وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ نَفْسٍ كُتِبَ عَلَيْهَا الصَّدَقَةُ كُلَّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ، فَمِنْ ذَلِكَ أَنْ يَعْدِلَ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَأَنْ يُعِينَ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ، فَيَحْمِلَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَيَرْفَعَ مَتَاعَهُ عَلَيْهَا صَدَقَة، وَيُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِي إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص پر ہر دن میں جس میں سورج طلوع ہو صدقہ کرنا لازم قرار دیا گیا ہے اس کی صورت یہ ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے کسی آدمی کی مدد کرکے اسے سواری پر بٹھا دینا اور اس کا سامان اسے پکڑا دینا صدقہ ہے راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا بھی صدقہ ہے اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے اور نماز کے لئے اٹھنے والا ہر قدم بھی صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8608]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 2707 ، م : 1009 ، و ھذا إسناد فیه ابن لھیعة ، لکنه قد توبع
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 2707 ، م : 1009 ، و ھذا إسناد فیه ابن لھیعة ، لکنه قد توبع