عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ مِنْهَا عَنْ ظَهْرِ غِنًى , وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى , وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" . فَقِيلَ: مَنْ أَعُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " امْرَأَتُك مِمَّنْ تَعُولُ , تَقُولُ: أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَارِقْنِي , وَجَارِيَتُكَ تَقُولُ: أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي , وَوَلَدُكَ يَقُولُ: إِلَى مَنْ تَتْرُكُنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کچھ نہ کچھ مالداری چھوڑ دے (سارا مال خرچ نہ کرے) اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم صدقہ کرنے میں ان لوگوں سے ابتداء کیا کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں کسی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ذمہ داری والے افراد کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا تمہاری بیوی کہتی ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ مجھے طلاق دے دو خادم کہتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ کسی اور کے ہاتھ فروخت کردو اولاد کہتی ہے کہ آپ مجھے کس کے سہارے چھوڑے جاتے ہیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10818]
حکم دارالسلام
القسم الأول من الحدیث صحیح،وأماالقسم الثانی فھو قولہ: امرأتک تقول۔۔۔۔۔۔ فالصحیح أنہ موقوف،خ:5355
الحكم: القسم الأول من الحدیث صحیح،وأماالقسم الثانی فھو قولہ: امرأتک تقول۔۔۔۔۔۔ فالصحیح أنہ موقوف،خ:5355