بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 183 از 194
حدیث نمبر: 10760 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي بْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي بْنَ الْمُغِيرَةِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قََالَ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ بِالْحَسَنَةِ الْوَاحِدَةِ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ , قَالَ: فَقُضِيَ أَنِّي انْطَلَقْتُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا , فَلَقِيتُهُ، فَقُلْتُ: بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ أَنَّكَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ الْحَسَنَةَ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ" , قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَا , بَلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِيهِ أَلْفَيْ أَلْفِ حَسَنَةٍ , ثُمَّ تَلَا يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 40 , فَقَالَ: إِذَا قَالَ: أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 40 , فَمَنْ يَقْدُرُ قَدْرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان نہدی رحمتہ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ فرماتے ہیں ایک نیکی پر بڑھاچڑھا کر دس لاکھ نیکیوں کا ثواب بھی مل سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہورہا ہے؟ بخدا! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ ایک نیکی کو دوگنا کرتے کرتے بیس لاکھ نیکیوں کے برابر بنا دیتا ہے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی کہ اللہ اسے دوگنا کردیتا ہے اور اس پر اجر عظیم عطاء فرماتا ہے جب اللہ نے اجر کو عظیم کہا ہے تو اس کی مقدار کون جان سکتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10760]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف علي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف علي
حدیث نمبر: 10761 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10761]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2699
الحكم: إسناده صحيح، م: 2699
حدیث نمبر: 10762 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ سُهَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُوَ شَهِيدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہاد فی سبیل اللہ میں مارا جانا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے طاعون میں مبتلا ہو کر مرنا بھی شہادت ہے اور اللہ کے راستہ میں مرنا بھی شہادت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10762]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 653، م: 1914
الحكم: إسناده صحيح، خ: 653، م: 1914
حدیث نمبر: 10763 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ , قََالَ: عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ , قََالَ: أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ: " اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا , وَبِكَ أَمْسَيْنَا , وَبِكَ نَحْيَا , وَبِكَ نَمُوتُ , وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح کے وقت یہ دعاء کرتے تھے کہ اے اللہ ہم نے آپ کے نام کے ساتھ صبح کی آپ کے نام کے ساتھ ہی شام کریں گے آپ کے نام ہی سے ہم زندگی اور موت پاتے ہیں اور آپ ہی کی طرف لوٹ آنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10763]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10764 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، مَنْ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ , أَخْبَرَنِي مَنْ , سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيَرْعَفَنَّ عَلَى مِنْبَرِي جَبَّارٌ مِنْ جَبَابِرَةِ بَنِي أُمَيَّةَ , يَسِيلُ رُعَافُهُ" ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي مَنْ رَأَى عَمْرَو بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَعَفَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى سَالَ رُعَافُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میرے اس منبر پر بنو امیہ کے ظالموں میں سے ایک ظالم قابض ہوجائے گا۔ اور اس کی نکسیر چھوٹ جائے گی راوی کہتے ہیں کہ عمرو بن سعید کو دیکھنے والوں نے بتایا ہے کہ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منبر پر بیٹھا تو اس کی نکسیر پھوٹ پڑی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10764]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف علي، ولإبهام الراوي عن أبى هريرة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف علي، ولإبهام الراوي عن أبى هريرة
حدیث نمبر: 10765 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهُنَائِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهُنَائِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ , حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَزَلَ بَيْنَ ضَجَنَانِ , وَعُسْفَانَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ لِهَؤُلَاءِ صَلَاةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَبْكَارِهُمْ وَهِيَ الْعَصْرُ , فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ فَمِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً، وَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ شَطْرَيْنِ، فَيُصَلِّيَ بِبَعْضِهِمْ، وَتَقُومَ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى وَرَاءَهُمْ، وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ، ثُمَّ تَأْتِي الْأُخْرَى فَيُصَلُّونَ مَعَهُ، وَيَأْخُذُ هَؤُلَاءِ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ لِتَكُونَ لَهُمْ رَكْعَةً رَكْعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ ڈالا مشرکین نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان لوگوں کو اپنی نماز عصر اپنے آباؤ اجداد اور اپنی بیویوں سے بھی زیادہ محبوب ہے اس لئے تم اس وقت اکٹھے ہو کر حملہ کردینا تاکہ وہ ایک دفعہ ہی میں شکست خوردہ ہوجائیں ادھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو دو گروہوں میں کھڑا کرنے کے لئے کہا تاکہ ایک گروہ کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھا دیں اور دوسرا ان کے پیچھے دشمن کے سامنے ڈٹا رہے اور وہ اپنا حفاظتی سامان اور اسلحہ اپنے ساتھ رکھے پھر دوسرا گروہ آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ لے اور پہلا گر وہ اپنا حفاظتی سامان اور اسلحہ اپنے ساتھ رکھے اس طرح ان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہوجائے گی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دونوں رکعتیں مکمل ہوجائیں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10765]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 10766 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ يَعْنِي الْعَنْبَرِيَّ ، الْقَلُوصِ ، شِهَابَ بْنَ مُدْلِجٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ يَعْنِي الْعَنْبَرِيَّ , عَنِ الْقَلُوصِ , أَنَّ شِهَابَ بْنَ مُدْلِجٍ نَزَلَ الْبَادِيَةَ، فَسَابَّ ابْنُهُ رَجُلًا، فَقَالَ: يَا بْنَ الَّذِي تَعَرَّبَ بِهَذِهِ الْهِجْرَةِ، فَأَتَى شِهَابٌ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ النَّاسِ رَجُلَانِ رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَهْبِطَ مَوْضِعًا يَسُوءُ الْعَدُوَّ، وَرَجُلٌ بِنَاحِيَةِ الْبَادِيَةِ يُقِيمُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَيُؤَدِّي حَقَّ مَالِهِ وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ" , فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ , قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولهُ؟ قَالَ: نَعَمْ , فَأَتَى بَادِيَتَهُ فَأَقَامَ بِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قلوص کہتے ہیں کہ شہاب بن مدلج ایک دیہات میں پہنچے وہاں پڑاؤ کیا اس دوران ان کے بیٹے نے کسی کو گالی دے دی وہ کہنے لگا کہ اے اس شخص کے بیٹے جو ہجرت کے بعد عرب بنا پھر شہاب مدینہ منورہ پہنچے وہاں ان کی ملاقات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں میں دو آدمی سب سے افضل ہیں ایک تو وہ آدمی جو راہ اللہ میں جہاد کرے یہاں تک کہ ایسی جگہ جا اترے جس سے دشمن کو خطرہ ہو اور دوسرا وہ آدمی جو کسی دیہات کے کنارے میں رہتا ہو پانچ نمازیں پڑھتا اپنے مال کا حق ادا کرتا ہو اور موت تک اپنے رب کی عبادت کرتا رہے۔ یہ سن کر شہاب اپنے دونوں گھٹنوں کے بل جھکے اور کہنے لگے کہ اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا آپ نے یہ حدیث خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں! اس پر شہاب اپنے گاؤں واپس آکر وہیں مقیم ہوگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10766]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 1889، وهذا إسناد ضعيف لجهالة القلوص
الحكم: صحيح، م: 1889، وهذا إسناد ضعيف لجهالة القلوص
حدیث نمبر: 10767 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبُو هِلَالٍ ، أَبُو الوَزَّاعِ ، أَبِي أُمَيْنٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ , حَدَّثَنَا أَبُو الوَزَّاعِ , عَنْ أَبِي أُمَيْنٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , وَسَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا لَنَا: " انْطَلِقُوا إِلَى مَسْجِدِ التَّقْوَى , فَانْطَلَقْنَا نَحْوَهُ، فَاسْتَقْبَلْنَاهُ يَدَاهُ عَلَى كَاهِلِ أَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، فَثُرْنَا فِي وَجْهِهِ , فَقَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا أَبَا بَكْرٍ؟" قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , وَأَبُو هُرَيْرَةَ , وَسَمُرَة .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہمیں بتایا کہ وہ مسجد تقویٰ (مسجدقباء) کی طرف گئے ہیں ہم وہاں روانہ ہوگئے راستے میں ہمارا سامنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ حضرت ابوبکر صدیق و عمر رضی اللہ عنہ کے کندھوں پر تھے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابوبکر! یہ کون لوگ ہیں انہوں نے بتایا کہ عبداللہ بن عمر ابوہریرہ اور سمرہ ہیں رضی اللہ عنہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10767]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى هلال ولجهالة أبى أمين
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى هلال ولجهالة أبى أمين
حدیث نمبر: 10768 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , قََالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , وَعَذَابِ النَّارِ , وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ , وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ" , قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ:" وَشَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ میں عذاب جہنم عذاب قبر، زندگی اور موت کی آزمائش اور مسیح دجال کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10768]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
حدیث نمبر: 10769 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الْأَذَانَ , فَإِذَا قُضِيَ الْأَذَانُ أَقْبَلَ , فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ , فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ يَخْطِرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ أَوْ قَالَ: نَفْسِهِ يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا , لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ , حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى , فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ صَلَّى , ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا , فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے پھر جب اقامت شروع ہوتی ہے تو دوبارہ بھاگ جاتا ہے اور اقامت مکمل ہونے پر پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کرو فلاں بات یاد کرو اور وہ باتیں یاد کراتا ہے جو اسے پہلے یاد نہ تھیں حتی کہ انسان کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتی پڑھی ہیں جب کسی کے ساتھ ایسا ہو تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10769]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1231، م: 389
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1231، م: 389
حدیث نمبر: 10770 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَاوُسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلَ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ، كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدْ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثَدْيَيْهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا , فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ حَتَّى تَغْشَى أَنَامِلَهُ، وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ، قَلَصَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ وَأَخَذَتْ بِمَكَانِهَا , قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِإِصْبَعَيْهِ فِي جُبَّتِهِ، فَلَوْ رَأَيْتَهُ يُوَسِّعُهَا وَلَا تُوَسَّعُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کنجوس اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن کے جسم پر چھاتی سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک لوہے کے دو جبے ہوں خرچ کرنے والا جب بھی کچھ خرچ کرتا ہے تو اسی کے بقدر اس جبے میں کشادگی ہوتی جاتی ہے اور وہ اس کے لئے کھلتا جاتا ہے اور کنجوس آدمی کی جکڑ بندی ہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی دو انگلیوں سے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھا ہے کاش! تم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جبہ دیکھ سکتے جسے وہ کشادہ کر رہے تھے لیکن وہ ہو نہیں رہا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10770]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5797، م:1021
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5797، م:1021
حدیث نمبر: 10771 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي جَعْفَرٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ , وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ , وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی قبولیت میں کوئی شک و شبہ نہیں مظلوم کی دعاء مسافر کی دعا اور باب کی دعا اپنے بیٹے کی متعلق دعاء۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10771]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وإسناده ضعيف أبو جعفر: مجهول
الحكم: حسن لغيره، وإسناده ضعيف أبو جعفر: مجهول
حدیث نمبر: 10772 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، زُهَيْرٌ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنِ الْعَلَاءِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان فتنوں کے آنے سے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح ہوں گے اعمال صالحہ کی طرف سبقت کرلو اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مومن اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مومن اور صبح کو کافر ہوگا اور اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے سے سازوسامان کے عوض فروخت کردیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10772]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 118
الحكم: إسناده صحيح، م: 118
حدیث نمبر: 10773 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، الْمُغِيرَةُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ بَنِي آدَمَ يَطْعُنُ الشَّيْطَانُ بِإِصْبَعِهِ فِي جَنْبِهِ حِينَ يُولَدُ إِلَّا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ , ذَهَبَ يَطْعُنُ فَطَعَنَ فِي الْحِجَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان کچوکے لگاتا ہے جس کی وجہ سے ہر پیدا ہونے والا بچہ روتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ایسا نہیں ہوا شیطان انہیں کچوکے لگانے کے لئے گیا تو تھا لیکن وہ کسی اور درمیان میں حائل چیز ہی کو لگا آیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10773]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3286، م: 2366
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3286، م: 2366
حدیث نمبر: 10774 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، الْمُغِيرَةُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُ فَاصْبِرُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دشمن سے سامنا ہونے کی تمنا نہ کرو اور جب سامنا ہوجائے تو ثابت قدمی کا مظاہرہ کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10774]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: معلقا: 3026، م: 1741
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: معلقا: 3026، م: 1741
حدیث نمبر: 10775 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَسُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَسُرَيْجٌ , الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ خَامَةِ الزَّرْعِ مِنْ حَيْثُ أَتْتَهَا الرِّيحُ كَفَتْهَا، فَإِذَا سَكَنَتْ اعْتَدَلَتْ، وَكَذَلِكَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ يَتَكَفَّأُ بِالْبَلَاءِ، وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ صَمَّاءُ مُعْتَدِلَةٌ، يَقْصِمُهَا اللَّهُ إِذَا شَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی مثال کھیتی کی طرح ہے کہ کھیت پر بھی ہمیشہ ہوائیں چل کر اسے ہلاتی رہتی ہیں اور مسلمان پر بھی ہمیشہ مصیبتیں آتی ہیں اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو خود حرکت نہیں کرتا بلکہ اسے جڑ سے اکھیڑ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10775]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5644، م: 2809
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5644، م: 2809
حدیث نمبر: 10776 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، فُلَيْحٌ ، أَيُّوبَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ , وَلَكِنْ افْسَحُوا يَفْسَحْ اللَّهُ لَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی دوسرے شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے بلکہ کشادگی پیدا کرلیا کرو اللہ تمہارے لئے کشادگی فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10776]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10777 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، الْمُغِيرَةُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ , وَيُتَّقَى بِهِ , فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى وَعَدَلَ , فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا , وَإِنْ أَمَرَ بِغَيْرِ ذَلِكَ , فَإِنَّ عَلَيْهِ مَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حکمران ڈھال ہوتا ہے اس کے پیچھے لڑا جاتا ہے اور اس کے ذریعے تقویٰ اختیار کیا جاتا ہے اگر وہ تقویٰ اور انصاف پر مبنی حکم دیتا ہے تو اس پر اسے ثواب ملے گا اور اگر اس کے علاوہ کوئی غلط حکم دیتا ہے تو اس پر اس کا وبال ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10777]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2957، م: 1841
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2957، م: 1841
حدیث نمبر: 10778 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، فُلَيْحٌ ، نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ رَقِيَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ، فَوَجَدَهُ يَتَوَضَّأُ، فَرَفَعَ فِي عَضُدَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ , فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ هِيَ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوء" ، مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ، لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نعیم بن عبداللہ ایک مرتبہ مسجد کی چھت پر چڑھ کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے جو کہ وضو کررہے تھے انہوں نے اپنے بازوؤں کو کہنیوں سے بھی اوپر تک دھویا ہوا تھا پھر وہ میری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن میری امت کے لوگ وضو کے نشانات سے روشن اور چمکدار پیشانی والے ہوں گے اس لئے تم میں سے جو شخص اپنی چمک بڑھا سکتا ہو اسے ایسا کرلینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10778]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:246
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:246
حدیث نمبر: 10779 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَسُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي بْنَ مَعْمَرٍ وَهُوَ أَبُو طُوَالَةَ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَسُرَيْجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي بْنَ مَعْمَرٍ وَهُوَ أَبُو طُوَالَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً؟ رَجُلٌ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً بَعْدَهُ؟ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي غَنَمٍ أَوْ غُنَيْمَةٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ , وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ , وَيَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں مخلوق میں سب سے بہتر آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! فرمایا وہ آدمی جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے اللہ کے راستہ میں نکل پڑا ہو اور جہاں ضرورت ہو وہ اس پر سوار ہوجائے کیا میں تمہیں اس کے بعد والے درجے پر فائز آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا کیوں نہیں فرمایا وہ آدمی جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہو نماز قائم کرتا اور زکوٰۃ ادا کرتا ہو اللہ کی عبادت کرتا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10779]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:1889
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:1889