلَّهُ يَعْتَبِرُ فِي مَالِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے کہا کہ میں آج کی رات صدقہ دوں گا چنانچہ وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا اور انجانے میں ایک بدکار عورت کے ہاتھ میں دے آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک بدکار عورت کو خیرات ملی دوسری رات کو پھر وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا اور ایک چور کے ہاتھ میں رکھ آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک چور کو خیرات کا مال ملا تیسری رات کو وہ صدقہ کا مال لے کر پھر نکلا اور انجانے میں ایک دولت مند کو دے آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک دولت مند کو صدقہ ملا وہ شخص کہنے لگا کہ چور کو زانیہ کو اور دولت مند شخص کو میں نے صدقہ کا مال دے دیا پھر اس نے خواب میں دیکھا کہ اس سے کہا گیا کہ تیرا صدقہ قبول ہوگیا تو نے جو چور کو صدقہ دیا تو اس کی وجہ سے شایدوہ چوری سے دست کش ہوجائے اور زانیہ کو جو تو نے صدقہ دیا تو ممکن ہے اس کی وجہ سے وہ زنا کاری چھوڑ دے باقی دولت مند بھی ممکن ہے کہ اس سے نصیحت حاصل کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8602]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح دون قوله : «من بني اسرائیل» ، خ : 1421 ، م : 1022 ، وھذا إسناد فیه ابن لھیعة سیئ الحفظ ، وقد توبع
الحكم: حدیث صحیح دون قوله : «من بني اسرائیل» ، خ : 1421 ، م : 1022 ، وھذا إسناد فیه ابن لھیعة سیئ الحفظ ، وقد توبع
حدیث نمبر: 8603 مسند احمد
حَسَنٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو صَخْرٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ دَخَلَ مَسْجِدَنَا هَذَا لِيَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ لِيُعَلِّمَهُ، كَانَ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ دَخَلَهُ لِغَيْرِ ذَلِكَ، كَانَ كَالنَّاظِرِ إِلَى مَا لَيْسَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہماری اس مسجد میں خیر سیکھنے سکھانے کے لئے داخل ہو وہ مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے اور جو کسی دوسرے مقصد کے لئے آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو کسی ایسی چیز کو دیکھنے لگے جسے دیکھنے کا اسے کوئی حق نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8603]
حکم دارالسلام
حدیث ضعیف ، و اختلف علی سعید المقبري في إسنادہ ، و حمید مختلف فیه
الحكم: حدیث ضعیف ، و اختلف علی سعید المقبري في إسنادہ ، و حمید مختلف فیه
حدیث نمبر: 8604 مسند احمد
حَسَنٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، أَبَا هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَة ، يَقُولُ: " مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي جَبْهَتِهِ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مِشْيَتِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ، إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا سورج آپ کی پیشانی پر چمک رہا ہے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ کسی کو تیز رفتار نہیں دیکھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا زمین ان کے لئے لپیٹ دی گئی ہے ہم اپنے آپ کو بڑی مشقت میں ڈال کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چل پاتے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر مشقت کا کوئی اثر نظر نہ آتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8604]
حکم دارالسلام
حدیث حسن ، ابن لھیعة ، وإن کان سیئ الحفظ، قد توبع
الحكم: حدیث حسن ، ابن لھیعة ، وإن کان سیئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 8605 مسند احمد
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حضرت لوط علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں وہ کسی مضبوط ستون کا سہارا ڈھونڈ رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8605]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 3387 ، م : 151 ، وھذا إسناد ضعیف لسوء حفظ ابن لھیعة
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 3387 ، م : 151 ، وھذا إسناد ضعیف لسوء حفظ ابن لھیعة
حدیث نمبر: 8606 مسند احمد
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيَفْرَحُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ بِخَلِفَتَيْنِ؟" قَالُوا: نَعَم، قَالَ:" فَآيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَيَخْرُجُ بِهِمَا إِلَى أَهْلِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ خَلِفَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے پاس دو حاملہ اونٹنیاں لے کر لوٹے؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں (ہر شخص چاہتا ہے) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی قرآن کریم کی دو آیتیں لے کر اپنے گھر لوٹتا ہے اس کے لئے وہ دو آیتیں دو حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8606]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، م: 802 ، وھذا إسناد ضعیف لسوء حفظ ابن لھیعة
الحكم: حدیث صحیح ، م: 802 ، وھذا إسناد ضعیف لسوء حفظ ابن لھیعة
حدیث نمبر: 8607 مسند احمد
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ، وَلَا يَدْعُو بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ قَدْ وَثِقَ بِعَمَلِهِ، فَإِنَّهُ إِنْ مَاتَ أَحَدُكُمْ، انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ، وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلَّا خَيْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے اور موت آنے سے قبل اس کی دعاء نہ کرے الاّ یہ کہ اسے اپنے اعمال پر بہت زیادہ ہی بھروسہ ہو کیونکہ تم میں سے کوئی بھی جب مرجاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں جبکہ مومن اپنی زندگی میں خیر ہی کا اضافہ کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8607]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح دون قولہ : إلا أن یکون قد وثق بعمله ، خ : 7235 ، م : 2682 ، وإنھا زیادۃ منکرۃ ، وابن لھیعة سیئ الحفظ
الحكم: حدیث صحیح دون قولہ : إلا أن یکون قد وثق بعمله ، خ : 7235 ، م : 2682 ، وإنھا زیادۃ منکرۃ ، وابن لھیعة سیئ الحفظ
حدیث نمبر: 8608 مسند احمد
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ نَفْسٍ كُتِبَ عَلَيْهَا الصَّدَقَةُ كُلَّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ، فَمِنْ ذَلِكَ أَنْ يَعْدِلَ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَأَنْ يُعِينَ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ، فَيَحْمِلَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَيَرْفَعَ مَتَاعَهُ عَلَيْهَا صَدَقَة، وَيُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِي إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص پر ہر دن میں جس میں سورج طلوع ہو صدقہ کرنا لازم قرار دیا گیا ہے اس کی صورت یہ ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے کسی آدمی کی مدد کرکے اسے سواری پر بٹھا دینا اور اس کا سامان اسے پکڑا دینا صدقہ ہے راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا بھی صدقہ ہے اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے اور نماز کے لئے اٹھنے والا ہر قدم بھی صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8608]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 2707 ، م : 1009 ، و ھذا إسناد فیه ابن لھیعة ، لکنه قد توبع
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 2707 ، م : 1009 ، و ھذا إسناد فیه ابن لھیعة ، لکنه قد توبع
حدیث نمبر: 8609 مسند احمد
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ، أَوْ نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَا يُؤْمِنُ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے اس امت میں یا کسی یہودی اور عیسائی کو میرا کلمہ پہنچے اور وہ اسے سنے اور اس وحی پر ایمان لائے بغیر مرجائے جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے تو وہ جہنمی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8609]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، م : 153 ، وھذا إسناد ضعیف ، فیه ابن لھیعة ، وقد توبع
الحكم: حدیث صحیح ، م : 153 ، وھذا إسناد ضعیف ، فیه ابن لھیعة ، وقد توبع
حدیث نمبر: 8610 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: كَذَّبَنِي عَبْدِي، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ لِيُكَذِّبَنِي، وَشَتَمَنِي عَبْدِي، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَتْمِي، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ، فَيَقُولُ: لَنْ يُعِيدَنِي كَالَّذِي بَدَأَنِي، وَلَيْسَ آخِرُ الْخَلْقِ أَهْوَنُ عَلَيَّ أَنْ أُعِيدَهُ مِنْ أَوَّلِهِ، فَقَدْ كَذَّبَنِي إِنْ قَالَهَا، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّاي، فَيَقُولُ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، أَنَا اللَّهُ أَحَدٌ الصَّمَدُ، لَمْ أَلِدْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا بندہ میری ہی تکذیب کرتا ہے۔ حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے اور مجھے ہی برابھلا کہتا ہے حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تکذیب تو اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے ہمیں جس طرح پیدا کیا ہے دوبارہ اس طرح کبھی پیدا نہیں کرے گا حالانکہ میرے لئے دوسری مرتبہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ سے زیادہ مشکل نہیں ہے (دونوں برابر ہیں) اور برا بھلا کہنا اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے حالانکہ میں تو وہ صمد (بےنیاز) ہوں جس نے کسی کو جنا اور نہ اسے کسی نے جنم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8610]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 4975 ، وھذا إسناد ضعیف کسابقه
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 4975 ، وھذا إسناد ضعیف کسابقه
حدیث نمبر: 8611 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا اكْتَحَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَكْتَحِلْ وِتْرًا، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سرمہ لگائے تو طاق عدد میں سلائی اپنی آنکھوں میں پھیرے اور جب پتھروں سے استنجاء کرے تب بھی طاق عدد میں پتھر استعمال کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8611]
حکم دارالسلام
حدیث حسن ، وھذا إسناد ضعیف لضعف ابن لھیعة
الحكم: حدیث حسن ، وھذا إسناد ضعیف لضعف ابن لھیعة
حدیث نمبر: 8612 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اكْتَحَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَكْتَحِلْ وِتْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سرمہ لگائے تو طاق عدد میں سلائی اپنی آنکھوں میں پھیرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8612]
حکم دارالسلام
حدیث حسن ، وھذا إسناد ضعیف ، وانظر ما قبله
الحكم: حدیث حسن ، وھذا إسناد ضعیف ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8613 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ جَمِيعًا، فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تین آدمی اکٹھے ہوں تو ایک کو چھوڑ کر صرف دو آدمی سرگوشی نہ کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8613]
حکم دارالسلام
صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ
الحكم: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ
حدیث نمبر: 8614 مسند احمد
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ"، فَقَالَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُم"، ثُمَّ قَالَ آخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" قَدْ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بلاحساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ سے دعاء کردیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرمادے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعاء کردی کہ اے اللہ اسے بھی ان میں شامل فرما پھر دوسرے نے کھڑے ہو کر بھی یہی عرض کیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8614]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وابن لھیعة متابع ، خ : 6542 ، م : 216
الحكم: حدیث صحیح ، وابن لھیعة متابع ، خ : 6542 ، م : 216
حدیث نمبر: 8615 مسند احمد
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَ الْقَوْمُ الْأَزْدُ، طَيِّبَةٌ أَفْوَاهُهُمْ، بَرَّةٌ أَيْمَانُهُمْ، نَقِيَّةٌ قُلُوبُهُم" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ ازد کے لوگ کتنی بہترین قوم ہیں ان کے منہ پاکیزہ ایمان عمدہ اور دل صاف ستھرے ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8615]
حکم دارالسلام
حدیث حسن ، وقد تابع عبد الله بن وھب حسنا ، وحدیثه عن ابن لھیعة صالح
الحكم: حدیث حسن ، وقد تابع عبد الله بن وھب حسنا ، وحدیثه عن ابن لھیعة صالح
حدیث نمبر: 8616 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ عبدُ الَّله بن أحمد: قال أَبِي: لَمْ يَرْفَعْهُ قَالَ: جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَي، فَقَالَ: أَجِبْ رَبَّكَ، فَلَطَمَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا، فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: إِنَّكَ بَعَثْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي، قَالَ: فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ، وَقَال: ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ لَهُ: الْحَيَاةَ تُرِيدُ؟ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ، فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَمَا دَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعَرَه، فَإِنَّكَ تَعِيشُ لَهَا سَنَةً، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ يَا رَبِّ مِنْ قَرِيبٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ملک الموت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جب ان کی روح قبض کرنے کے لئے پہنچے اور ان سے کہا کہ اپنے رب کی پکار پر لبیک کہئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک طمانچہ مار کر ان کی آنکھ پھوڑ دی وہ پروردگار کے پاس واپس جا کر کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا اللہ نے ان کی آنکھ واپس لوٹا دی اور فرمایا: ان کے پاس واپس جا کر ان سے کہو کہ ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھ دیں ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آگئے ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہوجائے گا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ اے پروردگار پھر کیا ہوگا فرمایا: پھر موت آئے گی انہوں نے کہا تو پھر ابھی سہی [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8616]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات لکن اختلف في رفعه و وقفه ، خ : 1339 ، م : 2372 ، وھذا إسناد فیه ابن لھیعة سیئ الحفظ
الحكم: رجاله ثقات لکن اختلف في رفعه و وقفه ، خ : 1339 ، م : 2372 ، وھذا إسناد فیه ابن لھیعة سیئ الحفظ
حدیث نمبر: 8617 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ احْتَكَرَ حُكْرَةً يُرِيدُ أَنْ يُغْلِيَ بِهَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَهُوَ خَاطِئٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کہ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں پر گرانی کی نیت سے ذخیرہ اندوزی کرتا ہے وہ گناہگار ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8617]
حکم دارالسلام
حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف أبي معشر
الحكم: حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف أبي معشر
حدیث نمبر: 8618 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ أَفْضَلُ أَجْرًا عَنِ الْمَسْجِدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مسجد سے جتنے فاصلے سے آتا ہے اس کا اجر اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8618]
حکم دارالسلام
حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف ، عبد الرحمن بن مھران مجھول
الحكم: حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف ، عبد الرحمن بن مھران مجھول
حدیث نمبر: 8619 مسند احمد
الحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُخْبِرُ أَبَا قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، وَلَنْ يَسْتَحِلَّ هَذَا الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ، فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَأْتِي الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَهُمْ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ایک آدمی سے بیعت لی جائے گی اور بیت اللہ کی حرمت اسی کے پاسبان پامال کریں گے اور جب لوگ بیت اللہ کی حرمت کو پامال کردیں۔ پھر عرب کی ہلاکت کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا بلکہ حبشی آئیں گے اور اسے اس طرح ویران کردیں گے کہ دوبارہ وہ کبھی آباد نہ ہوسکے گا اور یہی لوگ اس کا خزانہ نکالنے والے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8619]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح