بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 185 از 194
حدیث نمبر: 10800 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَبْدَةُ يَعْنِي بْنَ سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، سَلْمَانَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي بْنَ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ سَلْمَانَ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُبَيِّتُ الْقَوْمَ بِالنِّعْمَةِ , ثُمَّ يُصْبِحُونَ وَأَكْثَرُهُمْ كَافِرُونَ , يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَجْمِ كَذَا وَكَذَا" , قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، فَقَالَ: وَنَحْنُ قَدْ سَمِعْنَا ذَلِكَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں پر رات کے وقت اپنی نعمت (بارش) برساتا ہے اور صبح کے وقت اکثر لوگ اس کی ناشکری کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم پر فلاں ستارے کی تاثیر سے بارش ہوئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10800]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 72
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 72
حدیث نمبر: 10801 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَاصِمٌ يَعْنِي بْنَ مُحَمَّدٍ ، وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي بْنَ مُحَمَّدٍ , عَنْ وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا , اسْتَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ , كُلَّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرمادیں گے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10801]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2517، م: 1509
الحكم: حديث صحيح، خ: 2517، م: 1509
حدیث نمبر: 10802 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ , فَإِذَا هُمْ عِزُونَ مُتَفَرِّقُونَ , فَغَضِبَ غَضَبًا مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ غَضَبًا قَطُّ أَشَدَّ مِنْهُ , ثُمَّ قَالَ: " لَوْ أَنَّ رَجُلًا نَادَى النَّاسَ إِلَى عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ لَأَتَوْهُ لِذَلِكَ , وَهُمْ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الصَّلَاةِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ , ثُمَّ أَتْبَعَ أَهْلَ هَذِهِ الدُّورِ الَّتِي يَتَخَلَّفُ أَهْلُهَا عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ , فَأُضْرِمَهَا عَلَيْهِمْ بِالنِّيرَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عشاء کو اتنا مؤخر کردیا کہ قریب تھا کہ ایک تہائی رات ختم ہوجاتی، پھر وہ مسجد میں تشریف لائے تو لوگوں کو متفرق گروہوں میں دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شدید غصہ آیا اور فرمایا اگر کوئی آدمی لوگوں کے سامنے ایک ہڈی یا دو کھروں کی پیشکش کرے تو وہ ضرور اسے قبول کرلیں، لیکن نماز چھوڑ کر گھروں میں بیٹھے رہیں گے، میں نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ ایک آدمی کو حکم دوں کہ جو لوگ نماز سے ہٹ کر اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں ان کی تلاش میں نکلے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10802]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 533، م: 615
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 10803 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قُطْبَةُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا قُطْبَةُ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ , فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا , أَوْ آوَى مُحْدِثًا , فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ , لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ حرم ہے جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی فرض یا نفل قبول نہ کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10803]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 657، م: 651
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 657، م: 651
حدیث نمبر: 10804 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، زِيَادٍ الْحَارِثِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ زِيَادٍ الْحَارِثِيِّ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ لَهُ رَجُلٌ أَنْتَ الَّذِي تَنْهَى النَّاسَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ قََالَ: فَقَالَ: هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْكَعْبَةِ , هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْكَعْبَةِ ثَلَاثًا , لَقَدْ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَصُومُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحْدَهُ إِلَّا فِي أَيَّامٍ مَعَهُ" . وَلَقَدْ" رَأَيْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ نَعْلَاهُ , وَيَنْصَرِفُ وَهُمَا عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیاد حارثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ ہی لوگوں کو جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں بخدا! اس حرم کے رب کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تم میں سے کوئی شخص صرف جمعہ کا روزہ نہ رکھے، الاّ یہ کہ وہ اس کا معمول میں آجائے پھر دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا آپ وہی ہیں جو لوگوں کو جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنے سے روکتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں اس حرم کے رب کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خود اسی جگہ پر کھڑے ہو کر جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے اور واپس جاتے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10804]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1371
الحكم: إسناده صحيح، م: 1371
حدیث نمبر: 10805 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عِكْرِمَةُ ، أَبُو كَثِيرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ , حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ" . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَنْبِذُوا التَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا، وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا , وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ عَلَى حِدَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے۔ ایک کھجور اور ایک انگور۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کشمش اور کھجور کچی اور پکی کو ملا کر نبیذ مت بناؤ البتہ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بنا سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10805]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره،خ:1985،م:1144،وھذا إسناد ضعیف،شریک سیی الحفظ،وزیادالحارثی: لا یعرف
الحكم: صحيح لغيره،خ:1985،م:1144،وھذا إسناد ضعیف،شریک سیی الحفظ،وزیادالحارثی: لا یعرف
حدیث نمبر: 10806 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم: «الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ: النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ»
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ:1985
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ:1985
حدیث نمبر: 10807 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولَ اللهِ: لَا تَنْبِدُوا التَّمْرَ وَالذَّبِيبَ جَمِيعًا، وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا، وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ عَلَى حِدَةٍ»
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن،م:1989
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن،م:1989
حدیث نمبر: 10808 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، لَهِيعَةَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، رَجُلٍ ، سَلَمَةُ بْنُ قَيْصَرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ لَهِيعَةَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ , حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ قَيْصَرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى بَعَّدَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ جَهَنَّمَ , كَبُعْدِ غُرَابٍ طَارَ وَهُوَ فَرْخٌ حَتَّى مَاتَ هَرِمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی رضاء کے لئے ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ اسے جہنم سے اتنا دور کردیتا ہے جتنی مسافت ایک کوے کی ہوتی ہے جو بچپن سے اڑنا شروع کرے اور بڑھاپے کی حالت میں پہنچ کر مرے۔ فائدہ۔ کوا طویل عمر کے لئے مشہور ہے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوا اپنی ساری عمر میں اڑ کر جتنی مسافت طے کرتا ہے ایک روزے کی برکت سے روزہ دار اور جہنم کے درمیان اتنی مسافت حائل کردی جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10808]
حکم دارالسلام
إسناد ضعیف،لعلل
الحكم: إسناد ضعیف،لعلل
حدیث نمبر: 10809 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، الْمَسْعُودِيُّ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، أَبِي الرَّبِيعِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعَهُنَّ النَّاسُ: النِّيَاحَةُ عَلَى المْيَتِ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ , وَالْأَنْوَاءُ , يَقُولُ الرَّجُلُ: سُقِينَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا , وَالْإِعْدَاءُ أُجْرِبَ بَعِيرٌ فَأَجْرَبَ مِائَةً , فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جہنیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے حسب نسب میں عار دلانا میت پر نوحہ کرنا بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور بیماری کو متعدی سمجھنا ایک اونٹ خارش زدہ ہوا اور اس نے سو اونٹوں کو خارش میں مبتلا کردیا تو پہلے اونٹ کو خارش زدہ کس نے کیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10809]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعیف لاختلاط المسعودی
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعیف لاختلاط المسعودی
حدیث نمبر: 10810 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمٌ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِائَةَ رَحْمَةٍ , فَجَعَلَ مِنْهَا رَحْمَةً فِي الدُّنْيَا تَتَرَاحَمُونَ بِهَا , وَعِنْدَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ رَحْمَةً , فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ضَمَّ هَذِهِ الرَّحْمَةَ إِلَى التِّسْعَةِ وَالتِّسْعِينَ رَحْمَةً , ثُمَّ عَادَ بِهِنَّ عَلَى خَلْقِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سورحمتیں ہیں جن میں سے اللہ نے تمام زمین والوں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ نے اپنے اولیاء کے لئے رکھ چھوڑی ہیں پھر اللہ اس ایک رحمت کو بھی لے کر ان ننانوے رحمتوں کے ساتھ ملا دے گا اور قیامت کے دن اپنے اولیاء پر پوری سو رحمتیں فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10810]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح،م:2752،وھذا إسناد ضعیف من أجل مؤمل، لکنہ متابع
الحكم: حدیث صحیح،م:2752،وھذا إسناد ضعیف من أجل مؤمل، لکنہ متابع
حدیث نمبر: 10811 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، الْمَسْعُودِيُّ ، عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، أَبِي الرَّبِيعِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ , حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ , عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ , وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ , وَإِسْرَافِي , وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں دعا فرمایا کرتے تھے اے اللہ میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر سب گناہوں اور حد تجاوز کرنے کو معاف فرما اور ان گناہوں کو بھی معاف فرما جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10811]
حکم دارالسلام
صحیح لغیرہ،وھذا إسناد حسن
الحكم: صحیح لغیرہ،وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10812 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ ، أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، مَعْبَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ , حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ , عَنْ أَبِيهِ مَعْبَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ , أَنَّه سَمَعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ حَتَّى أَمُوتَ " أَوْصَانِي بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى، وَبِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا۔ (١) چاشت کی دو رکعتوں کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10812]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ:1178،م821
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ:1178،م821
حدیث نمبر: 10813 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ ، جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ الْقُرَشِيُّ ، عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ الْقُرَشِيُّ , أَنَّ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ , فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَإِنَّهُ كُفْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنے آباؤ اجداد سے اعراض نہ کرو کیونکہ اپنے باپ (کی طرف نسبت) سے اعراض کرنا کفر ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10813]
حکم دارالسلام
إسناده صحیح،خ:6767،م:62
الحكم: إسناده صحیح،خ:6767،م:62
حدیث نمبر: 10814 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ ، أَبُو صَخْرٍ ، سَعْدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا حَيْوَةُ , أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ دَخَلَ مَسْجِدَنَا هَذَا , يَتَعَلَّمُ خَيْرًا أَوْ يُعَلِّمُهُ , كَانَ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَمَنْ دَخَلَهُ لِغَيْرِ ذَلِكَ , كَانَ كَالنَّاظِرِ إِلَى مَا لَيْسَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہماری مسجد میں خیر سیکھنے سکھانے کے لئے داخل ہو وہ مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے اور جو کسی دوسرے مقصد کے لئے آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو کسی ایسی چیز کو دیکھنے لگے جسے دیکھنے کا اسے کوئی حق نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10814]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف، اختلف فى إسناد على سعيد المقبري، وأبو صخر: مختلف فيه
الحكم: حديث ضعيف، اختلف فى إسناد على سعيد المقبري، وأبو صخر: مختلف فيه
حدیث نمبر: 10815 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ ، أَبُو صَخْرٍ ، يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا حَيْوَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ , أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ أَخْبَرَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ , إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بھی مجھے سلام کرتا ہے اللہ تعالیٰ میری روح کو واپس لوٹا دیتا ہے اور میں خود اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10815]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10816 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ يَعْنِي بْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي بْنَ أَبِي أَيُّوبَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِ مِنْ نَفْسِهِ , مَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ , وَلَا ضَيَاعَ عَلَيْهِ , فَلْيُدْعَ لَهُ وَأَنَا وَلِيُّهُ , وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِلْعَصَبَةِ مَنْ كَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لئے جو شخص قرض یا بچے چھوڑ کر جائے اس کی نگہداشت میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10816]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده جيد، خ: 6745، م: 1619
الحكم: حديث صحيح، وإسناده جيد، خ: 6745، م: 1619
حدیث نمبر: 10817 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ , عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا , أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمام مسلمانوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10817]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 10818 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ مِنْهَا عَنْ ظَهْرِ غِنًى , وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى , وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" . فَقِيلَ: مَنْ أَعُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " امْرَأَتُك مِمَّنْ تَعُولُ , تَقُولُ: أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَارِقْنِي , وَجَارِيَتُكَ تَقُولُ: أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي , وَوَلَدُكَ يَقُولُ: إِلَى مَنْ تَتْرُكُنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کچھ نہ کچھ مالداری چھوڑ دے (سارا مال خرچ نہ کرے) اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم صدقہ کرنے میں ان لوگوں سے ابتداء کیا کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں کسی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ذمہ داری والے افراد کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا تمہاری بیوی کہتی ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ مجھے طلاق دے دو خادم کہتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ کسی اور کے ہاتھ فروخت کردو اولاد کہتی ہے کہ آپ مجھے کس کے سہارے چھوڑے جاتے ہیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10818]
حکم دارالسلام
القسم الأول من الحدیث صحیح،وأماالقسم الثانی فھو قولہ: امرأتک تقول۔۔۔۔۔۔ فالصحیح أنہ موقوف،خ:5355
الحكم: القسم الأول من الحدیث صحیح،وأماالقسم الثانی فھو قولہ: امرأتک تقول۔۔۔۔۔۔ فالصحیح أنہ موقوف،خ:5355
حدیث نمبر: 10819 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , وَأَبُو عُبَيْدَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ خَلَقَ كَخَلْقِي! فَلْيَخْلُقُوا بَعُوضَةً , وَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً" , قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: يَخْلُقُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو میری طرح تخلیق کرنے لگے ایسے لوگوں کو چاہئے کہ ایک مکھی یا ایک جو کا دانہ پیدا کرکے دکھائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10819]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسنادحسن، خ: 7559، م: 2111
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسنادحسن، خ: 7559، م: 2111