بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 48 از 194
حدیث نمبر: 8059 مسند احمد
بَهْزٌ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّوْمُ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8059]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
حدیث نمبر: 8060 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، أَبِي الْمُهَزِّمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ وَقَالَ عَفَّانُ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَاسْتَقْبَلْنَا وَقَالَ عَفَّانُ: فَاسْتَقْبَلَتْنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِعِصِيِّنَا وَسِيَاطِنَا وَنَقْتُلُهُنَّ، فَأُسْقِطَ فِي أَيْدِينَا، فَقُلْنَا: مَا نَصْنَعُ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ؟! فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِصَيْدِ الْبَحْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حج یا عمرے کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ راستے میں ٹڈی دل کا ایک غول نظر آیا ہم نے اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے اور وہ ایک ایک کر کے ہمارے سامنے گرنے لگے ہم نے سوچا کہ ہم تو محرم ہیں ان کا کیا کریں؟ پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سمندر کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8060]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً ، أبو المهزم متروك الحديث
الحكم: إسناده ضعيف جداً ، أبو المهزم متروك الحديث
حدیث نمبر: 8061 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ، وَخَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ، فَمَاتَ، فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي بِسَيْفِهِ، يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا، لَا يُحَاشِي مُؤْمِنًا لِإِيمَانِهِ، وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدٍ بِعَهْدِهِ، فَلَيْسَ مِنْ أُمَّتِي، وَمَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ، يَغْضَبُ لِلْعَصَبِيَّةِ، أَوْ يُقَاتِلُ لِلْعَصَبِيَّةِ، أَوْ يَدْعُو إِلَى الْعَصَبِيَّةِ، فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص امیر کی اطاعت سے نکل گیا اور جماعت کو چھوڑ گیا اور اسی حال میں مرگیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوئی اور جو شخص میری امت پر خروج کرے نیک و بدسب کو مارے مومن سے حیاء کرے اور عہد والے سے عہد پورا نہ کرے وہ میرا امتی نہیں ہے اور جو شخص کسی جھنڈے کے نیچے بےمقصد لڑتا ہے (قومی یا لسانی) تعصب کی بناء پر غصہ کا اظہار کرتا ہے اسی کی خاطر لڑتا ہے اور اسی کے پیش نظر مدد کرتا ہے اور مارا جاتا ہے تو اس کا مرنا بھی جاہلیت کے مرنے کی طرح ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8061]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1448
الحكم: إسناده صحيح، م: 1448
حدیث نمبر: 8062 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَحْسِرُ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَيَقْتَتِلُ النَّاسُ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعُونَ أَوْ قَالَ: تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، كُلُّهُمْ يَرَى أَنَّهُ يَنْجُو" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (قیامت کے قریب) دریائے فرات کا پانی ہٹ کر اس میں سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا لوگ اس کی خاطر آپس میں لڑنا شروع کردیں حتی کہ ہر سو میں سے نوے (یا ننانوے) آدمی مارے جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک کا خیال یہی ہوگا کہ وہ بچ جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8062]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2894
الحكم: إسناده صحيح، م: 2894
حدیث نمبر: 8063 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ ذِئْبٌ إِلَى رَاعِي غَنَمٍ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً، فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى انْتَزَعَهَا مِنْهُ، قَالَ: فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلَى تَلٍّ، فَأَقْعَى وَاسْتَذْفَرَ، وَقَالَ: عَمَدْتَ إِلَى رِزْقٍ رَزَقَنِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْتَزَعْتَهُ مِنِّي. فَقَالَ الرَّجُلُ: تَالَلَّهِ إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ذِئْبًا يَتَكَلَّمُ! فقَالَ الذِّئْبُ: أَعْجَبُ مِنْ هَذَا رَجُلٌ فِي النَّخَلَاتِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ، يُخْبِرُكُمْ بِمَا مَضَى وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَهُودِيًّا، فَجَاءَ الرَّجُلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ وَخَبَّرَهُ، وصَدَّقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا أَمَارَةٌ مِنْ أَمَارَاتٍ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ، قَدْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ فَلَا يَرْجِعَ حَتَّى تُحَدِّثَهُ نَعْلَاهُ وَسَوْطُهُ مَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بھیڑیا بکریوں کے ایک ریوڑ کے پاس آیا اور وہاں سے ایک بکری لے کر بھاگ گیا چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور بکری کو اس سے چھڑا لیا وہ بھیڑیا ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور لوٹ پوٹ ہو کر کہنے لگا کہ اللہ نے مجھے جو رزق دیا تھا تو نے وہ مجھ سے چھین لیا؟ وہ آدمی حیران ہو کر کہنے لگا واللہ میں نے آج جیسا دن پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ ایک بھیڑیا بات کر رہا ہے یہ سن کر وہ بھیڑیا کہنے لگا کہ اس سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ دو پتھریلے علاقوں کے درمیان درختوں میں ایک آدمی ہے جو تمہیں ماضی کی خبریں اور آئندہ کے واقعات بتارہا ہے۔ وہ چرواہا یہودی تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرلیا پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سارا واقعہ سنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے سچا قرار دیا اور فرمایا کہ یہ قرب قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے عنقریب ایک آدمی اپنے گھر سے نکلے گا اور جب واپس آئے گا تو اس کے جوتے اور کوڑے اسے یہ بتائیں گے کہ اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ نے کیا کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8063]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شھر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شھر
حدیث نمبر: 8064 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ مِنَ اللَّيْلِ، فَإِنَّمَا رَأَتْ مَلَكًا، فَسَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نُهَاقَ الْحِمَارِ، فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانًا، فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم رات کے وقت مرغ کی بانگ سنو تو یاد رکھو کہ اس نے کسی فرشتے کو دیکھا ہوگا اس لئے اس وقت اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو اور جب رات کے وقت گدھے کی آواز سنو تو اس نے شیطان کو دیکھا ہوگا اس لئے اللہ سے شیطان کے شر سے پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8064]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3303، م: 2792
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3303، م: 2792
حدیث نمبر: 8065 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَوَضَّأُ أَحَدٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ وَيُسْبِغُهُ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِيهِ، إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِطَلْعَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح اور مکمل احتیاط سے کرے پھر مسجد میں آئے اور اس کا مقصد صرف نماز پڑھنا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے کسی مسافر کے اپنے گھر پہنچنے پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8065]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبي عبيدة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبي عبيدة
حدیث نمبر: 8066 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَا فِرْسِنَ شَاةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے خواتین اسلام کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کا ایک کھر ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8066]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6017، م: 1030
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6017، م: 1030
حدیث نمبر: 8067 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، أَعَزَّ جُنْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اسی نے اپنے لشکر کو غالب کیا اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں پر تنہا غالب آگیا اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8067]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4114، م: 2724
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4114، م: 2724
حدیث نمبر: 8068 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ، فَقَالَ:" إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا، لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ:" إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ، وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ ہمیں ایک لشکرکے ساتھ بھیجا اور قریش کے دو آدمیوں کا نام لے کر فرمایا اگر تم ان دونوں کو پاؤ انہیں آگ میں جلا دینا پھر جب ہم لوگ روانہ ہونے کے ارادے سے نکلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں فلاں فلاں آدمیوں کے متعلق یہ حکم دیا تھا کہ انہیں آگ میں جلا دینا لیکن آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے سکتا ہے اس لئے اگر تم انہیں پاؤ تو انہیں قتل کردینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8068]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3016
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3016
حدیث نمبر: 8069 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عِرَاكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ، يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں میں سب سے بد ترین شخص وہ آدمی ہوتا ہے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8069]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7179، م: 2526
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7179، م: 2526
حدیث نمبر: 8070 مسند احمد
هَاشِمٌ ، والْخُزَاعِيُّ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعْتِبٍ الْهُذَلِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، والْخُزَاعِيُّ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعْتِبٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَاذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ؟ فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِي، لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا يَهُمُّنِي مِنَ انْقِصَافِهِمْ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي، وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا، يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ، وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال پوچھا کہ شفاعت کے بارے آپ کے رب نے آپ کو کیا جواب دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے میرا یہی گمان تھا کہ اس چیز کے متعلق میری امت میں سب سے پہلے تم ہی سوال کرو گے کیونکہ میں علم کے بارے تمہاری حرص دیکھ رہاہوں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے میرے نزدیک لوگوں کا سیلاب جنت کے دروازے پر آنا میری شفاعت کی تکمیل سے زیادہ اہم نہیں ہے اور میری شفاعت ہر اس شخص کے لئے ہوگی جو خلوص دل کے ساتھ لاالہ الہ اللہ کی گواہی دیتا ہو اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرتی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8070]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: « والذي نفسي بيده لما يهمني ۔۔۔ شفاعتی » وإسناد الحدیث قابل للتحسین ، خ: 6570
الحكم: حديث صحيح دون قوله: « والذي نفسي بيده لما يهمني ۔۔۔ شفاعتی » وإسناد الحدیث قابل للتحسین ، خ: 6570
حدیث نمبر: 8071 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، قال: وَكَانَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ رجلٌ عَابِدٌ يُقَالُ لَهُ: جُرَيْجٌ، فَابْتَنَى صَوْمَعَةً وَتَعَبَّدَ فِيهَا، قَالَ فَذَكَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَوْمًا عِبَادَةَ جُرَيْجٍ، فَقَالَتْ بَغِيٌّ مِنْهُمْ: لَئِنْ شِئْتُمْ لَأُصْبِيَنَّهُ! فَقَالُوا: قَدْ شِئْنَا. قَالَ: فَأَتَتْهُ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا، فَأَمْكَنَتْ نَفْسَهَا مِنْ رَاعٍ كَانَ يؤُوِي غَنَمَهُ إِلَى أَصْلِ صَوْمَعَةِ جُرَيْجٍ، فَحَمَلَتْ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالُوا: مِمَّنْ؟ قَالَتْ: مِنْ جُرَيْجٍ. فَأَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوهُ، فَشَتَمُوهُ وَضَرَبُوهُ وَهَدَمُوا صَوْمَعَتَهُ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ؟ قَالُوا: إِنَّكَ زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا. قَالَ: وَأَيْنَ هُوَ؟ قَالُوا: هَا هُوَ ذَا. قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى وَدَعَا، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْغُلَامِ فَطَعَنَهُ بِإِصْبَعِهِ، فَقَالَ: بِاللَّهِ يَا غُلَامُ، مَنْ أَبُوكَ؟ قَالَ: أَنَا ابْنُ الرَّاعِي، فَوَثَبُوا إِلَى جُرَيْجٍ فَجَعَلُوا يُقَبِّلُونَهُ، وَقَالُوا: نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ. قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِي ذَلِكَ، ابْنُوهَا مِنْ طِينٍ كَمَا كَانَتْ. قَالَ: وَبَيْنَمَا امْرَأَةٌ فِي حِجْرِهَا ابْنٌ لَهَا تُرْضِعُهُ، إِذْ مَرَّ بِهَا رَاكِبٌ ذُو شَارَةٍ، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَ هَذَا. قَالَ: فَتَرَكَ ثَدْيَهَا، وَأَقْبَلَ عَلَى الرَّاكِبِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ. قَالَ: ثُمَّ عَادَ إِلَى ثَدْيِهَا يَمُصُّهُ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي عَلَيَّ صَنِيعَ الصَّبِيِّ وَوَضْعَهُ إِصْبَعَهُ فِي فَمِهِ، فَجَعَلَ يَمُصُّهَا" ثُمَّ مُرَّ بِأَمَةٍ تُضْرَبُ، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا. قَالَ: فَتَرَكَ ثَدْيَهَا، وَأَقْبَلَ عَلَى أُمِّهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا. قَالَ: فَذَلِكَ حِينَ تَرَاجَعَا الْحَدِيثَ، فَقَالَتْ: حَلْقَى! مَرَّ الرَّاكِبُ ذُو الشَّارَةِ فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهُ، فَقُلْتَ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ، وَمُرَّ بِهَذِهِ الْأَمَةِ فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا، فَقُلْتَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا! فَقَالَ: يَا أُمَّتَاهْ إِنَّ الرَّاكِبَ ذُو الشَّارَةِ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْأَمَةَ يَقُولُونَ: زَنَتْ، وَلَمْ تَزْنِ، وَسَرَقَتْ، وَلَمْ تَسْرِقْ، وَهِيَ تَقُولُ: حَسْبِيَ اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین لڑکوں کے علاوہ گہوارے کے اندر اور کسی نے کلام نہیں کیا۔ (١) حضرت عیسیٰ علیہ السلام (٢) وہ لڑکا جو جریج سے بولا تھا۔ جریج بنی اسرائیل میں ایک عبادت گذار شخص کا نام تھا اس نے اپنا گرجا بنا رکھا تھا اور وہاں عبادت کرتا تھا ایک دن بنی اسرائیل کے لوگ اس کی عبادت کا تذکرہ کر رہے تھے جسے سن کر ایک فاحشہ عورت نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں اسے فتنے میں مبتلا کرسکتی ہوں؟ لوگوں نے کہا کہ یہ تو ہماری خواہش ہے۔ چنانچہ ایک روز جریج اپنے عبادت خانہ میں تھا کہ وہ عورت اس کے پاس آئی اور جریج سے کار برآری کی خواستگار ہوئی جریج نے انکار کیا تو اس عورت نے جا کر ایک چرواہے کو اپنے نفس پر قابو دیا جو جریج کے گرجے کے نیچے اپنی بکریاں رکھتا تھا اور چرواہے کے نطفہ سے اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا لیکن اس نے یہ اظہار کیا کہ لڑکا جریج کا ہے لوگ جریج کے پاس آئے (اور غصہ میں) اسے نیچے اتارا اسے گالیاں دیں مارا پیٹا اور اس کا عبادت خانہ ڈھا دیا جریج نے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے؟ لوگوں نے کہا کہ تم نے اس فاحشہ کے ساتھ بدکاری کی ہے اور اس کے یہاں بچہ بھی پیدا ہوگیا ہے جریج نے پوچھا کہ وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ہے چنانچہ جریج نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور پھر اس بچہ کے پاس آ کر اسے انگلی چبھا کر دریافت کیا اے لڑکے تیرا باپ کون ہے؟ لڑکا بولا فلاں چرواہا لوگ (یہ صداقت دیکھ کر) اسے چومنے اور کہنے لگے ہم تیرا عبادت خانہ سونے کا بنائے دیتے ہیں جریج نے جواب دیا مجھے اس کی ضرورت نہیں پہلے کی طرح صرف مٹی کا بنادو۔ (٣) بنی اسرائیل میں ایک عورت تھی جو اپنے لڑکے کو دودھ پلا رہی تھی اتفاقا ادھر سے ایک سوار زردوزی کے کپڑے پہنے نکلا عورت نے کہا الٰہی میرے بچے کو اس کی طرح کردے بچہ نے ماں کی چھاتی چھوڑ کر سوار کی طرف رخ کر کے کہا الٰہی مجھے ایسا نہ کرنا یہ کہہ کر پھر دودھ پینے لگا کچھ دیر کے بعد ادھر سے لوگ ایک باندی کو لے گزرے (جس کو راستے میں مارتے جا رہے تھے) عورت نے کہا الہٰی میرے بچہ کو ایسا نہ کرنا بچہ نے فورا دودھ پینا چھوڑ کر کہا الٰہی مجھے ایسا ہی کرنا ماں نے بچہ سے کہا تو نے یہ خواہش کیوں کی؟ بچہ نے جواب دیا وہ سوار ظالم تھا (اس لئے میں نے ویسا نہ ہونے کی دعا کی) اور اس باندی کو لوگ کہتے ہیں کہ تو نے زنا اور چوری کی ہے حالانکہ اس نے یہ فعل نہیں کئے اور وہ کہتی رہی کہ مجھے اللہ کافی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گہوارے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا ہے۔ (١) حضرت عیسیٰ السلام (٢) وہ بچہ جو جریج کے زمانے میں تھا (٣) اور ایک اور بچہ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جریج بنی اسرائیل میں ایک عبادت گذار آدمی تھا اس کی ایک ماں تھی ایک دن وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں اس سے ملنے کے شوق میں اس کے پاس آئی اور اس کا نام لے کر اسے پکارا اس نے اپنے دل میں کہا کہ پروردگار نماز بہتر ہے یا ماں کے پاس جانا؟ پھر وہ نماز پڑھتا رہا اس کی ماں نے تین مرتبہ اسے پکارا پھر اس کی طبیعت پر سخت گرانی ہوئی اور وہ کہنے لگی کہ اے اللہ جریج کو فاحشہ عورتوں کا چہرہ دکھا۔۔۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8071]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3436، م: 2550
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3436، م: 2550
حدیث نمبر: 8072 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام، وَصَبِيٌّ كَانَ فِي زَمَانِ جُرَيْجٍ، وَصَبِيٌّ آخَرُ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ:" وَأَمَّا جُرَيْجٌ فَكَانَ رَجُلًا عَابِدًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَكَانَتْ لَهُ أُمٌّ، فَكَانَ يَوْمًا يُصَلِّي، إِذْ اشْتَاقَتْ إِلَيْهِ أُمُّهُ، فَقَالَتْ: يَا جُرَيْجُ، فَقَالَ: يَا رَبِّ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ أَمْ أُمِّي آتِيهَا؟ ثُمَّ صَلَّى، وَدَعَتْهُ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ دَعَتْهُ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَصَلَّى، فَاشْتَدَّ عَلَى أُمِّهِ، وَقَالَتْ: اللَّهُمَّ أَرِ جُرَيْجًا الْمُومِسَاتِ، ثُمَّ صَعِدَ صَوْمَعَةً لَهُ، وَكَانَتْ زَانِيَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ"، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8073 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ قُبَاءٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنْ طَالَ بِكَ مُدَّةٌ أَوْشَكْتَ أَنْ تَرَى قَوْمًا يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ، وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَتِهِ، فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو عنقریب تم ایک ایسی قوم کو دیکھو گے جس کی صبح اللہ کی ناراضگی میں اور شام اللہ کی لعنت میں ہوگی اور ان کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح ڈنڈے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8073]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2857
الحكم: صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2857
حدیث نمبر: 8074 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ ، يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْفَقْرَ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ التَّكَاثُرَ، وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْخَطَأَ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْعَمْدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے تم پر فقروفاقہ کا اندیشہ نہیں بلکہ مجھے تم پر مال کی کثرت کا اندیشہ ہے اور مجھے تم پر غلطی کا اندیشہ نہیں بلکہ مجھے تم پر جان بوجھ کر (گناہوں میں ملوث ہونے کا) اندیشہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8074]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8075 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَذَكَرَ الْإِيمَانَ بِاللَّهِ، وَالْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مِنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنَا صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، كَفَّرَ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ:" فَكَيْفَ قُلْتَ؟"، قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ كَمَا قَالَ، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ:" فَكَيْفَ قُلْتَ؟"، قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ أَيْضًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، كَفَّرَ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ قَالَ: " نَعَمْ، إِلَّا الدَّيْنَ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام سَارَّنِي بِذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے اس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایمان باللہ اور جہاد فی سبییل اللہ کو اللہ کے نزدیک افضل اعمال میں سے قرار دیا ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کے راستہ میں شہید ہوجاؤں میں اپنے دین پر ثابت قدم رہا ہوں اور ثواب کی نیت سے جہاد میں شریک ہوں میں آگے بڑھتا رہا ہوں اور پیٹھ نہ پھیری ہو تو کیا اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما دے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں اس نے یہی سوال تین مرتبہ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا آخری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سوائے قرض کے کہ یہ بات مجھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی کان میں بتائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8075]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8076 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فِي الصَّلَاةِ، فَيَجْهَرُ وَيُخَافِتُ، فَجَهَرْنَا فِيمَا جَهَرَ فِيهِ، وَخَافَتْنَا فِيمَا خَافَتَ فِيهِ، وسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز میں ہماری امامت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے وہ کبھی جہری قرأت فرماتے تھے اور کبھی سری۔ لہٰذا ہم بھی ان نمازوں میں جہر کرتے ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جہر کیا اور ہم بھی ان نمازوں میں سری قرأت کرتے ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سری قرأت فرمائی ہے اور میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرأت کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8076]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 772، م: 396، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبي ليلى سيئ الحفظ، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 772، م: 396، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبي ليلى سيئ الحفظ، لكنه متابع
حدیث نمبر: 8077 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ، فَلْيُوتِرْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنا چاہیے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8077]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 161، م: 237
الحكم: إسناده صحيح، خ: 161، م: 237
حدیث نمبر: 8078 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ مَنْ أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ" . قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ حَضْرَمَوْتَ: مَا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: فُسَاءٌ أَوْ ضُرَاطٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو حدث لاحق ہوجائے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وضو کرلے حضرموت کے ایک آدمی نے یہ سن کر پوچھا اے ابوہریرہ! حدث سے کیا مراد ہے؟ فرمایا ہلکی یا زوردار آواز میں ہوا کا خارج ہونا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8078]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 135، م: 225
الحكم: إسناده صحيح، خ: 135، م: 225