بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 179 از 194
حدیث نمبر: 10680 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا , فَتَفَرَّقُوا عَنْ غَيْرِ ذِكْرٍ , إِلَّا تَفَرَّقُوا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ , وَكَانَ ذَلِكَ الْمَجْلِسُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کچھ لوگ کسی جگہ اکٹھے ہوں اور اللہ کا ذکر کئے بغیر ہی جدا ہوجائیں تو یہ ایسے ہی ہے جیسے مردار گدھے کی لاش سے جدا ہوئے اور وہ مجلس ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10680]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10681 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَمْرَو بْنَ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: إِنَّ أَوْفَقَ الدُّعَاءِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي، وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي , وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي يَا رَبِّ , فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي , إِنَّكَ أَنْتَ رَبِّي , إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذَّنْبَ إِلَّا أَنْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ مکمل دعاء یہ ہے کہ آدمی یوں کہے اے اللہ آپ میرے رب اور میں آپ کا عبد ہوں میں نے اپنی جان پر ظلم کیا مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے پروردگار! تو میرے گناہوں کو معاف فرما تو ہی میرا رب ہے اور تیرے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10681]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10682 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيُّ ، عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيُّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10682]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10683 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ , فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ , حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص دن میں سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہہ لے اس کے سارے گناہ مٹادئیے جائیں گے خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10683]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6405، م: 2691
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6405، م: 2691
حدیث نمبر: 10684 مسند احمد
رَوْحٌ ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي , وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10684]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7505، م: 2675
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7505، م: 2675
حدیث نمبر: 10685 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِائَةً غَيْرَ وَاحِدٍ، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک سو یعنی ننانوے اسماء گرامی ہیں جو شخص ان کا احصاء کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10685]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح لكنه موقوف وصح مرفوعا، خ: 6410، م: 2677
الحكم: إسناده صحيح لكنه موقوف وصح مرفوعا، خ: 6410، م: 2677
حدیث نمبر: 10686 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10686]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10687 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، بْنِ شِهَابٍ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ بْنِ شِهَابٍ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ ," فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ , أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ , أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا" , قَالَ: لَا أَجِدُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أَجِدُ أَحْوَجَ مِنِّي، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، قَال:" خُذْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کرلیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک غلام آزاد کردو یا دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھ لو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادو اس نے کہا کہ میرے پاس اتنا کہاں؟ اتنی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہیں سے ایک ٹو کرا آیا جس میں کھجوریں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ لے جاؤ اور اپنی طرف سے صدقہ کردو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ مدینہ منورہ کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک ہم سے زیادہ ضرورت مند گھرانہ کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنے ہنسے کہ دندان مبارک ظاہر ہوگئے اور فرمایا جاؤ تم اور تمہارے اہل خانہ ہی اسے کھالیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10687]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح،خ: 2709، م: 1111
الحكم: إسناده صحيح،خ: 2709، م: 1111
حدیث نمبر: 10688 مسند احمد
رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ يَلْطِمُ وَجْهَهُ وَيَنْتِفُ شَعَرَهُ , وَيَقُولُ: مَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ هَلَكْتُ , فقال له رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا أَهْلَكَكَ؟" , قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: " أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً؟" , قَالَ: لَا , قَالَ:" أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" , قَالَ: لَا , قَالَ:" أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا" , قَالَ: لَا , وَذَكَرَ الْحَاجَةَ، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزِنْبِيلٍ وَهُوَ الْمِكْتَلُ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَحْسَبُهُ تَمْرًا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ الرَّجُلُ؟" , قَالَ:" أَطْعِمْ هَذَا" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَحَدٌ أَحْوَجُ مِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ , قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ , قَالَ:" أَطْعِمْ أَهْلَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کس چیز نے ہلاک کردیا؟ اس نے کہا کہ میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کرلیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک غلام آزاد کردو اس نے کہا کہ میرے پاس غلام نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھ لو اس نے کہا مجھ میں اتنی طاقت نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادو اس نے کہا کہ میرے پاس اتنا کہاں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا بیٹھ جاؤ اتنی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہیں سے ایک بڑا ٹوکرا آیا جس میں کھجوریں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ لے جاؤ اور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! مدینہ منورہ کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک ہم سے زیادہ ضروت مند گھرانہ کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا جاؤ تم اور تمہارے اہل خانہ ہی اسے کھا لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10688]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10689 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَسِمُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ صَحْفَتَهَا، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت نہ کرے یا بیع میں دھوکہ نہ دے یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے۔ کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لئے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اس کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10689]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408
حدیث نمبر: 10690 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا , وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10690]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 10691 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا , وَالصَّوْمُ لِي , وَأَنَا أَجْزِي بِهِ , إنه يذر طَعامَهُ وشَرابَهُ مِن أَجْلِي، فالصوم لي، وأَنَا أَجْزي به، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے روزہ میرے لئے ہوا اور اس کا بدلہ بھی میں خود ہی دوں گا روزہ دار میری وجہ سے اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے لہٰذا روزہ میرے لئے ہوا اور اس کا بدلہ بھی میں خود ہی دوں گا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10691]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ 7492، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10692 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ , إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي , وَأَنَا أَجْزِي بِهِ" ." وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَرِحَ بِصَوْمِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لئے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کی منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے روزہ ڈھال ہے اور روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10692]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ 7492، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10693 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" . " يَذَرُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي , فَالصِّيَامُ لِي , وَأَنَا أَجْزِي بِهِ , كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ , إِلَّا الصِّيَامَ , فَهُوَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کی منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی خواہشات پر عمل کرنا میری وجہ سے چھوڑتا ہے لہٰذا روزہ میرے لئے ہوا اور میں اس کا بدلہ بھی خود ہی دوں گا اور روزہ کے علاوہ ہر نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو گنا تک ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10693]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1101
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1101
حدیث نمبر: 10694 مسند احمد
رَوْحٌ ، صَالِحٌ ، بْنُ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحٌ , أَخْبَرَنَا بْنُ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ, فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: " لَسْتُمْ مِثْلِي , إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي"، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ، وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رُئِيَ الْهِلَالُ، فَقَالَ:" لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ" , كَالْمُنَكِّلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے مت رکھا کرو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ لیکن پھر بھی باز نہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو دن تک مسلسل روزہ رکھا پھر چاند نظر آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر چاند نظر نہ آتا تو میں مزید کئی دن تک اسی طرح کرتا گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر نکیر فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10694]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1965، م: 1103، وفي هذا الإسناد صالح، وإن كان ضعيفا، قد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 1965، م: 1103، وفي هذا الإسناد صالح، وإن كان ضعيفا، قد توبع
حدیث نمبر: 10695 مسند احمد
رَوْحٌ ، بْنُ جُرَيْجٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا بْنُ جُرَيْجٍ , عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " التَّثَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ , فَأَيُّكُمْ تَثَاءَبَ فَلْيَكْتُمْ مَا اسْتَطَاعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جمائی شیطان کا اثر ہوتی ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ممکن ہو اسے روکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10695]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2994
الحكم: إسناده صحيح، م: 2994
حدیث نمبر: 10696 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، بْنِ شِهَابٍ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنِ بْنِ شِهَابٍ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر وضو کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10696]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 887، م: 252
الحكم: إسناده صحيح، خ: 887، م: 252
حدیث نمبر: 10697 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ هَلَكَ النَّاسُ، فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ تباہ ہوگئے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ تباہ ہونے والا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10697]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:2623
الحكم: إسناده صحيح، م:2623
حدیث نمبر: 10698 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , قََالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اقامت ہونے کے بعد وقتی فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10698]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 710
الحكم: إسناده صحيح، م: 710
حدیث نمبر: 10699 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ سُمَيٍّ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ، يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي بَلَغَنِي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ، حَتَّى رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ"، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا؟ فَقَالَ:" فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی راستے میں چلا جا رہا تھا کہ اسے پیاس نے شدت سے ستایا اسے قریب ہی ایک کنواں مل گیا اس نے کنوئیں میں اتر کر اپنی پیاس بجھائی اور باہر نکل آیا اچانک اس کی نظر ایک کتے پر پڑی جو پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا تھا اس نے اپنے دل میں سوچا کہ اس کتے کو بھی اسی طرح پیاس لگ رہی ہوگی جیسے مجھے لگ رہی تھی چنانچہ وہ دوبارہ کنوئیں میں اترا اپنے موزے کو پانی سے بھرا اور اسے منہ سے پکڑ لیا اور باہر نکل کر کتے کو وہ پانی پلا دیا اللہ نے اس کے اس عمل کی قدر دانی فرمائی اور اسے بخش دیا صحابہ رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا جانوروں میں بھی ہمارے لئے اجر رکھا گیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر تر جگر رکھنے والی چیز میں اجر رکھا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10699]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2363، م: 2244
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2363، م: 2244