رَوْحٌ ، صَالِحٌ ، بْنُ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحٌ , أَخْبَرَنَا بْنُ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ, فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: " لَسْتُمْ مِثْلِي , إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي"، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ، وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رُئِيَ الْهِلَالُ، فَقَالَ:" لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ" , كَالْمُنَكِّلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے مت رکھا کرو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ لیکن پھر بھی باز نہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو دن تک مسلسل روزہ رکھا پھر چاند نظر آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر چاند نظر نہ آتا تو میں مزید کئی دن تک اسی طرح کرتا گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر نکیر فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10694]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1965، م: 1103، وفي هذا الإسناد صالح، وإن كان ضعيفا، قد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 1965، م: 1103، وفي هذا الإسناد صالح، وإن كان ضعيفا، قد توبع