بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 8063
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 8063
حدیث نمبر: 8063 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ ذِئْبٌ إِلَى رَاعِي غَنَمٍ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً، فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى انْتَزَعَهَا مِنْهُ، قَالَ: فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلَى تَلٍّ، فَأَقْعَى وَاسْتَذْفَرَ، وَقَالَ: عَمَدْتَ إِلَى رِزْقٍ رَزَقَنِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْتَزَعْتَهُ مِنِّي. فَقَالَ الرَّجُلُ: تَالَلَّهِ إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ذِئْبًا يَتَكَلَّمُ! فقَالَ الذِّئْبُ: أَعْجَبُ مِنْ هَذَا رَجُلٌ فِي النَّخَلَاتِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ، يُخْبِرُكُمْ بِمَا مَضَى وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَهُودِيًّا، فَجَاءَ الرَّجُلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ وَخَبَّرَهُ، وصَدَّقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا أَمَارَةٌ مِنْ أَمَارَاتٍ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ، قَدْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ فَلَا يَرْجِعَ حَتَّى تُحَدِّثَهُ نَعْلَاهُ وَسَوْطُهُ مَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بھیڑیا بکریوں کے ایک ریوڑ کے پاس آیا اور وہاں سے ایک بکری لے کر بھاگ گیا چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور بکری کو اس سے چھڑا لیا وہ بھیڑیا ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور لوٹ پوٹ ہو کر کہنے لگا کہ اللہ نے مجھے جو رزق دیا تھا تو نے وہ مجھ سے چھین لیا؟ وہ آدمی حیران ہو کر کہنے لگا واللہ میں نے آج جیسا دن پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ ایک بھیڑیا بات کر رہا ہے یہ سن کر وہ بھیڑیا کہنے لگا کہ اس سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ دو پتھریلے علاقوں کے درمیان درختوں میں ایک آدمی ہے جو تمہیں ماضی کی خبریں اور آئندہ کے واقعات بتارہا ہے۔ وہ چرواہا یہودی تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرلیا پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سارا واقعہ سنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے سچا قرار دیا اور فرمایا کہ یہ قرب قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے عنقریب ایک آدمی اپنے گھر سے نکلے گا اور جب واپس آئے گا تو اس کے جوتے اور کوڑے اسے یہ بتائیں گے کہ اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ نے کیا کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8063]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شھر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شھر
← پچھلی حدیث (8062) باب پر واپس اگلی حدیث (8064) →