بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 98 از 194
حدیث نمبر: 9060 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ سورة يوسف آية 50، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَوْ كُنْتُ أَنَا، لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آیت قرآنی ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے " کی تفسیر میں فرمایا کہ اگر میں اتنا عرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تھے پھر مجھے نکلنے کی پیشکش ہوتی تو میں اسی وقت قبول کرلیتا اور کوئی عذر تلاش نہ کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9060]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9061 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحُسَيْنٌ ، أَبُو بَكْرِ بنُ عَيَّاشٍ ، أَبِي حَصِينٍ ، وَيَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبُو حَصِينٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحُسَيْنٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ . ح وَيَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لَغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی مالدار یا ہٹے کٹے صحیح سالم آدمی کے لئے زکوٰۃ کا پیسہ حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9061]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وفيه سالم كثير الإرسال عن الصحابة ولم يصرح بسماعه من أبي هريرة، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، وفيه سالم كثير الإرسال عن الصحابة ولم يصرح بسماعه من أبي هريرة، لكنه متابع
حدیث نمبر: 9062 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبِي حَصِينٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مالداری ساز و سامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9062]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6446، م: 1051
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6446، م: 1051
حدیث نمبر: 9063 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ:" أَتَى جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فقَالَ: إِنِّي جِئْتُ الْبَارِحَةَ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فِي الْبَيْتِ صُورَةٌ أَوْ كَلْب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں رات کو آپ کے پاس آیا تھا اور تو کسی چیز نے مجھے آپ کے گھر میں داخل ہونے سے نہ رو کا البتہ گھر میں ایک آدمی کی تصویر تھی یا کتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9063]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9064 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، وَلَا يُنَجِّيهِ مِنَ النَّارِ، إِلَّا بِرَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ" ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا أَنْتَ؟، قَالَ:" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ". قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِيَدِهِ , يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل کرکے جہنم سے نجات نہیں دلا سکتا جب تک کہ اللہ کا فضل و کرم صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یارسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے یہ جملہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9064]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 9065 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِم ، جَرِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِم ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَمِّي، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى بَابِ الْمَدِينَةِ فَمَرَّ شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ كَأَنَّهُ مُسْتَرْخِي الْإِزَارِ، قَالَ: ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَجَعَلَ يَعْتَذِرُ، فَقَالَ: إِنَّهُ اسْتَرْخَى، وَإِنَّهُ مِنْ كَتَّانٍ، فَلَمَّا مَضَى، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ لَهُ مُعْجَبٌ بِنَفْسِهِ، إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
جریر بن زید کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کے پاس باب مدینہ کے قریب بیٹھا ہوا تھا وہاں سے ایک قریشی نوجوان گذرا اس نے اپنی شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکا رکھی تھی حضرت سالم رحمہ اللہ نے اس سے فرمایا کہ اپنی شلوار اونچی کرو اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ چونکہ کتان کی ہے اس لئے خود ہی نیچے ہوجاتی ہے جب وہ چلا گیا تو حضرت سالم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے کہ ایک آدمی اپنے قیمتی حلے میں ملبوس اپنے او پر فخر کرتے ہوئے تکبر سے چلا جا رہا تھا کہ اسی اثناء میں اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9065]
حکم دارالسلام
هذا إسناد حسن، خ: 5790، م: 2088
الحكم: هذا إسناد حسن، خ: 5790، م: 2088
حدیث نمبر: 9066 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، ذَوَّادٌ أَبُو الْمُنْذِرِ ، لَيْثٍ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا ذَوَّادٌ أَبُو الْمُنْذِرِ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: مَا هَجَّرْتُ، إِلَّا وَجَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، قَالَ: فَصَلَّى , ثُمَّ قَالَ:" اشِكَنْبْ دَرْدْ؟". قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ:" قُمْ فَصَلِّ، فَإِنَّ فِي الصَّلَاةِ شِفَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں جب بھی دوپہر کے وقت نکلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز ہی پڑھتے ہوئے پایا (ایک دن میں حاضر ہوا تو) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فارسی میں پوچھا کہ تمہارے پیٹ میں درد ہو رہا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھو کیونکہ نماز میں شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9066]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ذوّاد وليث
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ذوّاد وليث
حدیث نمبر: 9067 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَمَّادٌ ، أَبِي الْمُهَزِّمِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَيَدَعَنَّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْمَدِينَةَ وَهِيَ خَيْرُ مَا يَكُونُ، مُرْطِبَةٌ مُونِعَةٌ"، فَقِيلَ: فَمَنْ يَأْكُلُهَا؟، قَالَ:" الطَّيْرُ وَالسِّبَاعُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ مدینہ منورہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود ایک وقت میں آکر چھوڑ دیں گے کسی نے پوچھا کہ اسے کون کھائیں گے؟ فرمایا وہاں صرف درندے اور پرندے رہ جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9067]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1874، م: 1389، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي المهزم
الحكم: حديث صحيح، خ: 1874، م: 1389، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي المهزم
حدیث نمبر: 9068 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، سُفْيَانُ ، رَجُلٍ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " هَذِهِ صَدَقَةُ قَوْمِي، وَهُمْ أَشَدُّ النَّاسِ عَلَى الدَّجَّالِ" ، يَعْنِي بَنِي تَمِيمٍ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَا كَانَ قَوْمٌ مِنَ الْأَحْيَاءِ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْهُمْ، فَأَحْبَبْتُهُمْ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنوتمیم کے صدقات کے متعلق فرمایا یہ میری قوم کا صدقہ ہیں اور یہ لوگ دجال کے لئے سب سے زیادہ سخت قوم ثابت ہوں گے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبل ازیں مجھے اس قبیلے سے بہت نفرت تھی لیکن جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ہے میں ان سے محبت کرنے لگا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9068]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2543، م: 2525، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن أبي زرعة
الحكم: حديث صحيح، خ: 2543، م: 2525، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن أبي زرعة
حدیث نمبر: 9069 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " نِعِمَّا لِلْمَمْلُوكِ إِذَا أَدَّى حَقَّ اللَّهِ، وَحَقَّ مَوَالِيهِ" ، قَالَ كَعْبٌ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، لَا حِسَابَ عَلَيْهِ، وَلَا عَلَى مُؤْمِنٍ مُزْهِدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ غلام کیا ہی خوب ہے جو اللہ اور اپنے آقا کے حقوق دونوں کو ادا کرتا ہوکعب نے اس پر اپنی طرف سے یہ اضافہ کیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا اس کا اور دنیا سے بےرغبت مومن کا کوئی حساب نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9069]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666
حدیث نمبر: 9070 مسند احمد
أَسْوَدُ ، إِسْرَائِيلُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اللَّهُمَّ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا مُسْلِمٍ لَعَنْتُهُ أَوْ آذَيْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَقُرْبَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں بھی ایک انسان ہوں میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں) کوئی ایذاء پہنچائی ہو یا اسے لعنت کی ہو اسے اس شخص کے لئے باعث تزکیہ و قربت بنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9070]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6361، م: 2601
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6361، م: 2601
حدیث نمبر: 9071 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ , أَنَّهُ قَالَ:" زَكَاةً وَرَحْمَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9071]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 9072 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ ، ابْنِ حُجَيْرَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" أَلَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَخْتَصِمَنَّ كُلُّ شَيْءٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , حَتَّى الشَّاتَانِ فِيمَا انْتَطَحَتَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کئے جائیں گے حتی کہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے جس نے اسے سینگ مارا ہوگا بھی قصاص دلوایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9072]
حکم دارالسلام
هذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لکن الحدیث صحيح، انظر، م: 2582
الحكم: هذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لکن الحدیث صحيح، انظر، م: 2582
حدیث نمبر: 9073 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي يُونُسَ ، أبي هريرة ، وَحَسَنٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عن أبي هريرة . ح وَحَسَنٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ، فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، يَبِيعُ قَوْمٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ , الْمُتَمَسِّكُ يَوْمَئِذٍ بِدِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ" ، أَوْ قَالَ:" عَلَى الشَّوْكِ". قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ:" خَبَطِ الشَّوْكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اہل عرب کے لئے ان فتنوں سے ہلاکت ہے جو قریب آگئے ایسے فتنے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح ہوں گے اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مومن اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مومن اور صبح کو کافر ہوگا اور اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے سے ساز و سامان کے عوض فروخت کردیا جائے گا۔ اور اس زمانے میں اپنے دین پر ثابت قدم رہنے والا مٹھی میں انگارے لینے والے شخص کی طرح ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9073]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: « المتمسك يومئذ بدينه ۔۔۔ الخ » فحسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: حديث صحيح دون قوله: « المتمسك يومئذ بدينه ۔۔۔ الخ » فحسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9074 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا عَبْدٍ جَلَدْتُهُ، أَوْ شَتَمْتُهُ، أَوْ سَبَبْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَقُرْبَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں تجھ سے یہ وعدہ لیتاہوں جس کی تو مجھ سے کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا میں نے انسان ہونے کے ناطے جس مسلمان کو کوئی اذیت پہنچائی ہو یا اسے برا بھلا کہا ہو یا اسے کوڑے مارے ہوں یا اسے لعنت کی ہو تو اس شخص کے حق میں اسے باعث رحمت و تزکیہ اور قیامت کے دن اپنی قربت کا سبب بنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9074]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6361، م: 2601، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: حديث صحيح، خ: 6361، م: 2601، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9075 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي يُونُسَ ، وَحَسَنٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عن أَبِي يُونُسَ . ح وَحَسَنٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " الْمُكْثِرُونَ هُمْ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا , وَهَكَذَا , وَهَكَذَا" . قَالَ يَحْيَى:" وَقَلِيلٌ مَا هُمْ". قَالَ حَسَنٌ: وَأَشَارَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ , وَعَنْ يَمِينِهِ , وَعَنْ يَسَارِهِ , وَمِنْ خَلْفِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہی قیامت کے دن قلت کا شکار ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9075]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 9076 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، إِنْ ظَنَّ بِي خَيْرًا فَلَهُ، وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا فَلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں اگر وہ خیر کا گمان کرتا ہے تو خیر کا معاملہ کرتا ہوں اور شر گمان کرتا ہے تو شر کا معاملہ کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9076]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7405، م: 2675، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، خ: 7405، م: 2675، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 9077 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ عَمْروٍ ، أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْروٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَ خَلْقِي؟! فَلْيَخْلُقْ ذَرَّةً أَوْ حَبَّةً" . وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" وَمَنْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو میری طرح تخلیق کرنے لگے ایسے لوگوں کو چاہئے کہ ایک ذرہ یا ایک دانہ پیدا کر کے دکھائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9077]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7559، م: 2111، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، خ: 7559، م: 2111، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 9078 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا ضَحَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ مِنْ أُضْحِيَّتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص قربانی کرے تو اسے چاہئے کہ اپنی قربانی کے جانور کا گوشت خود بھی کھائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9078]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن أبي ليلي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن أبي ليلي
حدیث نمبر: 9079 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي عَلْقَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " النَّاسُ مَعَادِنُ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا فِي الدِّينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9079]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3496، م: 2526، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، خ: 3496، م: 2526، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة