الحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُخْبِرُ أَبَا قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، وَلَنْ يَسْتَحِلَّ هَذَا الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ، فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَأْتِي الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَهُمْ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ایک آدمی سے بیعت لی جائے گی اور بیت اللہ کی حرمت اسی کے پاسبان پامال کریں گے اور جب لوگ بیت اللہ کی حرمت کو پامال کردیں۔ پھر عرب کی ہلاکت کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا بلکہ حبشی آئیں گے اور اسے اس طرح ویران کردیں گے کہ دوبارہ وہ کبھی آباد نہ ہوسکے گا اور یہی لوگ اس کا خزانہ نکالنے والے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8619]
الحكم: إسنادہ صحیح