أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، أَبِي الْمُهَزِّمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ وَقَالَ عَفَّانُ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَاسْتَقْبَلْنَا وَقَالَ عَفَّانُ: فَاسْتَقْبَلَتْنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِعِصِيِّنَا وَسِيَاطِنَا وَنَقْتُلُهُنَّ، فَأُسْقِطَ فِي أَيْدِينَا، فَقُلْنَا: مَا نَصْنَعُ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ؟! فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِصَيْدِ الْبَحْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حج یا عمرے کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ راستے میں ٹڈی دل کا ایک غول نظر آیا ہم نے اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے اور وہ ایک ایک کر کے ہمارے سامنے گرنے لگے ہم نے سوچا کہ ہم تو محرم ہیں ان کا کیا کریں؟ پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سمندر کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8060]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً ، أبو المهزم متروك الحديث
الحكم: إسناده ضعيف جداً ، أبو المهزم متروك الحديث