حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: كَذَّبَنِي عَبْدِي، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ لِيُكَذِّبَنِي، وَشَتَمَنِي عَبْدِي، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَتْمِي، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ، فَيَقُولُ: لَنْ يُعِيدَنِي كَالَّذِي بَدَأَنِي، وَلَيْسَ آخِرُ الْخَلْقِ أَهْوَنُ عَلَيَّ أَنْ أُعِيدَهُ مِنْ أَوَّلِهِ، فَقَدْ كَذَّبَنِي إِنْ قَالَهَا، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّاي، فَيَقُولُ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، أَنَا اللَّهُ أَحَدٌ الصَّمَدُ، لَمْ أَلِدْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا بندہ میری ہی تکذیب کرتا ہے۔ حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے اور مجھے ہی برابھلا کہتا ہے حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تکذیب تو اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے ہمیں جس طرح پیدا کیا ہے دوبارہ اس طرح کبھی پیدا نہیں کرے گا حالانکہ میرے لئے دوسری مرتبہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ سے زیادہ مشکل نہیں ہے (دونوں برابر ہیں) اور برا بھلا کہنا اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے حالانکہ میں تو وہ صمد (بےنیاز) ہوں جس نے کسی کو جنا اور نہ اسے کسی نے جنم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8610]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 4975 ، وھذا إسناد ضعیف کسابقه
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 4975 ، وھذا إسناد ضعیف کسابقه