بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 107 از 194
حدیث نمبر: 9240 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ذَوَّادُ بْنُ عُلْبَةَ ، لَيْثٍ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ذَوَّادُ بْنُ عُلْبَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَجِّرُ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ جِئْتُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , اشِكَنَْبْ دَرْدْ؟". قَالَ: قُلْتُ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " صَلِّ فَإِنَّ فِي الصَّلَاةِ شِفَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں جب بھی دوپہر کے وقت نکلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز ہی پڑھتے ہوئے پایا (ایک دن میں حاضر ہوا تو) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فارسی میں پوچھا کہ تمہارے پیٹ میں درد ہو رہا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھو کیونکہ نماز میں شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9240]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ذوّاد وليث
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ذوّاد وليث
حدیث نمبر: 9241 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ: قَوْلُهُ حِينَ دُعِيَ إِلَى آلِهَتِهِمْ: إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89، وَقَوْلُهُ: فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63، وَقَوْلُهُ لِسَارَةَ: إِنَّهَا أُخْتِي"، قَالَ:" وَدَخَلَ إِبْرَاهِيمُ قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ أَوْ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، فَقِيلَ: دَخَلَ إِبْرَاهِيمُ اللَّيْلَةَ بِامْرَأَةٍ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْمَلِكُ أَوْ الْجَبَّارُ: مَنْ هَذِهِ مَعَكَ؟، قَالَ: أُخْتِي، قَالَ: أَرْسِلْ بِهَا، قَالَ: فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، وَقَالَ لَهَا: لَا تُكَذِّبِي قَوْلِي، فَإِنِّي قَدْ أَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، إِنْ عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَتْ إِلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا، قَالَ: فَأَقْبَلَتْ تَوَضَّأ وَتُصَلِّي، وَتَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ، قَالَ: فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ إِنْ يَمُتْ، يُقَلْ: هِيَ قَتَلَتْهُ، قَالَ: فَأُرْسِلَ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهَا، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي، وَتَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ، قَالَ: فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ إِنْ يَمُتْ، يُقَلْ: هِيَ قَتَلَتْهُ، قَالَ: فَأُرْسِلَ، فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ , أَوْ الرَّابِعَةِ: مَا أَرْسَلْتُمْ إِلَيَّ إِلَّا شَيْطَانًا، ارْجِعُوهَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ، وَأَعْطُوهَا هَاجَرَ، قَالَ: فَرَجَعَتْ، فَقَالَتْ لِإِبْرَاهِيمَ: أَشَعَرْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَدَّ كَيْدَ الْكَافِرِ، وَأَخْدَمَ وَلِيدَةً؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے کبھی ایسی بات نہیں کہی جو حقیقت میں تو سچی اور بظاہر جھوٹ معلوم ہوتی ہو ہاں اس طرح کی تین باتیں کہی تھیں۔ پہلی دونوں باتیں تو یہ ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا میں بیمار ہوں اور یہ فرمایا تھا کہ یہ فعل (بت شکنی) بڑے بت کا ہے اور تیسری بات کی یہ صورت ہوئی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ علیہا السلام کا ایک گاؤں سے گذر ہوا وہاں ایک ظالم بادشاہ موجود تھا بادشاہ سے کسی نے کہا کہ یہاں ایک شخص آیا ہے جس کے ساتھ ایک نہایت حسین عورت ہے بادشاہ نے ایک آدمی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بھیج کر دریافت کرایا کہ یہ عورت کون ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا میری بہن ہے پھر حضرت سارہ علیہا السلام کے پاس آکر فرمایا کہ روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی اور ایمان دار نہیں ہے اور اس ظالم نے مجھ سے تمہارے متعلق دریافت کیا تھا میں نے اس سے کہہ دیا کہ تم میری بہن ہو لہٰذا تم میری تکذیب نہ کرنا۔ اس کے بعد بادشاہ نے حضرت سارہ علیہا السلام کو بلوایا سارہ چلی گئیں بادشاہ غلط ارادے سے ان کی طرف بڑھا حضرت سارہ علیہا السلام وضو کر کے نماز پڑھنے لگیں اور کہنے لگیں کہ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے شوہر کے علاوہ سب سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو اس کافر کو مجھ پر مسلط نہ فرما اس پر وہ زمین میں دھنس گیا حضرت سارہ علیہا السلام نے دعاء کی کہ اے اللہ اگر یہ اس طرح مرگیا تو لوگ کہیں گے کہ سارہ نے اسے قتل کیا ہے چنانچہ اللہ نے اسے چھوڑ دیا دوبارہ اس نے دست درازی کرنا چاہی لیکن پھر اسی طرح ہوا وہ زمین میں دھنسا اور رہا ہوا۔ تیسری یا چوتھی مرتبہ بادشاہ اپنے دربان سے کہنے لگا کہ تو میرے پاس آدمی کو نہیں لایا ہے بلکہ شیطان کو لایا ہے اسے ابراہیم کے پاس واپس بھیج دو یہ کہہ کر حضرت سارہ علیہا السلام کو خدمت کے لئے ہاجرہ علیہا السلام عطا فرمائی حضرت سارہ (علیہا السلام) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس واپس آگئیں اور کہا اللہ تعالیٰ نے کافر کی دست درازی سے مجھے محفوظ رکھا اور اس نے مجھے خدمت کے لئے ہاجرہ دی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9241]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2217
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2217
حدیث نمبر: 9242 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , أَنَّهُ قَالَ: " مَرِضْتُ، فَلَمْ يَعُدْنِي ابْنُ آدَمَ، وَظَمِئْتُ، فَلَمْ يَسْقِنِي ابْنُ آدَمَ. فَقُلْتُ: أَتَمْرَضُ يَا رَبِّ؟!، قَالَ: يَمْرَضُ الْعَبْدُ مِنْ عِبَادِي مِمَّنْ فِي الْأَرْضِ، فَلَا يُعَادُ، فَلَوْ عَادَهُ، كَانَ مَا يَعُودُهُ لِي، وَيَظْمَأُ فِي الْأَرْضِ، فَلَا يُسْقَى، فَلَوْ سُقِيَ كَانَ مَا سَقَاهُ لِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں بیمار ہوا لیکن ابن آدم نے میری عیادت نہیں کی مجھے پیاس لگی لیکن ابن آدم نے پانی نہیں پلایا میں نے عرض کیا پروردگار! کیا آپ بھی بیمار ہوتے ہیں؟ جواب ملا کہ زمین پر میرا کوئی بندہ بیمار ہوتا ہے اور اس کی بیمار پرسی نہیں کی جاتی اگر بندہ اس کی عیادت کے لئے جاتا ہے تو اسے وہی ثواب ملتا جو میری عیادت کرنے پر ملتا اور زمین پر میرا کوئی بندہ پیاسا ہوتا ہے لیکن اسے پانی نہیں پلایا جاتا۔ اگر کوئی اسے پانی پلاتا تو اسے وہی ثواب ملتا جو مجھے پانی پلانے پر ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9242]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2569، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 2569، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 9243 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَادُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ، وَإِنَّ وَرَقَهَا لَيُخَمِّرُ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت میں ایک درخت ایسا ہے کوئی بہترین سوار اس کے سائے میں سو سال تک چل سکتا ہے اور اس کے پتوں نے جنت کو ڈھانپ رکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9243]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: « وإن ورقها ليخمر الجنة » ، خ: 4881، م: 2826، وهذه الزيادة تفرد بها ابن لهيعة، وهو سيئ الحفظ
الحكم: حديث صحيح دون قوله: « وإن ورقها ليخمر الجنة » ، خ: 4881، م: 2826، وهذه الزيادة تفرد بها ابن لهيعة، وهو سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9244 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا، وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ، وَأُومِنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَغُدِيَ عَلَيْهِ، وَرِيحَ بِرِزْقِهِ مِنَ الْجَنَّةِ، وَكُتِبَ لَهُ أَجْرُ الْمُرَابِطِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو شخص سرحدوں کی حفاظت کرتا ہوا فوت ہوجائے وہ قبر کے عذاب سے محفوظ رہے گا اور بڑی گھبراہٹ کے دن مامون رہے گا صبح و شام اسے جنت سے رزق پہنچایا جائے گا اور قیامت تک اس کے لئے سرحدی محافظ کا ثواب لکھا جاتا رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9244]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبن لهيعة
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبن لهيعة
حدیث نمبر: 9245 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، الْمُبَارَكُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ صِبْرَةَ ، وَعَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، القاسم بن محمد ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ صِبْرَةَ ، وَعَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أنهما سمعا القاسم بن محمد، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ، وَلَا يَقْبَلُ مِنْهَا إِلَّا الطَّيِّبَ، يَقْبَلُهَا بِيَمِينِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَيُرَبِّيهَا لِعَبْدِهِ الْمُسْلِمِ , كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَصِيلَهُ، حَتَّى يُوَافَى بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلَ أُحُدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرمالیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن وہاں سے احد پہاڑ کے برابر ادا کردیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9245]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1410، م: 1014، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد، وجهالة عبدالواحد
الحكم: حديث صحيح، خ: 1410، م: 1014، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد، وجهالة عبدالواحد
حدیث نمبر: 9246 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ابْنُ عَيَّاشٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " دَخَلَ عَبْدٌ الْجَنَّةَ بِغُصْنِ شَوْكٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ، فَأَمَاطَهُ عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا اس کی برکت سے وہ جنت میں داخل ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9246]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 652، م: 1914، إسماعيل بن عياش توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 652، م: 1914، إسماعيل بن عياش توبع
حدیث نمبر: 9247 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ابْنُ عَيَّاشٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو عِنْدَ النَّوْمِ: " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹنے کے لئے آتے تو یوں فرماتے کہ اسے ساتوں آسمانوں، زمین اور ہر چیز کے رب! دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے اللہ تورات انجیل اور قرآن نازل کرنے والے میں ہر شریر کے شر سے جس کی پیشانی آپ کے قبضے میں ہے آپ کی پناہ میں آتا ہوں آپ اول ہیں آپ سے پہلے کچھ نہیں آپ آخر ہیں آپ کے بعد کچھ نہیں آپ ظاہر ہیں آپ سے اوپر کچھ نہیں آپ باطن ہیں آپ سے پیچھے کچھ نہیں میرے قرضوں کو ادا فرمائیے اور مجھے فقروفاقہ سے بےنیاز فرما دیجئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9247]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2713، إسماعيل ابن عياش قد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 2713، إسماعيل ابن عياش قد توبع
حدیث نمبر: 9248 مسند احمد
خَلَفٌ بنِِ الوليدِ ، ابْنُ عَيَّاشٍ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفٌ بنِِ الوليدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا، إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9248]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2699، إسماعيل بن عياش قد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 2699، إسماعيل بن عياش قد توبع
حدیث نمبر: 9249 مسند احمد
خَلَفٌ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قال: " كَانَ يَمُرُّ بِآلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِلَالٌ، ثُمَّ هِلَالٌ، لَا يُوقَدُ فِي شَيْءٍ مِنْ بُيُوتِهِمْ النَّارُ، لَا لِخُبْزٍ، وَلَا لِطَبِيخٍ، فَقَالُوا: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانُوا يَعِيشُونَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟، قَالَ: الأسودانِ: التَّمْرِ وَالْمَاءِ، وَكَانَ لَهُمْ جِيرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَجَزَاهُمْ اللَّهُ خَيْرًا، لَهُمْ مَنَائِحُ، يُرْسِلُونَ إِلَيْهِمْ شَيْئًا مِنْ لَبَنٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آل مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر دو دو مہینے ایسے گذر جاتے تھے کہ ان کے گھروں میں آگ تک نہیں جلتی تھی نہ روٹی کے لئے اور نہ کھانا پکانے کے لئے، لوگوں نے ان سے پوچھا اے ابوہریرہ! پھر وہ کس چیز کے سہارے زندگی گذارا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا دو کالی چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر اور کچھ انصاری اللہ انہیں جزائے خیر عطاء فرمائے ان کے پڑوسی تھے ان کے پاس کچھ بکریاں تھیں جن کا وہ تھوڑا سا دودھ بھجوا دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9249]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر
حدیث نمبر: 9250 مسند احمد
خَلَفٌ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " تَهَادَوْا، فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَغَرَ الصَّدْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپس میں ہدایا کا تبادلہ کیا کرو کیونکہ ہدیہ سینے کے کینے دور کردیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9250]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر
حدیث نمبر: 9251 مسند احمد
خَلَفٌ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ عَمَّرَ سِتِّينَ سَنَةً أَوْ سَبْعِينَ سَنَةً، فَقَدْ عُذِرَ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس شخص کو اللہ نے ساٹھ ستر سال تک زندگی عطاء فرمائی ہو عمر کے حوالے سے اللہ اس کا عذر پورا کردیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9251]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6419، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 6419، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر، وقد توبع
حدیث نمبر: 9252 مسند احمد
خَلَفٌ ، عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، الطُّهَوِيِّ ، ذُهَيْلٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنِ الطُّهَوِيِّ ، عَنْ ذُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْمَلْنَا، وَأَنْفَضْنَا، فَآتَيْنَا عَلَى إِبِلٍ مَصْرُورَةٍ بِلِحَاءِ الشَّجَرِ، فَابْتَدَرَهَا الْقَوْمُ لِيَحْلِبُوهَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذِهِ عَسَى أَنْ يَكُونَ فِيهَا قُوتُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، أَتُحِبُّونَ لَوْ أَنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى مَا فِي أَزْوَادِكُمْ فَأَخَذُوهُ؟"، ثُمَّ قَالَ:" إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَاشْرَبُوا، وَلَا تَحْمِلُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ہم مٹی اوڑھتے اور جھاڑتے چند ایسے اونٹوں کے پاس سے گذرے جن کے تھن بندھے ہوئے تھے اور وہ درختوں میں چر رہے تھے لوگ ان کا دودھ دوہنے کے لئے تیزی سے آگے بڑھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ہوسکتا ہے ایک مسلمان گھرانے کی روزی صرف اسی میں ہو کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ وہ تمہارے توشہ دان کے پاس آئیں اور اس میں موجود سب کچھ لے جائیں؟ پھر فرمایا اگر تم کچھ کرنا ہی چاہتے ہو تو صرف پی لیا کرو لیکن اپنے ساتھ مت لے جایا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9252]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الطهوي وذهبل ، والحجاج مدلس، وقد عنعن
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الطهوي وذهبل ، والحجاج مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 9253 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، خَالِدٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ سِيلَانَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ سِيلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَدَعُوا رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ، وَإِنْ طَرَدَتْكُمْ الْخَيْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی دو سنتیں نہ چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روندنے ہی کیوں نہ لگیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9253]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن سيلان
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن سيلان
حدیث نمبر: 9254 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، الْأَغَرِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: " مَنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَمَنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ مِنَ النَّاسِ، ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَطْيَبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے بندہ اگر مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اگر وہ مجھے کسی مجلس میں بیٹھ کر یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر محفل میں اسے یاد کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9254]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7405، م: 2675
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7405، م: 2675
حدیث نمبر: 9255 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی بندے کے لئے مناسب نہیں ہے کہ یوں کہتا پھرے میں حضرت یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9255]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3416، م: 2376
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3416، م: 2376
حدیث نمبر: 9256 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ قَاضٍ، يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ عَبْدًا أَصَابَ ذَنْبًا، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ , أَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْ لِي. فَقَالَ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ، وَيَأْخُذُ بِهِ، فَغَفَرَ لَهُ، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ، فَقَالَ أَيْ رَبِّ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا، فَاغْفِرْهُ، فَقَالَ رَبُّهُ عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ، وَيَأْخُذُ بِهِ، فَغَفَر له، ثُمَّ مَكَثَ ما شاءَ الله، ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا أخَر، فقال أَيْ رَبّ، أَذْنَبْتُ ذَنْبًا، فاغْفِرْه، فقالَ رَبُّه عَلِمَ عَبْدِى أَنّ له رَبًَّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ، ويَأْخُذُ به، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی گناہ کرتا ہے پھر کہتا ہے کہ پروردگار! مجھ سے گناہ کا ارتکاب ہوا مجھے معاف فرما دے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کا کام کیا اور اسے یقین ہے کہ اس کا کوئی رب بھی ہے جو گناہوں کو معاف فرماتا یا ان پر مواخذہ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات کو تین مرتبہ مزید دہرایا کہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور حسب سابق اعتراف کرتا ہے اور اللہ حسب سابق جواب دیتا ہے چوتھی مرتبہ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے کو یقین ہے کہ اس کا کوئی رب بھی ہے جو گناہوں کو معاف فرماتا یا ان پر مواخذہ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9256]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7507، م: 2758
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7507، م: 2758
حدیث نمبر: 9257 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " كَانَ زَكَرِيَّا نَجَّارًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت زکریا علیہ السلام پیشے کے اعتبار سے بڑھئی تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9257]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2379
الحكم: إسناده صحيح، م: 2379
حدیث نمبر: 9258 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، خَالِدٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ سِيلَانَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ سِيلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَدَعُوا رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ، وَإِنْ طَرَدَتْكُمْ الْخَيْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے جو کاتبین کی غلطی کو واضح کرنے کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9258]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن سيلان
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن سيلان
حدیث نمبر: 9259 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، دَاوُدُ بْنُ فَرَاهِيجَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: دَاوُدُ بْنُ فَرَاهِيجَ أَخْبَرَنِي قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " مَا كَانَ لَنَا طَعَامٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا الْأَسْوَدَانِ: التَّمْرُ , وَالْمَاءُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمارے پاس سوائے دو کالی چیزوں " کھجور اور پانی " کے کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9259]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن