بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 171 از 194
حدیث نمبر: 10520 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، مَا لَمْ يَقُمْ أَوْ يُحْدِثْ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھتا ہے پھر اپنے مصلی پر ہی بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے مسلسل کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ! اس پر رحم فرما بشرطیکہ وہ بےوضو نہ ہوجائے یا وہاں سے اٹھ نہ جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10520]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 477، م: 649
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 477، م: 649
حدیث نمبر: 10521 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ، اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ! ولید بن ولید۔ سلمہ بن ہشام۔ عیاش بن ابی ربیعہ۔ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرما۔ اے اللہ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر سجدے میں چلے جاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10521]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4560، م:675
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4560، م:675
حدیث نمبر: 10522 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ إِمَامًا، فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّهُ يَقُومُ وَرَاءَهُ الضَّعِيفُ وَالْكَبِيرُ وَذُو الْحَاجَةِ، وَإِذَا صَلَّى لِنَفْسِهِ، فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور بیمار سب ہی ہوتے ہیں۔ البتہ جب تنہا نماز پڑھے تو جتنی مرضی لمبی پڑھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10522]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 703، م:467
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 703، م:467
حدیث نمبر: 10523 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوَدِدْتُ أَنْ أُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلَ، ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلَ، ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلَ، ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلَ، وَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، مَا تَخَلَّفْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ أَوْ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ، وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي، أَوْ يَقْعُدُوا بَعْدِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے اس بات کی تمنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور جام شہادت نوش کرلوں پھر زندگی عطا ہو اور جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں پھر جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں۔ اور اگر مسلمانوں پر مشقت نہ ہوتی تو میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی لشکر سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ سب کو سواری مہیا کردوں اور ان کے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہ میری پیروی کرسکیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی دلی رضامندی نہ ہو اور وہ میرے بعد جہاد میں شرکت کرنے سے رک جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10523]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7226، م:1876
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7226، م:1876
حدیث نمبر: 10524 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَحْسَنِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ إِضَاءَةً فِي السَّمَاءِ" , فَقَامَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ , قَالَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ" , ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ" قَدْ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار آدمی جنت میں داخل ہوں گے جن کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ اپنی چادر اٹھاتے ہوئے کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ سے دعاء کردیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعاء کردی کہ اے اللہ اسے بھی ان میں شامل فرما پھر ایک انصاری آدمی نے کھڑے ہو کر بھی یہی عرض کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10524]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6542، م:216
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6542، م:216
حدیث نمبر: 10525 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ، نِسَاءُ قُرَيْشٍ: أَحْنَاهُ عَلَى يَتِيمٍ فِي صِغَرِهِ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی اپنی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10525]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5082، م: 2527
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5082، م: 2527
حدیث نمبر: 10526 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ وَأَصْحَابُهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، فَقُلْتُ: هَلَكَتْ دَوْسٌ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طفیل بن عمرودوسی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ قبیلہ دوس کے لوگ نافرمانی اور انکار پر ڈٹے ہوئے ہیں اس لئے آپ ان کے خلاف بددعا کیجئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبلہ کی جانب رخ کرکے دونوں ہاتھ اٹھالیے لوگ کہنے لگے کہ قبیلہ دوس کے لوگ تو ہلاک ہوگئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت عطا فرما اور انہیں یہاں پہنچا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10526]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2937، م: 2524
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2937، م: 2524
حدیث نمبر: 10527 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، هُمْ أَضْعَفُ قُلُوبًا، وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان، حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10527]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4388، م: 52
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 10528 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے جو کچھ میں جانتا ہوں اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ وبکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10528]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6637
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6637
حدیث نمبر: 10529 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ" . قَالَ: " وَبَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً، فَأَعْيَا فَرَكِبَهَا، فَالْتَفَتَتْ إِلَيْهِ" , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم بنی اسرائیل سے روایات بیان کرسکتے ہو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور ایک آدمی ایک بیل کو ہانک کرلیے جا رہا تھا راستے میں وہ اس پر سوار ہوگیا اور اسے مارنے لگا پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10529]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10530 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، وَهَذَا يَوْمُهُمْ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ , الْيَوْمَ لَنَا , ولِلْيَهُودِ غَدًا , وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پر سوں کا دن (ا تو ار) ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10530]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م: 855
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م: 855
حدیث نمبر: 10531 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ" , فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ مَنْ أَبِي , يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَبُوكَ حُذَافَةُ بْنُ قَيْسٍ" , فَرَجَعَ إِلَى أُمِّهِ , فَقَالَتْ: وَيْحَكَ مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ , فَقَدْ كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ , وَأَهْلَ أَعْمَالٍ قَبِيحَةٍ , فَقَالَ لَهَا: إِنْ كُنْتُ لَأُحِبُّ أَنْ أَعْلَمَ مَنْ أَبِي , مَنْ كَانَ مِنَ النَّاسِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم سے پہلے لوگ کثرت سوال اور انبیاء (علیہم السلام) کے سامنے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوتے تھے اس لئے تم لوگ مجھ سے زیادہ سوال مت کیا کرو الاّ یہ کہ میں خود ہی تمہیں کچھ بتادوں حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے اسی اثناء میں پوچھا یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ بن قیس ہے یہ سن کر وہ ماں کے پاس آئے وہ کہنے لگی کہ تمہیں یہ سوال پوچھنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہم زمانہ جاہلیت میں رہتے اور اعمال قبیحہ کے مرتکب ہوتے تھے انہوں نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ مجھے یہ معلوم ہو کہ میرا باپ کون ہے اور عام آدمی کون ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10531]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7288، م: 1337
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 10532 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِائَةً غَيْرَ وَاحِدٍ، مَنْ أَحْصَاهَا كُلَّهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک کم سو یعنی ننانوے اسماء گرامی ہیں جو شخص ان کا احصاء کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10532]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6410، م: 2677
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6410، م: 2677
حدیث نمبر: 10533 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فقال: اللهُمَّ اغْفِرْ لي وَلمحمدٍ , وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا , فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ:" لَقَدْ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا" , ثُمَّ وَلَّى حَتَّى إِذَا كَانَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَشَجَ يَبُولُ , فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا بُنِيَ هَذَا الْبَيْتُ لِذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ، وَإِنَّهُ لَا يُبَالُ فِيهِ" , ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَأَفْرَغَهُ عَلَيْهِ، قَالَ: يَقُولُ الْأَعْرَابِيُّ: بَعْدَ أَنْ فَقِهَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ , بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي , فَلَمْ يَسُبَّ , وَلَمْ يُؤَنِّبْ , وَلَمْ يَضْرِبْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی مسجد نبوی میں آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہیں تشریف فرما تھے وہ یہ دعا کرنے لگا کہ اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر رحم فرما اور اس میں کسی کو ہمارے ساتھ شامل نہ فرما نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسکرا کر اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تو نے وسعت والے اللہ کو پابند کردیا تھوڑی ہی دیرگذری تھی کہ اس دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر اس کے پاس گئے اور فرمایا یہ مساجد اللہ کے ذکر اور نماز کے لئے بنائی جاتی ہیں ان میں پیشاب نہیں کیا جاتا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اسے پانی پر بہادیا اس کے بعدجب اس دیہاتی کو سمجھ آئی تو وہ کہا کرتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں وہ کھڑے ہو کر میرے پاس آئے انہوں نے مجھے گالی نہیں دی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی اور مارا پیٹا نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10533]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد،خ 6010
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد،خ 6010
حدیث نمبر: 10534 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ يُنَجِّيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ" , قَالَ: قُلْنَا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا , إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ , وَلَكِنْ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلاسکتا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے البتہ تم سیدھی راہ اختیار کئے رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10534]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3254، م: 2834
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3254، م: 2834
حدیث نمبر: 10535 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ: أَنْ يَحْتَبِيَ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ , وَلَيْسَ بَيْنَ فَرْجِهِ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ , وَعَنِ الصَّمَّاءِ اشْتِمَالِ الْيَهُودِ" , وَوَصَفَ لَنَا مُحَمَّدٌ جَعَلَهَا مِنْ أَحَدِ جَانِبَيْهِ , ثُمَّ رَفَعَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک سودے میں دو سودے کرنے اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے اور وہ یہ کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرہ سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10535]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2145، م:1511
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2145، م:1511
حدیث نمبر: 10536 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُقْضَى دَفْنُهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ , أَحَدُهُمَا أَوْ أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کی نماز جنازہ ایمان اور ثواب کی نیت سے پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10536]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1325، م:945
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1325، م:945
حدیث نمبر: 10537 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا , غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ , وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا , غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے، اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے، اسی طرح جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کرے اس کے گزشتہ گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10537]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2014، م: 760
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2014، م: 760
حدیث نمبر: 10538 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَكَتْ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ , فَقَالَتْ: أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا , فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ , فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ حَرِّهَا , وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ زَمْهَرِيرُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جہنم کی آگ نے اپنے پروردگار سے اجازت چاہی اللہ نے اسے سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی (ایک مرتبہ سردی میں اور ایک مرتبہ گرمی میں) چنانچہ شدید ترین گرمی جہنم کی تپش کا ہی اثر ہوتی ہے اور شدید ترین سردی بھی جہنم کی ٹھنڈک کا اثر ہوتی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10538]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 537، م: 617
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 537، م: 617
حدیث نمبر: 10539 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِرَاءٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10539]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن